تبرہ اور اتباع بذریعہ قرآن۔۔۔
قرآن میں لکھا ہے کہ قیامت میں مقتدی اپنے پیروں پر تبرہ کرینگے جن کی وہ زندگی بھر اتباع کرتے رہے اور کہیں گے یااللہ ایک بار موقع دے زندگی دے ہم زندگی بھر ان پر تبرہ کرتے رہیں گے۔کن پر ان پر جن کی وہ آج تک پیروی کرتے رہے۔اب دیکھتے ہیں قیامت ہے بہتر فرقے اپنے اپنے اماموں پیروں کے پیچھے کھڑے ہیں اور انکے پیر ان سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں کہہ رہے ہیں ہمیں اپنی پڑی ہے آپ کے لئے کیا کریں اور انکے پیروکار رو رہے ہیں اور اپنے پیروں پر لعنت کر رہے ہیں۔ وہاں ایک فرقے کے پیروکار بھی ہونگے جن کے آگے حسن و حسین علی و مہدی زماں کھڑے ہونگے۔اب میں سب کلمہ گویوں سے سوال کرتا ہوں بولو ہے کسی کی جرات جو ان ہستیوں پر تبرہ کرے اور وہ بھی میدان حشر میں۔میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ جب ان کے مقتدی شفاعت مانگیں گے تو کیا یہ منہ پھیر کر کہیں گے کہ تمھاری شفاعت کیا کریں ہمیں تو اپنی پڑی ہے۔
اب جو سوالوں کے جواب آپ کے ضمیر اور ذہن میں آئے ہیں انھیں قرآن کی روشنی میں دیکھیں اور سوچیں کہیں آپ ان کے پیرو کار تو نہیں جن پر بقول قرآن ان کے مقتدی تبرہ کرینگے۔
ابھی بھی وقت ہے خاندان نبوت، شافعیہ میدان حشر اور شہزادگان جنت کی اتباع میں آ جائیں ورنہ تبرہ تو آپ کرینگے مگر پھر بھی دوزخ کا ایندھن بنیں گے تب آپکا تبرہ کرنا بھی آپکے کام نہ آئیگا۔یہ تبرہ آپ کو مرنے سے قبل تبرے کے حقداروں پر کرنا ہے اور انکو پیر بنانا ہے انکی اتباع کرنی ہے جو قیامت کو آپکی جنت اور شفاعت کے ضامن ہوں۔













