ایک شامی اہلکار نے بتایا ہے کہ مشرقی حلب سے حکومت مخالف باغیوں کی منظم انداز میں انخلاء کا آپریشن شروع ہو گیا ہے۔ باغیوں کے علاوہ زخمیوں اور بیماروں کی منتقلی بھی ممکن بنائی جائے گی۔ اس مناسبت سے انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ بسوں کو مشرقی حلب میں پہنچا دیا گیا تا کہ سویلین محفوظ علاقے کی جانب روانہ ہو سکیں۔ ان بسوں کے علاوہ شدید زخمیوں اور بیمار افراد کے لیے کم از کم دس ایمبولینسیں بھی موجود ہیں۔ اُدھر لبنان کی انتہا پسند تنظیم حزب اللہ کے عسکری ونگ نے بھی بتایا ہے کہ گزشتہ رات میں فائربندی کے بعد مسلح باغیوں کا انخلا شروع ہو جائے گا۔
وائس آف امریکہ کے مطابق شامی باغیوں نے بدھ دیر گئے کہا کہ مشرقی حلب سے عام شہریوں اور جنگ کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کے انخلا کے لیے ایک نیا سمجھوتہ طے پا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے پناہ گزین آئندہ چند گھنٹوں کے بعد نکلنا شروع ہو جائیں گے۔
حلب میں باغیوں کے ذرائع اور اقوام متحدہ کے کارکنوں نے نئی جنگ بندی کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے تاہم شام میں سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی سمجھوتے سے آگاہ نہیں ہیں۔
اگر شہر سےانخلا شروع ہو جاتا ہے تو حلب میں مزاحمت کا خاتمہ صدر بشاالاسد کے لیے ایک بڑی فتح ہو گی۔
اس سے پہلے لڑائی روکنے کے لیے منگل کو طے پانے والا سمجھوتہ، محصور علاقے سے انخلا سے قبل ہی ناکام ہو گیا تھا اور پہلے شہر میں ایک بار بھی لڑائی شروع ہو گئی۔
جنگ زدہ مشرقی حلب میں سردی اور بھوک کا شکار عام شہری بحفاظت شہر سے نکلنے کی امید پر جمع ہوئے۔
اس علاقے میں سرگرم ایک کارکن محمد الخطاب جس سے ایک نامہ نگار نے رابطہ قائم کیا نے کہا کہ”بمباری جاری ہے، کوئی بھی حرکت نہیں کر سکتا ہے۔ ہر کوئی چھپا ہوا اور خوف زدہ ہے۔”
“زخمی اور مارے جانے والے گلیوں میں پڑے ہیں۔کسی میں بھی یہ حوصلہ نہیں ہے کہ وہ لاشوں کو نکالنے کی کوشش کرے۔”
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید راعد الحسن نے کہا کہ بدھ کو دوبارہ شروع ہونے والے لڑائی خوفناک ہے اور شامی فورسز اور ان کے اتحادیوں کی ان علاقوں پر شدید بمباری شروع کرنا ”امکانی طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔”
زید نے شامی حکومت سے حلب شہر کے مکینوں کو طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسا کرنا ضروری ہے۔
برطانیہ میں قائم تنظیم ’سیرئین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ نے کہا کہ باغیوں اور سرکاری کنٹرول والے علاقوں میں “ہر محاذ پر شدید لڑائی ہو رہی تھی۔” یہ اطلاعات ملی کہ دونوں فریقین کا جانی نقصان ہوا۔













