کرتارپورہ کی راہداری کے اُس پار امن مخالفت کیوں۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

1
81

 بدھ اٹھایئس نومبر دو ہزار اٹھارہ کی دوپہر وہ تاریخی مراحل مکمل ہو ہی گئے جو کبھی کسی نے نہیں سوچے تھے ۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سکھ یاتریوں کی اپنی متبرک عبادتگاہ مین آمد و رفت کے لیے کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ تقریب میں پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجودہ، اعلیٰ وفاقی و صوبائی حکام اور پاکستان میں موجود سکھ یاتریوں کے علاوہ بھارت سے آنے والے مہمانوں میں ریاست پنجاب کے وزیرِ بلدیات اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن گرجیت سنگھ اوجلا اور کئی سینئر بھارتی صحافی شامل تھے۔جبکہ بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج اور بھارت پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ امریندر سنگھ کو بھی دعوت دی تھی لیکن دونوں رہنماؤں نے شرکت نہیں کی ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کی تفصیل میں جایئں ،پہلے “ کرتارپورہ “ کے جغرافیہ سے واقف ہوتے ہیں ۔

پاکستان کے ضلع نارروال کے سرحدی علاقے کرتار پور میں واقع سکھوں کادربار صاحب گرودوارہ ہے جو بھارتی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور نارووال سے پہنچنے کے لئے ایک سو تیس کلو میٹر اور لاہور سے تقریباً تین گھنٹے لگتے ہیں ۔یہ وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کا سنہ 1539 میں جب انتقال ہوا تو روایت ہے کہ مقامی مسلمان، سکھ اور ہندو آبادی میں ان کی آخری رسومات کے حوالے سے تفرقہ پڑ گیا۔دونوں اپنی اپنی مذہبی روایات کے مطابق ان کی میت کو دفنانا اور آڑہتی کو جلانا چاہتے تھے۔ آگے کیا ہوا، اس پر آرا مختلف ہیں، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ بابا گُرو نانک کی میت چادر کے نیچے سے غائب ہو گئی اور اس کی جگہ مقامی افراد کو محض پھول پڑے ملے۔ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک حصہ مسلمانوں نے اپنی روایت کے مطابق دفنایا تو پاس ہی دوسرا ہندوؤں اور سکھوں نے احتراق کیا۔ لگ بھگ اسی مقام پر آج گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی عمارت کھڑی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے دنیا میں بسنے والے تقریباً تین کروڑ سکھوں کی اکثریت گذشتہ 71 برس سے گردوارے کی زیارت سے محروم ہیں۔ یوں تو بھارت میں آباد سکھ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتارپور گردوارے تک با آسانی رسائی دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں جب نوجوت سنگھ سدھو نے رواں سال پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔اپنے اس دورے کے دوران نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کی درخواست کی تھی۔ جس پر بھارت نے کریڈٹ لے جانے کی بہت کوشش کی جبکہ دوسری طرف نوجوت سنگھ سدھو تقریبا تمام ہندوؤں کی نفرت کا نشانہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ آخر کار بھارتی کابینہ نے بھی سرحد کے آر پار سکھ یاتریوں کے لیے راہداری کی تعمیر کی منظوری دے دی اور پاکستان نے اپنی جانب سے آج اس راہداری کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ کر امن و دوستی کا پرچم لہرا دیا ہے جس کے لئے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ بجا طور پر تعریف وتحسین کی مستحق ہے۔

یہ راہداری بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گورداسپور میں واقع ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کی حدود میں واقع گردوارہ دربار صاحب تک تعمیر کی جائے گی ۔دونوں ممالک اپنی اپنی حدود میں واقع راہداری کے حصے خود تعمیر کریں گے اور امکان ہے کہ یہ راہداری 2019ء کے آخر تک تعمیر ہوجائے گی۔اس وقت گردوارہ دربار صاحب جانے کے خواہش مند بھارتی سکھ یاتریوں کو واہگہ کے راستے سرحد پار کرنا پڑتی ہے جو گردوارے سے 130 کلومیٹر دور ہے۔

اس وقت بھارت کا رویہ حیران کن حد تک مضحکہ خیز ہے ۔۔بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج نے کہا ہے کہ کرتارپورراہداری کھلنےکا مطلب یہ نہیں کہ دوطرفہ مذاکرات شروع ہوجائیں گے یا مسلہ کشمیر حل ہو جائے گا ۔۔ یہاں تک کہہ دیا کہ جن وزراء نے تقریب میں شرکت کی ہے وہ سرکاری نہیں بلکہ زاتی حثیت سے کی ہے یعنی اب مزید نفرتوں کا کھیل رچایا جائے گا ۔ بھارتی میڈیا یہ بھی بھول چکا ہے کہ راہدری کی منظوری نریندر مودی اور اس کی کابینہ نے دی تھی اور ہر چینل پر ایک ہی چہروں کو مہمان کر کے یہی اگلوا رہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا ۔۔ جب تک پاکستان بھارت میں دہشتگرد کارروائیاں نہیں روکےگا،مذاکرات نہیں ہونگے۔

کوئی بھاری وزیروں مشیروں سے  پوچھے کہ جب مذاکرات نہیں ہونگے تو جھگڑے اور مسائل کیسے ختم ہونگے ۔ جبکہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ اکہتر سال پرانا کرتارپورہ کی راہداری کا مسلہ حل ہو سکتا ہے تو مسلہ کشمیر کیوں نہیں ہو سکتا ۔ پر لگتا ایسے ہے کہ جیسے بھارت امن اور حل چاہتا ہی نہیں ہے بلکہ مسائل میں الجھا کر کشمیر ، پاکستان اور خود اپنے لئے مسائل بڑھا رہا ہے ۔ مزید یہ کہ آج بھارت نے سارک اجلاس میں بھی شرکت کرنے سے منع کر دیا ہے ۔ یاد رہے انیسیویں سارک اجلاس جو دو ہزار سولہ میں ہونی تھی وہ بھارت کے بائیکاٹ کے باعث منسوخ کر دی گئی تھی، کیونکہ افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی شرکت سے معذرت کر لی تھی۔

یوں لگ رہا ہے اس بار بھی اگر امن اور دوستی کا پیغام آگے نہیں بڑھ پایا تو اس کے لئے صرف اور صرف بھارت قصور وار ہوگا۔ ایسے حالات میں عمران خان کا کہنا سچ لگتا ہے کہ “ دونوں ملک “ نیوکلیئر پاور “ ہیں ،ایک دوسرے سے لڑائی سے دونوں کا نقصان ہو گا کوئی ایک نہیں جیتے گا

کاش امن پسند پاکستانیوں اور بھارتیوں کا نفرت زدہ بھارتیوں کو یہ پیغام مل جائے کہ اکہتر برس کی نفرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ “ کرتارپورہ راہداری “ بن گئی ۔۔سوچیئے جب صلح اور امن ہوگا تو کیا کیا ترقیاں نا ہونگی ۔۔۔۔۔۔۔ مسلہ کشمیر کیسے حل ناہو  گا ۔اب لگتا یہی ہے کہ بھارت میں پاکستان دشمن لابی کو یہ اپنی شکست نظر آئی ہے اور وہ اس موقع کو بھی ضائع کرنا چاہتے ہیں!

بھارت کے عوام بلکہ امن پسند عوام کا اب فرض ہے کہ وہ جنگی ذہن کے لوگوں کا احتساب کریں تا کہ دونوں ہمسایہ ملک مل کر امن سے رہ سکیں

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY