امریکہ کا ترکی کے خلاف انتہائی سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور

0
706

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر اس کے خلاف انتہائی سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر خزانہ اسٹیون منوشن کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کرنے والے ہیں تاکہ ترکی کو شام میں مزید مہم جوئی سے روکا جا سکے۔

منوشن کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس بات پر تشویش ہے کہ ترک فوج ممکنہ طور پر شہری آبادی، نسلی یا مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

اسٹیون منوشن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ترکی کو داعش کے کسی ایک جنگجو کو بھی فرار ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

منوشن کے مطابق وزارتِ خزانہ محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع کے ساتھ مل کر صورتِ حال کا جائزہ لے رہا ہے۔ جس کے بعد صدر کو سفارش کی جائے گی کہ کس مرحلے پر پابندیاں عائد کرنا ضروری ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مالیاتی اداروں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ محتاط رہیں کسی بھی وقت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ امریکہ کو یہ اعتماد کیوں ہے کہ اس اعلان پر ترکی پیچھے ہٹ جائے گا؟ اس پر اسٹیون منوشن کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ امریکہ کے تحفظات کے بعد ترک حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔

منوشن نے مزید کہا کہ یہ بہت سخت پابندیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہم توقع کرتے ہیں اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن اگر ہم چاہیں تو ترکی کی معیشت کو ٹھپ کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ترکی نے شمالی شام میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ترکی شمالی شام میں وائی پی جے ملیشیا کے خلاف فوج کارروائی کر کے یہاں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے۔ ترکی وائی پی جے ملیشیا کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے جو اس کے بقول ترکی میں کردستان تحریک کی حمایت کرتی ہے۔

ترکی کی یہ بھی خواہش ہے کہ شمالی شام کے 32 کلو میٹر کے علاقے میں ایک محفوظ زون قائم کیا جائے۔ ترکی یہاں لاکھوں شامی مہاجرین کو آباد کرنا چاہتا ہے جو شام میں گزشتہ آٹھ سال سے جاری جنگ کے بعد ترکی پہنچے تھے۔

صدر ٹرمپ نے شمالی شام سے امریکی فوج کے انخلاء کا حکم دیا تھا جس کے بعد ترکی نے فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح کیا تھا کہ اگر ترکی نے 32 کلومیٹر کے علاقے سے تجاوز کی کوشش کی تو اس کی معیشت کو تباہ کر دیا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY