منقبت
ہو گئی تب سے زندگی روشن
جب سے دل میں ہوئے علی روشن
جب وہ روشن ضمیر آیا تو
روشنی اور ہو گئی روشن
اس کے خیمے میں اک چراغ بجھا
ہو گئے سارے آدمی روشن
چاند چہرے سے چاندنی پھوٹی
ہو گئی دل کی ہر کلی روشن
مثل سورج وہ ساتھ ساتھ رہا
قبر تک ہو گئی مری روشن
اس کے ہونے سے تابناک ہے حسن
اس کے ہونے سے دلکشی روشن
تجھ سے اے عشق اولیں کے جواز
عاشقوں میں ہے عاشقی روشن
گر گیا اس میں مرتضٰی کا چراغ
فکر قنبر میں آگہی روشن
قنبر عارفی













