قبر تک ہو گئی مری روشن، قنبر عارفی

0
1036

منقبت
ہو گئی تب سے زندگی روشن
جب سے دل میں ہوئے علی روشن
جب وہ روشن ضمیر آیا تو
روشنی اور ہو گئی روشن
اس کے خیمے میں اک چراغ بجھا
ہو گئے سارے آدمی روشن
چاند چہرے سے چاندنی پھوٹی
ہو گئی دل کی ہر کلی روشن
مثل سورج وہ ساتھ ساتھ رہا
قبر تک ہو گئی مری روشن
اس کے ہونے سے تابناک ہے حسن
اس کے ہونے سے دلکشی روشن
تجھ سے اے عشق اولیں کے جواز
عاشقوں میں ہے عاشقی روشن
گر گیا اس میں مرتضٰی کا چراغ
فکر قنبر میں آگہی روشن
قنبر عارفی

SHARE

LEAVE A REPLY