کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ؟
ریڈیو پاکستان کے پینشنرز کو 27 دن گزرنے کے بعد ماہ فروری کی پینشن مل گئی لیکن سب کو نہیں۔۔معلوم نہیں باقی کو پینشن کب ملے گی؟ دوسری طرف مارچ کا مہینہ بھی اختتام پزیر ہے اور اصولا” یکم اپریل کو مارچ کی پینشن بھی due ہو جائے گی اور پھر چونکہ عیدالفطر بھی اپریل کے آخری ہفتے میں ہو گی اس طرح اپریل کی پینشن بھی عید سے پہلے مل جانی چاہئیے لیکن ابھی تو فروری کی سب کو نہیں ملی، مارچ اپریل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔۔

موجودہ حکومت کے ایک سال میں منہگائی %100 بڑھ چکی ہے۔اب رمضان کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ایسی صورتحال میں ریڈیو پاکستان کے 4000 سے زیادہ پینشنرز جن مالی مشکلات کا شکار ہیں اس کا اندازہ کوئی اور نہیں لگا سکتا۔۔۔ان میں اکثریت بزرگ اور بیمار ہیں انکی آدھی پینشن تو دواؤں پر خرچ ہو جاتی ہے کیونکہ دوائیں بھی کئی گنا منہگی ہو گئی ہیں اور پینشنرز خوراک کی بجائے دواؤں پر گزارا کر رہے ہیں۔

ریڈیو پاکستان ان چار ہزار سے زیادہ پینشنرز کو(بڑھاپے،بیماریوں اور پریشان حالی کے باوجود) پینشن کی وصولی کے لئے ہر ماہ جس قدر بھاگ دوڑ اور کوششیں کرنا پڑتی ہیں وہ یہی لوگ جانتے ہیں لیکن حکومت(زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق) کوئی توجہ ہی نہیں دے رہی۔۔۔

وزیر اطلاعات، وزیر خزانہ اور وزیراعظم تک یہ صورتحال پہنچانے کےباوجود کوئی حل نہیں نکالا جارہا حالانکہ پینشن کا IMFمعاہدے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ حکومت نے پینشن پاکستانی روپوں میں دینی ہوتی ہے نہ کے ڈالرز میں۔حکومت جان لے کہ ریڈیو پاکستان کے یہ 4000 سے زیادہ پینشنرز ہی ووٹرز نہیں ہیں بلکہ 4000 خاندانوں کا معاملہ ہے کیونکہ اکثر پینشنرز کے ساتھ بیوی، سپیشل بیٹا/بیٹی، ماں باپ، متعلقہ/بیوہ بیٹی بھی ان کی ذمہ داری ہے مزید یہ کہ اکثر کرایے پر رہتے ہیں۔ اس لئے حکومت فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے۔۔

موجودہ ۔معاشی حالات کے باعث وزراء کے بغیر تنخواہ کے کام کرنے کے حکومتی اعلان کے باوجود کل ہی وفاقی وزراء کی تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی کے لئے تقریبا” 5 کروڑ کی سپلیمنٹری گرانٹ جاری کردی گئی جبکہ بیرون ملک دوروں اور ٹریولنگ الاؤنس کی مد میں بھی 4 کروڑ سے زیادہ جاری کردیے۔

کیا حکومت ریڈیو پاکستان کے ان 4000 سے زیادہ پینشنرز کی پینشن اور دیگر واجبات کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہیں کرسکتی؟؟؟؟

گلزار عثمانی

SHARE

LEAVE A REPLY