پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع تھر پارکر میں ایک چھوٹا سا شہر مٹھی آباد ہے ۔ اس صحرائی شہر کی مٹی ںسے محبتوں ،خلوص اور بھائی چارہ کی ایسی مہک آٹھ رہی ہے کہ مذہبی تعصبات ، فرقہ پرستی اور نفرتوں کے اس دور میں میں یقین ہی نہیں آتا کہ کہیں ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟
محبت ایسا دریا ہے کہ
بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا
محبتوں اور میل ملاپ کا یہ سفر صرف ویڈیوز یا سیلفیاں بنوانے تک محدود نہیں نسل در نسل سے جاری وساری ہے
یہاں کے ہندو ہر سال محرم میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر عزاداری میں حصہ لیتے ہیں٫ غم حسین مناتے ہیں، بڑی عقیدت سے ہر سال محرم پر الم تیار کرتے ہیں جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں ، عزاداروں کے لیے سبیلیں لگاتے اور کھانا تقسیم کرتے ہیں
مٹھی کے ہندو ماہ محرم کے احترام میں خوشی یا شادی کی کوئی بھی تقریب اس مہینے میں نہیں کرتے
یہاں کی 80 فی صد آبادی ہندو ہے محرم کے پہلے دس روز امام بارگاہوں میں نیاز اور لنگر کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس میں یہاں کے کاروباری ہندوؤں کا بڑا حصّہ ہوتا ہے
ایشور لعل جو یہاں کے رہائشی ہیں انکا کہنا ہے کہ سندھ میں امام بارگاہوں کے دروازے ہندوؤں کے لیے کبھی ہند نہیں ہوتے عورتیں جلوسوں کا انتظار کرتی ہیں اور منتیں اٹھاتی ہیں اور دھاگے باندھتی ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ
ہم صبح وشام امام بارگاہوں میں حاضری دیتے رہتے ہیں دس محرم تک کالا لباس پہنتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے
10 محرم کے جلوس کی قیادت حسینی ہندو کرتے ہیں اور ہائے حسین کی صدائیں لگاتے اور ماتم کرتے ہوئے پورے شہر کا چکر لگاتے ہیں اس موقع پر شہر میں جگہ جگہ نوحے اور مرثیوں کی آوازیں گونج رہی ہوتی ہیں
جلوس میں شامل سوگواران حسین کے لیے ہندو خود اپنے ہا تھوں سے دیگیں بنانے کو قابل فخر سمجھتے ہیں کھانا بنانے کی جگہ کو خوب صاف ستھرا کیا جاتا ہے
شام غریباں کی مجالس میں شامل ہوتے ہیں اور امام عالی مقام کے خاندان کے مصائب پر ان کی آنکھوں سے آنسوں رواں رہتے ہیں ۔ یہاں ہندو ذاکر مجالس پڑہتے ہیں
ظاہر ہے کہ محبت کا جواب محبت ہی ہوتی ہے ۔مٹھی کے مسلمان بھی ہندوؤں کی دل آزاری کے خیال سے گائے ذبح نہیں کرتے اور ہندو روزہ رکھتے ہیں ۔ دوران رمضان ہندو ، مسلمانوں کو کھا نے پینے کی اشیاء فراہم کرتے ہیں عید اور دیوالی کے موقع پر دونوں ہی مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں
مذہبی بنیاد پر یہاں کبھی کوئی فساد نہیں ہوا
یہاں مسجد ، مندر ،امام بارگاہ سب کا مساوی احترام کیا جا تا ہے ۔
جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے
مٹھی کے ایک مسلمان کے مطابق
جب ہندو اپنے مندر میں عبادت میں مصروف ہوں تو لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی جاتی اور مندر کی گھنٹیاں نماز کے اوقات میں نہیں بجائی جا تیں وہ جگہ جہاں مسلمانوں کی آبادی صرف 20 فی صد ہے وہاں کوئی بھی رمضان میں سر عام کچھ نہیں کھا تا اور گاؤں کا ہر فرد ہولی میں حصہ لیتا ہے
یہ مذہبی رواداری سندھ کے صوفیانہ کلچر کا قابلِ تقلید نمو نہ ہے
مٹھی شہر کی شرح خواندگی بھلے بڑے شہروں سے بہت زیا دہ نہیں ہے
مگر وہاں کے باسیوں کی شرحِ مذہبی رواداری اور شرحِ انسانیت بہت بلند ہے
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں حسینی ہندو مکیش ماما نے اپنے صحن میں جلوس کے لیے ذوالجناح کو سجا تے ہوے کہا
ہمارا حسین سے عشق ہے ، محبت ہے حسین صرف مسلمانوں کے رہنما نہیں تھے وہ محبت کا پیغام لے کر آئے تھے انسا نیت کا پیغام لے کر آئے تھے
مذہبی رواداری کی یہ بہترین مثال دور دراز واقع وسیع وعریض صحرا کے ایک چھوٹے سے شہر مٹھی کی ہے جو محرم کے اس موقع پر مسلم دنیا بلکہ پوری دنیا کے کے لیے امن وآشتی کا ایک خاموش پیغام ہے
عفت سلطانہ













