پنجابی زبان کو زو معنی کہہ کر اور ہر جملے میں سے لغو مفہوم نکال کر اس زبان کی تحقیر کرنے والوں سے کوئی یہ پوچھے کہ بر صغیرکی کس زبان میں سب سےزیادہ فحش ناول شایع ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ جنسی بے راہ روی والے مضامین پر مبنی شاعری کس زبان میں کی گئی ہے ۔۔۔
جواب یقیننا یہی ہو گا کہ اردو لیکن اس کے باوجود یہ دو نمبر دانشور لوگ اردو زبان کے مہذب اور شائستہ ہونے پر اصرار کریں گے اور دلیل یہ ہو گی کہ یہ بازاری ناول اور عطار کے لونڈے والی شاعری کچھ لوگوں کا انفرادی فعل ہے اور اس کی وجہ سے اردو کی شان و شوکت میں کوئی کمی نہیں کی جا سکتی۔
ان لوگوں کے سامنے جب یہی جواز پنجابی کے حق میں پیش کیا جائے اور کہا جائے کہ کمرشل پنجابی فلموں میں پنجاب کی ثقافت کو غلط انداز میں پیش کرنے والوں اور پنجابی کے جملوں سے اپنی سوچ کے معیار کے مطابق لچر مفہوم نکالنے والوں کی وجہ سے پنجابی کو زو معنی کہنا اور کمتر سمجھنا مناسب نہیں تو یہ زبان دراز متعصب لوگ اس دلیل کو قبول کرنے سے صاف انکاری ہو جاتے ہیں۔













