پھر یوں ہوا کہ ایک رات عالم رویا میں اسے ایک آواز سنائی دی۔ ” تمھاری پاک خواہش۔۔۔تمھارا گدھا پوری کرے گا۔ بس اس پر بیٹھ جاو۔” وہ جاگا، تو بے حد حیران تھا لیکن اب اس حکم کو ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ وہ جب اپنے گدھے کے قریب گیا تو اسے اس کا پیٹ کھلتا اور کشادہ ہوتا دکھائی دیا۔ وہ اس کے اندر بیٹھ گیا تو پیٹ بند ہو گیا۔ گدھا چل پڑا۔ کچھ دیر بعد جب گدھا رکا اور اس کا پیٹ کھلا تو مکہ مکرمہ سامنے تھا۔ تو دوستو! اس کی خفیہ اور سب سے بڑی خواہش حج بیت اللہ تھی۔۔۔وہ پوری ہو گئی۔ حج کے بعد وہ واپس آیا اور پہلے کی طرح زندگی گزارتا رہا۔ اسے مرے ہوے اب برسوں بیت چکے ہیں۔ وہ صالح مرد آج بھی جنت میں آرام سے رہ رہا ہو گا۔ اس زمین پر ایک مشکل اور صبر آزما زندگی کے بعد وہ حوروں کے ساتھ ہے۔ وہ حوریں جب کے چھاتیوں کی خوبصورتی کا تم لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان کی چھاتیاں اتنی بڑی ہیں کہ ایک کوا اگر سار دن اڑتا رہے تو شام تک وہ حور کی چھاتیوں کی ایک چوچی سے دوسری چوچی تک نہ پہنچ سکے گا۔ میں چشم تصور میں دیکھ رہا ھوں کہ وہ اتنے ٹھنڈے باغوں میں گھوم رہا ہے جہاں انگوروں کے خوشے ہیں۔ جنت کےانگور کا دانہ اتنا بڑا ہو گا کہ تمھاری بھوک بھی مٹاے گا پیاس بھی اور اگر تم چاہو تو اس دانے کے پانی سے غسل بھی کر لو گے۔ جونہی کہانی ختم ہوئی تو محویت میں غرق سامعین نے لمبے سانس لئے اور آہیں بھرتے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ جبکہ ہم اپنے کیمپ میں واپس چلے گئے۔ ہم نے فیصلہ کیا ملاں کو رات کے کھانے پر مدعو کریں۔ ہمارا پیامبر فورا ہی پلٹ آیا اور بتایا کہ ملاں ہمارے ساتھ تب ہی کھانے میں شامل ہو اگر کھانے میں گوشت شامل ہوا۔
اس نے اپنا تعارف ملاں باریراے کے نام سے کرایا اور ہمارے لئے زبردست مہمان ساتھی ثابت ہوا۔ وہ ہر تعصب سے پاک انسان تھا۔ جب ہم اس کے تھوڑا گھل مل گئے تو اس کے ساتھ شام والے خطاب پر بات چھیڑ دی۔ میں نے اس سے پوچھا۔ ” کیا آپ خطبے میں بیان کی گئی گدھے کی کہانی میں یقین رکھتے ہیں؟”
اس نے ترنت جواب دیا۔”نہیں!”
“کیا آپ ان بڑی بڑی چھاتیوں والی حوروں اور اتنے بڑے حجم کے انگوروں میں یقین رکھتے ہیں؟”
“نہیں!”
