برطانیہ اورطالبان نمائندوں کے درمیان افغانستان سے مزید برطانوی شہریوں اور افغانوں کے انخلا سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کے خصوصی نمائندے سائمن گاس نےدوحا کا دورہ کیا ہے اور وہ سینئر طالبان نمائندوں سے ملاقات کررہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ برطانوی نمائندے کے دورے کا مقصد برطانوی شہریوں اور برطانوی حکومت کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے محفوظ انخلا سے متعلق بات چیت کرنا ہے۔
…………..
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امریکا کے افغانستان آنے کی ایک وجہ یہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹنا بھی تھا۔
کابل میں تقریب سے خطاب میں افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں امریکا کی 20 سال قبل آمد سے متعلق موقف ظاہر کردیا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا ایشیائی ممالک میں دراندازی کے لیے مضبوط فوجی اڈہ بنانے افغانستان آیا تھا۔ امریکا کے افغانستان آنے کی ایک وجہ یہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹنا بھی تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکا سمیت دنیا کے تمام ممالک ہمیں پہچانیں، ہم دنیا کا حصہ ہیں، یقین دلاتے ہیں افغانستان کی سرزمین کسی ملک یا کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دنیا کے لیے ہمارا پیغام امن ہے، دنیا کو ایک بار پھر ہمارے بارے میں سوچنا چاہیے۔
طالبان ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ملک میں معاشی مسائل ہیں، قومی تاجروں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کریں گے، ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور ملک کی تعمیر کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امارت اسلامی ایمانداری کی بنیاد پر دنیا سے اچھے سیاسی اور معاشی تعلقات چاہتی ہے، دنیا کو ایسے باہمی تعلقات کی بنیاد پر ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ نئی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرے گی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو افغانستان کی خودمختاری پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری باہمی تعاون اور مفادات پر مبنی ہونی چاہیے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے عالمی برادری کی ذمہ داری مکمل نہیں ہوجاتی۔
افغانستان میں ہزاروں افغان شہریوں کو طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے نے افغان عوام سے تعاون کے لیے عالمی برادری کی ذمہ داریاں بتائی ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں، صحافیوں، خواتین رہنماؤں کا افغانستان سے محفوظ انخلا یقینی بنایا جائے۔
ایمنسٹی نے کہا کہ سرحدیں کھلی رکھنے اور انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے پر طالبان سے بات جاری رکھی جائے۔ یو این سیکیورٹی کونسل انسانی حقوق قوانین کی پاسداری کے لیے طالبان کو پابند کرے اور عالمی برادری افغان مہاجرین کو ان کے نئے مسکن میں بسانے کے لئے تعاون فراہم کرے۔
ایمنسٹی نے کہا کہ طالبان کو پابند کیا جائے کہ سیاسی و سماجی معاملات کے لیے خواتین کو سازگار ماحول دیں اور افغان خواتین کے تحفظ کے لیے بھی طالبان کو پابند کیا جائے۔













