جنس ذدہ معاشرہ جس معاشرہ میں جنس (سیکس) پر پابندی ہوگی وہ معاشرہ جنسیات میں ڈھل جائے گا کوئی ایسا معاشرہ جو جنس کا مخالف ہو. جو جنس کو معاشرتی برائی سمجھتا ہو. اس کا مزاج جنسیاتی ہو جائے گا کیونکہ وہ اس کی تنویم میں آجائے گا جس چیز پر وہ تنقید کرتا رہا ہے، اس کی تمام تر توجہ اسی پر مرکوز ہو جائے گی۔
جو معاشرہ پاکیزگی کی جتنی اشاعت کرے گا اس میں پیدا ہونے والے افراد اتنی ہی گندی ذہنیت اور خواہشات کے اسیر ہوں گے. اوشو
انتخاب،عزیر رشید












