سنگین غداری کیس: حکومت نے استغاثہ کی ٹیم کو فارغ کردیا

0
628

موجودہ حکومت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مقدمے میں سرکاری پراسیکیوٹرز کی پوری ٹیم کو ہی فارغ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ٹیم مسلم لیگ(ن) کی سابق حکومت میں تشکیل دی گئی تھی جو مشرف کے خلاف آئین معطل کرنے اور اور 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کرنے کے خلاف کیس کی پیروی کررہی تھی۔

چنانچہ جب خصوصی عدالت نے سابق فوجی آمر کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا تو اسے بتایا گیا کہ حکومت نے پراسیکیوشن ٹیم کو معطل کردیا ہے۔

تاہم عدالت کو پوری ٹیم معطل کرنے کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سنگین غداری کیس: وزارت قانون کو پرویز مشرف کے نئے وکیل کے اخراجات ادا کرنے کی ہدایت

ٹیم کی معطلی کی اطلاع نے پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر طارق حسن کو بھی حیران کردیا جنہوں نے عدالت میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی اس بات کا علم ہوا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ستمبر 2014 میں تمام تر شواہد اور تحریری دلائل بھی عدالت میں پیش کیے جاچکے ہیں اور اس مرحلے پر کہ جب مقدمہ منطقی انجام کی طرف گامزن ہے کچھ خاص کارروائی باقی نہیں۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق حسن نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پراسیکیوشن نے بہترین کام کیا اور اس کیس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ جنرل مشرف متعدد مرتبہ بلانے کے باجود کرمنل پروسیجر کورٹ کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروانے نہیں آئے تو عدالت دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

تاہم خصوصی عدالت نے وکیل دفاع رضا بشیر کو 19 نومبر کو ہونے والی سماعت میں پیش ہونے کی اجازت دے دی جنہیں عدالت کے احکامات کی روشنی میں مقدمے میں معاونت کے لیے وزارت قانون نے مقرر کیا تھا۔

بعدازاں عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو اس بات کی وضاحت کے لیے طلب کرتے ہوئے، کہ کس قانون کے تحت پراسیکیوشن ٹیم معطل کی گئی، سماعت ملتوی کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY