پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی غیر قانونی طور پر دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم مسترد کر دی۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تحاریک اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدوں خصوصاً شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور بھارت کا کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے غیر قانونی اور بے وقعت ہیں اور مقبوضہ وادی کے عوام کے حق خودارادیت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خاص طور پر رواں سال 5 اگست کے بھارت کے اعلان کردہ ان اقدامات کو واضح کرے گا جو مقبوضہ کشمیر کو 9 لاکھ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں ابک بڑی جیل میں تبدیل کرکے کشمیر کے عوام پر بندوق کی طاقت سے لاگو کیے گئے ہیں۔












