سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں مہنگائی کی شرح دگنی ہوگئی ،حکومتی اخراجات میں کمی کے بجائے 1ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔

ن لیگی رہنمائوں نے پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی 10 ماہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت میں پٹرول کی قیمت میں 23، ڈیزل 24 اور ایل پی جی کی قیمت میں8فیصد،بجلی کی قیمت میں 20 فیصد اور گیس کی قیمت میں 143 فیصد تک اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ 9ماہ میں قرضے 28 ہزار ارب سے تجاوز کر گئے ، مہنگائی دگنی ہو گئی ،حکومتی اخراجات میں 1ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔

ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہاکہ ثابت ہوا کہ حکومتی اخراجات میں بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے سے کمی نہیں آسکتی ۔

ان کا کہناتھاکہ نو ماہ میں قرضے 28 ہزار ارب سے تجاوز کر گئے ،ملکی تاریخ میں اتنے کم عرصے میں افراط زر میں اتنا اضافہ کبھی نہیں ہوا۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہاکہ عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں سچ بولنے کی کوئی عادت نہیں ، اورہمیں ان سے سچ کی توقع بھی نہیں۔

انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی قیمت خرید پر شدید اثر پڑتا ہے، آج کے اضافے سے پہلے پٹرول کی قیمت ميں 23 فیصد اضافہ ہوچکا جبکہ عالمی منڈی میں قیمت وہی ہے۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ ایل پی جی کی قیمت میں 8 فیصد اضافہ ہوچکا، چینی کی قیمت میں 30 فیصد ، مٹن میں 10 فیصد اضافہ ہوا ،مونگ کی دال کی قیمت میں 36 فیصد اضافہ ہوگیا ۔

شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے بڑھ جائے گی ،اس سال حکومتی آمدن میں 400سے 500 ارب کا شارٹ فال ہے ، حکومت کے ریوینیو وہی ہیں جو پچھلے مالی سال میں تھے ۔

ان کا کہناتھاکہ حکومت کے جاری اخراجات بڑھ کر7 ہزار ارب روپے تک جاپہنچے ہیں ،ایک سال میں قرضے میں 5 ہزار ارب کے لگ بھگ اضافہ ہوگا، اگر یہ حکومت 5سال رہی تو یہ قرضے 50 ہزار ارب تک ہوجائیں گے ۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہاکہ یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہے ،آج ملک میں گروتھ کم ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY