اسلامی طرز ِزندگی (14) شمس جیلانی

0
2373

اسلامی طرز ِزندگی (14) شمس جیلانی
اس سلسلہ میں اب تک ہم نے جو احادیث پیش کی ہیں اور ان پر عمل کرنا باعث ِ نجات ہے کیوں اس کیوں کے جواب میں حضرت علی کرم اللہ وجہ نے جواب دیا جو کہ بڑی حکمت سے بھر ہوا ہے ا ؟ کسی شخص نے ان سے آکر پوچھا کہ ہم آپ کے دین پر عمل کر رہے ہیں اگر یہ سب کچھ وہاں نہ ہوا تو؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ہوا تو کیا کرو گے؟ یہ ہی معاملہ حدیث کے ساتھ ہے کہ آپ نے اسے اہمیت نہ دی اور وہ صحیح ہوئی تو نقصان کس کا ہوگا۔اکثر مسلمان عمل سے پہلو تہی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم راہِ راست پر ہیں جب کے ایسا نہیں ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مومن اور کافر میں فرق یہ ہے کہ مومن نماز پڑھتا ہے کافر نماز نہیں پڑھتا ہے معنی آپ خود سمجھ لیں؟۔ سورہ ً مدثر کی آیت نمبر41 سے56تک دیکھ جا ئیں اس میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو لوگوں کے پیچھے آنکھ بند کر کے چل پڑیں گے اور شفاعت سے محروم رہ جا ئیں گے یہ ذکر ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے۔ ًاس مضمون میں ہم احادیث کو قرآن سے ثابت کر رہے ہیں۔ کیونکہ احادیث کے خلاف کچھ ملکوں کے غلط پر وپیگنڈے کی وجہ سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ساتھ ہی قرآن سے بھی سند ملنا چا ہیئے؟ ہم نے تجربے طور پر دونوں چیزوں کوایک جگہ جمع کردیا ہے۔ تاکہ وہ عمل سے فرار کا راستہ نہ اختیار کر سکیں اور اپنی عاقبت پرو پیگنڈے کی وجہ سے خراب نہ کرلیں کیونکہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کرنا ہرمسلمان پرفرض ہے؟ جبکہ یہ بھی رسول ﷺ اللہ نے ہی فرمایاکہ یہ قرآن ہے۔ یہ حدیث ِ قدسی ہے۔اور یہ میرا فرمانﷺ ہے۔اور غلط ا حادیث کے دروازے یہ فرما کر بند کردیئے ہیں کہ میں ﷺ نے جو نہیں کہا وہ میرے نام سے کوئی کہیں شامل کردے تو اپنی جگہ جہنم میں بنا لے؟ دوسرے ہمیں پرکھنے کا طریقہ بتا یا کہ یہ دیکھو کہ وہ حدیث قرآن کے مطابق ہے اگر نہیں ہے تو کہنے والے منہ پرماردو؟ اس کی روشنی میں کچھ صاحب ِ علم ِ لوگوں نے احادیث کو تو لااور پرکھا اور کچھ نے تو اپنی پوری زندگی صرف کردی پھر کہیں جا کر اپنے مجموعہ جات میں احادیث کو شامل کیا۔ دوسرے زیادہ تر احادیث کوحضور ﷺ نے خود عمل کر کے دکھا یا ان پر توکلام ہی نہیں کیا جاسکتا جیسے کہ ارکان اسلام۔ اب ہم یہاں سورہ حجرات کی آیت 11 کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں جو ہم نے تفسیر ابن ِکثیر سے لیا ہے اس آیت کی خلاف ورزی گھروں اور محافل میں بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے بچنا چا ہیئے۔ ً اے ایمان والو کو ئی جماعت کسی دوسری جماعت سے مسخرا پن نہ کرے ممکن ہے یہ اس سے بہتر ہو۔ نہ عورتیں عورتوں سے ممکن ہے کہ یہ بہتر ہوں اور کسی کو عیب نہ لگاؤ کسی کوبرے لقب نہ دو ایمان کے بعد گناہ گاری برا نام ہے جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں ()
اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے ایک حدیث شریف میں جو کہ صحیح بخاری، مسلم اور مسند احمد ابن ِ کثیر ؒ نے بیان کی ہے۔کہ تکبر لوگوں کو حق سے منہ موڑ لینے اور دوسروں کو حقیرسمجھنے کانام ہے آگے چل کر انہوں نے یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم نے اس کی وجہ یہ بتا ئی ہے کہ اللہ کے نزدیک ممکن ہے وہ بہتر ہوں۔
اس کے بعد دوسری آیت نمبر 12کا ترجمہ ہم پیش کر رہے ہیں۔جو معاشرے میں کئی د وسری برائیوں کی مذمت کر رہی ہے اے ایمان والو! بد گمانیوں سے بچویقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرواور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرد ہ بھائی کاگوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی۔اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے()
حضور ﷺ نے اس کو ایک ہی حدیث جمع فرمادیا۔جوکہ صحیح بخاری میں ہے،کہحضورﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی بچوگمان سب سے بڑی جھوٹی باتبھید نہ ٹٹولو ایک دوسرے کی ٹوہمیںننہ لگجایا کر بلکہ حسد بغض اور یک دوسرے سے منہ پھلانے سے بچوبلکہ سب مل کر اللہ کےنبندےآپس ایک دسرے بھائی بند ہوکر زندگی گزارو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توففیق عطا فر مائے۔آمین