“پھر آپ یہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟” ملاں باریراے ہنسنے لگا۔
” صاحب! آپ سمجھ نہیں رہے۔ یہ کہانیاں بلکل ایک مسکن مرہم جیسی ہیں۔ جن کا مطلب روح کو شفا دینا ہے، یا سخت گرمی میں پانی کے ایک کٹورے میں برف کی ڈلی ڈالنے جیسی ہیں۔ کیا آپ برف کے ٹکڑے کو جھوٹ کہیں گے؟” اس نے بات جاری رکھی۔ ” صاحب! غور کیجئے! ان لوگوں کے پاس زندگی میں ہے ہی کیا؟ جونہی سخت موسم گرما شروع ہو گا تو ان کے چشمے خشک ہو جائیں گے۔ زندگی تلخ ہو جاے گی۔ خوراک کے ہر وقت قلت رہتی ہے۔ اب میں انھیں تصوراتی برف دیتا ہوں تو وہ کچھ عرصہ سکون میں گزار لیتے ہیں۔۔۔خوابوں میں وہ سب مزے لیتے ہیں جو ان کی زندگی میں نہیں۔ آپ انھیں جھوٹ سمجھ لیں تو آپ کی مرضی۔”
“ہم سمجھ گئے لیکن ہیں یہ سب جھوٹ ہی!”
ہم کوئی ایک ہفتہ اس کیمپ میں رہے اور تب ہمیں ملاں باریراے کا ان قبائل میں ایک اور کردار سامنے آیا۔ سبھی قبائلی اس کے پاس چوری کے کیس، شادیوں، طلاقوں، جائدادوں کی تقسیم حتاکہ قتل کے معاملات بھی لے کر آتے اور وہ ان کو کچھ نہ کچھ حل پیش کر دیتا۔ وہ بارڈر کے سبھی قبائل میں گھوما ہوا انسان تھا اور سبھی میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔جب ہم ایک ہفتہ بعد روانہ ہونے لگے تو اس نے ہمیں بتایا کہ وہ بھی چند روز بعد اس بستی سے چلا جاے گا۔ اب یہ بات بذات خود عجیب تھی۔ ایک آدمی کسی بستی میں اچھا مقام حاصل کر لے تو وہ ساری عمر گزارنا پسند کرتا ہے۔۔۔لیکن وہ تو تھا ہی سیلانی۔
وہاں سے آنے کے کچھ عرصہ بعد ہم اس ملاں کو بلکل بھول گئے۔ توقع تھی کہ دوبارہ اس سے کبھی ملاقات نہ ہو گی۔۔۔لیکن ایک غیر معمولی صورت حال میں وہ دوبارہ سے میری زندگی میں آ دھمکا۔ ہم نے اپنے فوجی دستوں کو ایک ماہ کی سخت ترین پیدل مارچ کی مشقوں سے گزارا تھا۔ اب فیصلہ ہوا کہ انھیں کچھ آرام دیا جاے۔ تو پہلی رات کے لئے چند بکرے ذبح کر کے ایک اچھی دعوت کا سوچا۔ ہمارے کمانڈنگ آفیسر نے قریبی قصبے میں پیغام بھیجا تو چند روز بعد کچھ ناچنے گانے والی لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل طائفہ ہمارے قلعے میں آن پہنچا۔ اس شام تھوڑی تفریح کے بعد ہم افسران تو اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہلڑ بازی کی آوازیں آئیں اور پھر رائفل کے چند فائر ہوے۔ ہم اندھیرے میں باہر بھاگے۔ ہمارے علم میں آیا کہ ایک سپاہی نے ایک ناچنے والی کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس طائفے کا ایک آدمی اس لڑکی کی چیخ و پکار پر اسے بچانے آیا۔ جواب میں اس سپاہی نے اس آدمی پر فائر کئے اور ایک گولی اس کے کندھے میں جا لگی۔ جب اگلی صبح میں ہسپتال میں اس زخمی کی عیادت کو گیا تو اس طائفہ مینجر کو دیکھ کر میری سٹی گم ہو گئی۔۔۔حیرت کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا مجھ پر۔۔۔وہ کوئی اور نہیں بلکہ ملاں باریراے تھا۔ وہ اس واقعہ سے ہرگز پرہشان نہ تھا۔۔۔اسے پریشانی تھی تو صرف اس لڑکی کی۔ اس نے بتایا وہ اس سے قبل بھی طائفے کے ساتھ کئی بار ایسی صورت حالات سے گزر چکا تھا۔ اسے فکر تھی کہ لڑکی کو کوئی زک نہ پہنچنا چاہیے۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ وہ لڑکی باقی طائفہ سمیت قصبے میں پہنچاے جا چکے تھے۔ یہ سن کر اس کا موڈ خوشگوار ہو گیا۔ پھر وہ میرے ساتھ قلعے میں کسی ممکنہ ملازمت کے حصول پر گفتگو کرنے لگ گیا۔ میں نے اسے بتایا کہ اب یہ تقریبا ناممکن ھو گا۔ کیونکہ فوجیوں میں کل رات کے واقعہ کے بعد اسکی شخصیت مشکوک ہو گئی تھی۔
ملاں باریراے سے ملنے میں روز اسپتال جاتا رہا۔ وہ ایک متلون مزاج اور متنوع الخیال شخص ثابت ہوا۔ کبھی وہ شہری زندگی کے فوائد پر سیر حاصل دلائل دیتا تو کبھی شہر میں رہنے کے نقصانات پر بولتا۔ کبھی وہ سیلانیت کو افضل قرار دیتا تو کبھی ایک جگہ جم کر رہنے کی خواہش کرتا۔ پھر ایک روز کہنے لگا کہ اسے شمال میں گئے ہوے مدت گزر گئی تھی اب وہ بقیہ عمر وہاں گزارے گا۔ ایک روز میں حسب معمول اس کی عیادت کو گیا۔۔۔وہ اسپتال سے بنا اجازت لئے غائب ہو چکا تھا۔ مجھے دکھ تو ہوا لیکن میں اس کی فطرت کو سمجھ چکا تھا۔ اسے لاحاصلی اور زندگی میں کوئی بلند مقام نہ پا سکنے کا روگ لگ چکا تھا۔ وہ کسی ایک جگہ اور ایک شخص کے ساتھ بندھ کر نہیں رہ سکتا تھا۔
دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔ سرحدوں پر بلکل خاموشی چھا گئی۔ اتنی خاموشی کے ہمارے مواصلاتی رابطوں کی تاریں بھی اب نہ کٹ رہی تھیں۔ ہم اس خاموشی پر پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئے۔ اگر اس محاذ پر جنگ چھڑ جاتی تو برٹش گورنمنٹ کے لئے مشکلات بڑہ جاتیں۔
ایک روز بلکل شام کے وقت مجھے ایک پیغام ملا کہ کوئی اجنبی مجھے ملنے آیا ہے۔ اس کے پاس کسی کا اہم پیغام ہے اور وہ خفیہ پیغام صرف مجھے ہی سنانے کا پابند تھا۔ خیر ہم نے خوب اطمینان اور انتظامات کر کے قلعے کا دروازہ کھولا۔ پیغامبر نے سواے آنکھوں کے اپنا سارا چہرہ پگڑی کے پلو سے چھپایا ہوا تھا۔ جب میں اور وہ کمرے میں اکیلے رہ گئے تو اس نے چہرے سے ڈھاٹا ہٹایا۔ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ وہ ہماری ہی پلٹون سے سال پہلے بھاگا ہوا وزیریوں کا قبائلی تھا۔۔۔اب بے خوف میرے سامنے بیٹھا تھا۔ دوسرا حیرت کا بڑا جھٹکا تب لگا جب اس نے مجھے بتایا کہ اسے ملاں باریراے نے بھیجا تھا۔ اس نے کہا۔ “میرے دوست کپتان صاحب کو بتادو کہ بہت بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔۔۔بلکہ خطرہ آپ کی طرف بڑھ رہا ہے تو آپ ہوشیار ہو جائیں۔”
“خطرہ کہاں سے آ رہا ہے اور ملاں باریراے کو کہاں سے علم ہوا ہے؟”
“خطرہ جرمنوں سے آ رہا ھے جو تمھارے فرنگی کے دشمن ہیں۔ وہ ایک مدت سے قبائلیوں میں رقوم اور اسلحہ کی ترسیل بذریعہ ملاں باریراے کر رہے ہیں۔۔۔اور قبائلی سرداروں سے وفاداری کی بعیت بھی لے رہے ہیں۔ وہ میدانوں پر حملہ حملہ کر کے بے اندازہ دولت اور خوبصورت عورتوں کے خواب بھی بتا رہے ہیں۔ فرنگی کے خلاف جہاد کے لئے اب صورت حال پوری طرح موافق ہے۔ اس بارڈر پر تمھارے لئے مسلہ کبھی بھی شروع ہو جاے گا۔”
“اگر ملاں باریراے اگر مجھے دوست سمجھتا ھے تو پھر وہ جرمنوں کی ایجنٹی کیوں کر رہا ہے؟”
“کپتان صاحب! آپ سمجھ کیوں نہیں رہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو اس کی جگہ کوئی اور ہوتا۔ اب اس کی صورت میں آپ کی ذات کو بچانے کے لئے ایک دوست تو ہے ناں!”
