اشکوں میں اب لہو کو بہایا نہ جائے گا۔زرقا مفتی

0
151

اشکوں میں اب لہو کو بہایا نہ جائے گا
دل میں کوئی ملال بھی لایا نہ جائے گا

وہ لاکھ منّتیں کرے جایا نہ جائے گا
اب جان کر فریب تو کھایا نہ جائے گا

ہر اک ستم کا حال سنایا نہ جائے گا
ہر زخم تو جگر کا دکھایا نہ جائے گا

تو روٹھ کر گیا تو منایا نہ جائے گا
پھر خواب میں بھی تجھ کو بلایا نہ جائے گا

مانا ترے غرور کو میں توڑ نہ سکی
اپنی انا کو بھی تو ہرایا نہ جائے گا

ہم تو تری نظر میں گنہگار ہی رہے
ہم سے کوئی ثواب کمایا نہ جائے گا

تم سے کوئی پرانا تعلّق نہیں رہا
رشتہ کوئی نیا بھی بنایا نہ جائے گا

جو جھوٹ سے بنیں تھیں عمارات ڈھے گئیں
اب ریت کا محل بھی بنایا نہ جائے گا

آنکھوں پہ گر شکوک نے جالا سا بن دیا
پردہ وہ نفرتوں کا ہٹایا نہ جائے گا

دائم رہے بہار مہکتا رہے چمن
مہمان اب خزاں کو بنایا نہ جائے گا

SHARE

LEAVE A REPLY