 

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

Published on: 7 Oct 2017

ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں؟۔شمس جیلانی

حضرت اکبر الہ آبادی مرحوم جن نے کے شعر کا یہ مصرع ہے کچھ یہ ا ور قسم کی کتابوں کے لیے کہہ گئے تھے ۔ مگر یہ آج بھی فٹ ہے اس لیے ہم نے یہ عنوان کے طور پر منتخب کیا ہے۔
اس کو کہتے ہیں تھوک کر چاٹنا۔ مگر یہ لفظ ان کے کچھ اچھا نہیں لگتا جوکہ بزعمِ خود، خودکو خادمِ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور اس کی بناپر مقدس کہلا تے ہیں جبکہ ا صل میں وہ جانے کس کس کے خادم ہیں ۔ کسی کوخود کو مقد س کہلانے کے لیے جس عمل کی ضرورت ہوتی ہے اسے اسلام میں تقویٰ کہتے ہیں ۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ چاہیں باد شاہ ہوا میر ہو یا کسی ملک کا وزیرا عظم ، غرضیکہ ہو وہ جو بھی ۔ا س کا ہر قدم اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مرضی اور حضورﷺ کے ا سوہ حسنہ کے مطابق ہو، خلاف نہ ہو ؟ جو بھی ا س شرط کو پورا کر تا ہو اس کے پاس کوئی عہدہ ہو نہ ہو چونکہ قر آن کے مطابق وہ ا للہ کا ولی ہے ا للہ اس کاولی ہے۔ لہذا وہ ہر اعتبار سے مقدس سمجھے جانے ا ور کہلانے کا مستحق ہے ۔ا گر صرف کلمہ گو ہے اور عمل نہیں ہے تووہ کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کہ قرآن سے بھی ثابت ہے بہت سی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ اورحضرت علی کرم اللہ وجہ کے اس قول سے بھی ثابت ہے کہ عمل کے بغیرا یمان کوئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل کوئی چیز نہیں ہے۔

اب اس لمبی تمہید کے بعد ہم آتے ہیں س خبر کی طرف جو امریکہ کے محکمہ خارجہ طرف جاری ہو ئی اور کسی نے اس کی تردید نہیں کی وہ خبر یہ ہے کہ ا مریکہ کے محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے حال میں ہی انکشاف کیا کہ ہم نے اور سعودی عرب نے ملکر ایک مرکز قائم کیا ہے جس میں سعودی عربیہ اور ن کے زیر اثر پڑھائے جانے والے اداروں کے نصاب کو کھنگال رہے ہیں اور ان میں سے شدت پسندی کی چھان بین کر کے نصاب سے نکال رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم نے اپنے ایک کالم میں کچھ عرصہ پہلے توجہ دلائی تھی کہ اب شد ید ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک صدی سے جو شدت پسندی کالج اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جارہی ہے اس کے منبع تک تلاش کر کے پہونچا جا ئے ور وہ جہاں کہیں بھی پڑھا ئی جارہی ہے اس کو روکا جائے۔ جوا س لیے شامل نصاب کی گئی تھی کہ اس سے بدعت دور کرنے کہ نام پر ایک نئے فقہ کو جنم دیا جا ئے اور پوری دنیا کو اس نئے فقہ کا پیرو بنا کر خود تقدس مآب بن جا ئیں ۔چونکہ یہ کوششیں ایک صدی سے جاری تھیں اس کو پھیلانے والوں کے ساتھ ہر طر ح کی مالی معاونت بھی شامل تھی لہذا وہ تحریک بہت تیزی سے پھیلی اور یہ ا س کا شاخسانہ ہے کہ اب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں شدت پسند تحریکوں سے متاثر لو گ موجود ہیں ۔ چونکہ اس کے کارکن پڑھے لکھے لوگ ہیں لہذا وہ زہریلا لٹریچر ان نامور مورخین کی کتابوں تک ہی محدود نہیں جنکی اس ملک کے کارخانو میں اب تک تلخیص ہو چکی ہے اور کسی نے ان سے پوچھا نہیں کہ دوسروں کی کتابوں میں ردو بدل کرنے کاا آپ کو کس نے حق دیا ہے جن سے سوک میڈیا بھی روز ما لا مال ہورہی ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ اسے نہ صرف امریکن قیادت نے ضروری سمجھا بلکہ دوسرے ملک بھی اس زہریلے لٹریچر کو اپنے اپنے یہاں تلاش کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہمیں ایک خبر چین سے بھی ملی ہے کہ ا نہوں نے بھی تمام اسلامی کتابیں مسجدوں اور لائبریریوں سے لے لی ہیں کہ ہم ا ن کوسینسر کر کے پھر واپس کر یں گے۔ حالانکہ یہ کام کرنے سے پہلے دنیا کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم جو یہ بیج بو رہے ہیں۔ اس کا پھل کتنا کڑوا ہوگا۔ جبکہ قرآن میں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ بار بار یہ فرما رہا ہے اور لوگوں کو متنبہ کر رہا ہے۔ کہ ً جو کچھ کوئی کرتا ہے اپنے لیے کرتاہےً اور ا نسان کی مرضی پر چھوڑدیا ہے کہ وہ اپنے لیے برائی پسند کرتا ہے یابھلائی؟

SHARE

LEAVE A REPLY