میں نے کچھ دیر سوچا اور پیغامبر سے کہا ملاں باریراے کا میری طرف سے بہت بہت شکریہ ادا کرنا اور میں جلد ہی اس سے ملاقات بھی کروں گا۔ پیغامبر نے جواب دیا۔ ” میٹنگ تو فی الحال ممکن نہیں لیکن میں آپ کے ساتھ رابطے میں رہوں گا۔”
میں پیغامبر کے ساتھ گیٹ تک گیا۔ اسے باہر نکالا اور اپنے کرنل کو جگانے بھاگا۔ میرا کرنل ایک بوڑھا آئرش تھا۔ جب اسکی یونٹ انگلینڈ واپس چلی گئی تو اس نے اپنا تبادلہ سرحدی سکاوٹوں میں کروا لیا۔ وھ سرحدی معاملات کا ماہر انسان تھا۔ اسے اس علاقہ سے بے پناہ محبت تھی۔۔۔اور پچھلے بیس سال میں ایک بار بھی اپنے وطن واپس نہ گیا تھا۔ میری بات توجہ سے سن کر اس نے مرکزی کمانڈ کو ٹیلی گرام بھیجنے کا فیصلہ کیا ساتھ ہی دیگر خفیہ ذرائع سے اس خبر کی تصدیق یا تردید حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
اگلے روز شام کو ہی خبر کی تصدیق ہو گئی۔ خاصہ داروں کی پوری ایک کمپنی بمعہ اسلحہ بارود بھگوڑا ہو گئی۔۔۔جو سبھی کے سبھی مقامی تھے۔ اس سے اگلے دن مقامی سرداروں نے اپنا چھ ماہی وظیفہ لینے آنا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی نہ ایا۔ کچھ نے اپنے غیر اہم سے رشتہ دار اپنی نمائندگی کے لئے بھیج دئیے۔ سارے قبائل اور ان کے سردار ہمارے دشمن کے حلیف بن چکے تھے۔ ہم نے اگلے دو دن مقامی ملیشیا کو نہتا کرنے میں گزارے باقی ماندہ فوجیوں کے ساتھ اہم پوسٹوں کے سوا باقی پوسٹیں خالی کرنی شروع کر دیں۔
اگلی شام ملاں باریراے کا وہی پیغامبر مجھ تک آیا۔ ملاں نے پیغام بھیجا تھا کہ سبھی مذہبی جنون میں مبتلا ہو کر جرمنوں کے اسلحہ اور پیسے سے جہاد شروع کرنے والے ہیں۔ ان کی نفرت عروج پر ہے۔ مذہبی جوش اور میدانوں میں لوٹ مار کے تصور نے ان کی عقلیں ماوف کر دی ہیں اور وہ تم سب کے خلاف ہیں۔ وہ کہتا ہے ایک بار جنگ شروع ہو گئی پھر رکنی نہیں۔ اس سے بچنے کا ایک ہی موقعہ اور طریقہ ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیا طریقہ ہے؟ رقم کے ساتھ رقم کا مقابلہ۔ میں نے پوچھا کتنی رقم؟ اس نے بتایا ملاں جی کہتے ہیں پچاس ہزار غیر ملکی طلائی سکے۔ اگر رقم وقت پر نہ پہنچائی گئی تو پھر بہت دیر ہو جاے گی۔۔۔رقم لوٹ لی جاے گی اور پھر قبائلی جلد ہی آپ کے قلعوں پر قابض ہونگے۔
میں نے پیغامبر کو وہیں انتظار کا کہہ کر کرنل کے پاس دوڑ لگائی۔ وہ میری بات سن کر مسکرایا۔ اس نے کہا مجھے علم تھا ایسا ہی ہو گا۔ اس لئے میں نے حکومت سے پہلے ہی اجازت طلب کر رکھی تھی۔ تم صبح ہی رقم لے کر ملاں باریراے سے ملو۔
ملاں صاحب کا فرمان تھا۔ رقم سامنے دی جائے گی۔
پچاس ہزار سونے کے سکے کوئی کم رقم نہ تھی۔ وہ چار خچروں پر لادی گئی۔ اگلے روز میں اپنے محافظی دستے کے ساتھ گھڑ سوار ہو کر رقم لے کر چل پڑا۔ میری پارٹی بڑی شاندار لگ رہی تھی۔ دوپہر تک ہم باغیوں کے کیمپ تک پہنچ گئے۔ ملاں باریراے ہمارا منتظر تھا۔ کوئی بیس سے زائد اس کے نائبین جنگ اس کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھے تھے۔۔۔ان میں زیادہ تر چہرے وہ تھے جو حال ہی میں فوج سے بھاگے تھے۔ پورا علاقہ جا بہ جا خیمہ گاہوں سے اٹا پڑا تھا۔ ہزاروں قبائلی کیل کانٹے سے لیس نظر آ رہے تھے۔۔۔اور قلعوں پر چڑھائی کے منصوبے بن رہے تھے۔ ملاں باریراے نے میرے پہنچنے پر شناسائی کا ہلکا سا بھی تاثر نہ دیا۔۔۔بلا شبہ وہ بہت بڑا اداکار تھا۔
جونہی دوپہر کا کھانا کھا لیا گیا تو ملاں نے قبائل کے اہم سرداروں کو جمع کر لیا اور میری موجودگی میں ان سے خطاب شروع کر دیا۔ خاص باتیں دو تھیں۔ اس نے بغاوت کے دو مدے سامنے رکھے۔ ایک مذہب دوسرا رقم۔ اس نے کہا اگر فرنگیوں کا مذہب کفر ہے تو پھر جرمن بھی ان کے ہم مذہب ہیں۔ اب رہ گئی رقم کی بات تو جرمنوں نے اب تک وعدے ہی کئے ہیں۔۔۔گو کہ بہت قلیل رقوم بھی بھیجی ہیں۔۔۔لیکن ان کی طرف سے اب تک وعدے پورے ہونے کا امکان نہیں۔۔۔کیوں کہ وہ بہت دور ہیں۔۔۔جبکہ فرنگی سرکار آج تک وعدوں کی پاسدار رہی ہے۔ اب آپ کو جرمن وعدوں کے برعکس سونے کے خالص پچاس ہزار سکے مل جانے ہیں تو جنگ کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔
مجھے لگا ملاں باریراے ان قبائلی عمائدین سے ان مدوں پر پہلے سے ہی راہ ہموار کر چکا تھا۔۔۔اس لئے سب ہی فورا مان گئے۔ قبائلیوں نے لوٹے ہوے ہتھیار فورا واپس کر دیے اور گھروں کو جانا شروع ہو گئے۔ میں نے بلا تاخیر جمع شدہ ہتھیار قلعے کی طرف روانہ کر دئے۔ملاں نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا کہ میں اس کے قریب ہو جاوں۔ اس نے منہ پرے ہی رکھتے ہوے بلکل نچلی آواز میں پوچھا۔ اب آپ اس نتیجہ پر خوش ہیں؟ میں نے جواب دیا۔۔۔مجھے نہیں پتہ کے مجھے اس پر خوش بھی ہونا چاھئیے یا نہیں۔ قبائلیوں کو رقم مل گئی ہے۔۔۔ممکن ہے ہفتے بعد وہ جرمنوں سے اس رقم سے دگنا رقم پر سودا کر کے پھر جہاد شروع کر دیں۔ کیا پھر ہمیں اس سے بھی دگنا رقم پر سودا کرنا پڑے گا؟
ملاں باریراے کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اگر میں نے انھیں رقم دے دی تو یہ طاقت پکڑ جائیں گے۔ آج رات میں اور آپ رقم لے کر غائب ہو جائیں گے۔ اس کا مطلب سمجھ رہے ہیں اپ؟
