پنجاب حکومت نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو والد سے ملنے کی اجازت دیدی جسکے بعد انکو چوبیس گھنٹے کے پیرول پر کوٹ لکھپت سے رہا کر کے ملاقات کے لیئے سروسز ہسپتال پہنچایا گیا
میاں نواز شریف کی حالت ایک بار پھر خراب ہو گئی ہے اور انکے سفید سیل انتیس ہزار سے سات ہزار پر آ گئی ہے
Earlier News
ذرائع کے مطابق مریم نواز شریف جو کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں کو پنجاب حکومت نے اپنے والد میاں محمد نواز شریف سے ملنے کی اجازت دیدی ہے، کوٹ لکھپت جیل سے جیل حکام مریم نواز کو لے کر سروسز ہسپتال پہنچ گئے، باپ بیٹی کے درمیان ملاقات ایک گھنٹہ تک جاری رہے گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پنجاب حکومت نے مریم نواز کی نوازشریف سے ملاقات کرانے کی اجازت دیدی، مریم نواز کیساتھ جیل حکام بھی آئے ہیں، مریم نواز کے بچوں دادی چچا کو ملاقات کی بھی اجازت ہو گی۔
اس سے قبل لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی اپنے والد سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور یوسف عباس کو نیب کی ٹیم نے احتساب عدالت میں پیش کیا، مریم نواز نے سماعت کے دوران نواز شریف سے ملاقات کی درخواست کی۔
مریم نواز نے عدالت سے استدعا کی کہ میں جیل واپسی پر اپنے والد کو دیکھنا چاہتی ہوں اگر عدالت ایک گھنٹے کی مہلت دے تو میں ہسپتال میں اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کر لوں گی۔













