Tag: غزل، زرقا مفتی
قبر تک ہو گئی مری روشن، قنبر عارفی
منقبت
ہو گئی تب سے زندگی روشن
جب سے دل میں ہوئے علی روشن
جب وہ روشن ضمیر آیا تو
روشنی اور ہو گئی روشن
اس کے خیمے میں...
اشکوں میں اب لہو کو بہایا نہ جائے گا۔زرقا مفتی
اشکوں میں اب لہو کو بہایا نہ جائے گا
دل میں کوئی ملال بھی لایا نہ جائے گا
وہ لاکھ منّتیں کرے جایا نہ جائے گا
اب...