اس طرح وہ نہ صرف رقم سے محروم رہ جائیں گے بلکہ اپنے مذہبی پیشوا سے بھی۔ وہ میرے متعلق شکوک میں پڑ جائیں گے۔ آپس میں ان کا دوبارہ اتحاد نا ممکن ہو جاے گا۔ اس طرح آپ کی رقم بھی بچ جاے گی اور جان بھی۔
میں پوری طرح سمجھ گیا کہ اس کا منصوبہ شاندار تھا۔۔۔میں نے پوچھا ملاں تمھارا کیا ہو گا؟ مناسب دولت تم اپنے لئے الگ کر لو۔ تاکہ تم آئندہ زندگی آسائش سے گزار سکو۔
اس کا جواب تھا۔ “میرے دوست تم سے دولت بٹورنا خنزیر کا گوشت کھانے کے مترادف ہو گا۔ بلکہ اس پر اب بات بھی نہ کرنا۔ مجھے ھمیشہ رزق مل ہی جاتا ہے۔”
میں نے کہا۔” میرے دوست اب تم ان لوگوں میں پہلے کی طرح نہیں رہ سکو گے۔ تم پر امانت میں خیانت کا الزام لگ جاے گا۔ سبھی سمجھیں گے تم سونا لے کر بھاگ گئے۔”
اس نے جواب دیا۔” یہ بات اھم نہیں ہے۔ میں ہمیشہ ایک نہ ایک مصیبت میں مبتلا ہی رہتا ہوں۔ میں جانتا ہوں تمھارے جیسا کوئی نہ کوئی دوست میری مدد کر ہی دے گا۔”
اس کے بعد اس نے اس موضوع پر بات کی ہی نہیں۔ پھر آدھی رات تک قلعے کی طرف بھاگنے کے وقت تک وہ خاموش رہا۔
مجھے یہ بھی علم نہ ہو سکا کہ رات کو قلعے کی طرف جاتے ہوے وہ رات کے اندھیرے میں کہاں اور کب غائب ہو گیا۔ یقیننا وہ خاموشی سے اپنے ٹٹو پر سوار اندھیرے میں کسی جانب روانہ ہو گیا۔ یہ اس کا انداز تھا کہ وہ بنا ہنگامہ کئے اور بنا خدا حافظ کہے غائب ہو جایا کرتا تھا۔”
ایک وقفے کے بعد سکاوٹوں کا وہ بوڑھا افسر دوبارہ بولا۔ ” اے بھٹیانی قبیلے کے سردار تم نے ساری کہانی سن لی؟ کیا تم اس انسان نے اندر موجود ایک عظمت و بزرگی سے متاثر ہوے؟ اس کے متعلق غلط الفاظ بولنا ظلم عظیم ہے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے میں اس کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے آتا ہوں۔”
بھٹیانی سردار نے کچھ دور سوچا اور بولا۔” اے اجنبی دوست! ملاں باریراے ہم قبائلیوں کے نزدیک ھمیشہ ایک بے ایمان بدمعاش اور دھوکے باز رہے گا۔ وھ خائن تھا۔ وہ ہمارا سونا کھا گیا۔ اس نے اگر سونا واپس کرنا بھی تھا تو ہماری مرضی سے کرتا۔ اس کی مرضی بے ہمیں بہت دکھ دیا۔ اس کے جرم کی شدت میں کبھی کمی نہیں آ سکتی۔۔۔بھلے اس نے وہ سب تمھاری دوستی میں کیا۔ اب ہم اس کے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے۔” اس نے آفیسر کا بازو پکڑا اور بولا۔ “آو صاحب! جانے سے پہلے ایک پیالی قہوہ پیتے جاو۔”
غلام حسین غازی
جاری ہے













