فروری دوہزار بیس میں جب میں پاکستان گیا تو کینال ویوز کے قریب ایک مارکیٹ میں ایک فقیر بڑی مترنم آواز میں گا رہا تھا،،،،،،،،،،،،،،،،،، ہمارا پرانا پاکستان ہمیں واپس لوٹا دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں کا ہجوم اسکے گرد تھا اور کچھ من چلے تالیاں بجا کر اسکی لے کا ساتھ دے رہے تھے
میں سوچنے لگا کہ تبدیلی کے نام پر اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکا شاید پاکستان کا خواب دیکھنے والے نے اس خواب کو تعبیر دینے والے نے اور اسکی آزادی کا پہلا اعلان لاہور ریڈیو سے کرنے والے سوچا بھی نہیں ہو گا
آج جب یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو پٹرولیم انکوائری کی رپورٹ سامنے آئی ہے جسکے مطابق ایک ویٹرنری یعنی ڈنگر ڈاکٹر کو پٹرولیم کا ڈی جی لگایا گیا تھا۔ ڈی جی تو اور بھی بہت اداروں میں ایسے لگائے گئے ہوئے ہیں جو خود تو ڈانگر ڈاکٹر نہیں لیکن وہ قومی اداروں کو ڈنگروں کا طویلہ اور جان فشانی سے کام کرنے والے کارکنوں کو ڈنگر ہی سمجھتے ہیں۔ ایسے میں اب میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ علامہ اقبال نے اس پاکستان کا خواب بالکل نہیں دیکھا تھا قائد اعظم نے قطعی ایسے پاکستان کی آزادی کے لیئے طویل جدوجہد نہیں کی تھی اور میرے والد والد مرحوم مصطفی علی ہمدانی لاہور ریڈیو سے ہرگز ایسے پاکستان کی آزادی کا اعلان نہیں کیا تھا۔
وہ جو پاکستان تھا اسے اب کہنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تھا پاکستان،،، اور اسی طرح وہ جو ریڈیو پاکستان تھا اسکے بارے میں اب کہنا پڑتا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،، ایک تھا ریڈیو پاکستان۔۔۔۔
ابلاغ اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس دور میں یہ حکومت اور اسکی شطرنج کے مہرے اس قومی ورثے کے حامل ادارے کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں اسے دیکھ کر کینال پارک لاہور کی مارکیٹ میں گانے والا فقیر یاد آ رہا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،ہمارا پرانا پاکستان ہمیں واپس لوٹا دو
انصاف کے نام پر انصاف کا قتل کرنے والی اس حکومت کے فواد چوہدری سے ش بلی فراڈ تک ہر کوئی اس قومی ادارے کی شناخت ختم کرنے کے در پے ہے۔ باقی لوگوں کا تو غم نہیں دُکھ اس ش بلی کا ہے کہ جسکی رگوں میں ریڈیو کا لہو دوڑ رہا ہے کہ اسکے والد احمد فراز نے اسی ریڈیو کی ملازمت کی کمائی سے اسے پڑھایا لکھایا اسی دن کے لیئے کہ یہ اس ادارے کی زمینوں پر قبضے کریں اور کارکنوں کو بے روزگار کریں
آئیے تازہ ترین شاخسانے کی طرف اور آگے بڑھنے سے پہلے ذیل میں اس حکم نامے کا عکس دیکھ لیجئے جو ایک ہزار فیصد اصلی ہے

دنیا بھر میں بالعموم اور انڈیا میں بالخصوص ریڈیو اسٹیشنوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارھی ہے لیکن پاکستان میں تبدیلی سرکار نے ہر شعبے کو ریورس گئیر میں ڈال دیا ہے ۔ اس سال بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ریڈیو ٹرانسمیٹرز کی تعداد 48 تک جاپہنچی ہے لیکن پاکستان کی نوید سنانے والے ادارے ریڈیو پاکستان کو بند کرنے کا اھتمام کیا جارہا ہے ۔ یہ آئندہ چند دنوں میں منعقد ہونے والے پی بی سی بورڈ آف گورنرز کا ایجنڈا ہے جس کا نکتہ نمبر 5 ملاحظہ ہو جس کے تحت سینکڑوں آسامیوں کو ختم اور قریبا” 20 ریڈیو اسٹیشنوں کی بساط لپیٹی جارہی ہے ۔ پہلے گزشتہ دس سال سے ریڈیو پاکستان پر قابض انفارمیشن گروپ کے افسران نے ان خالی آسامیوں پر بھرتی روکے رکھی پھر ریڈیو کے بجٹ کو اپنی نااھلی کی نظر کیا اور اب حکومتی ترجیحات کی آڑ لے کر ریڈیو کی زمینیں، آسامیاں اور اسٹیشن سب اونے پونے بیچنے کے ساتھ ساتھ بند کرنے کی کاروائی شروع کردی ہے ۔ دنیا بھر میں قومی مفاد کو تحفظ دینے اور اپنا پیغام عالمی سطح پر اجاگر کرنے والے اداروں کو توسیعی اور ترقی دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں تبدیلی سرکار نے اداروں کو بند کرکے اپنے قومی مفاد کے تحفظ کی ایسی ترکیب نکالی ہے جس کی نہ کوئی مثال ہے اور نہ ہو گی ۔
یہ بے مثال کام اس وقت ہورہا ہے جب ایک اھم ادارے نے ملک کے طول و عرض میں 80 سے زائد ریڈیو ٹرانسمیٹرز کی تنصیب مکمل کرلی ہے ۔ یہ اقدام نجی شعبے میں قائم اشتہارات کی آس پر زندہ لگ بھگ 200 ریڈیو اسٹیشنوں کے لیئے زہر قاتل ثابت ہوا ہے اور ان میں سے اکثر ریڈیو اسٹیشن موت کے گھاٹ اترنے والے ہیں۔ یہ خالصتا” کاروباری واردات قومی مفاد کے تحفظ یا کسی پراپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیئے نہیں کی گئ بلکہ اس کا واحد مقصد منافع کمانا ہے ۔ دوسری جانب جس ادارے نے پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک ملکی وحدت کو قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ اب اپنی بقاء کی جنگ لڑ رھا ہے ۔ ریڈیو پاکستان کی تباہی کے زمے دار اس کے ملازمین نہیں بلکہ یہاں بھیجے گئے بڑے بڑے افسر تھے اور ہیں ۔ ان لوگوں نے کبھی بھی اس ادارے کی اھمیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ ریڈیو کو صرف اپنی ترقی کے لیئے ایک سیڑھی سمجھا ۔ اب بھی ریڈیو پاکستان کا گلا گھونٹ کر کسی حکومتی وعدے یا ارادے کی تکمیل نہیں بلکہ اس ادارے کے قیمتی اثاثوں کی بندر بانٹ ہے ۔ ایسے اقدامات پاکستان کو ابلاغ عامہ کے میدان میں تنہا کرنے کے مترادف ہیں ۔ اب اگر یہ سازش کامیاب ہوگئی تو پھر خدانخواستہ دنیا بھر میں وطن عزیز کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہو گا اور پاکستان کے دشمن اس مکروہ کامیابی پر خوشی کے شادیانے بجائیں گے ۔
واقعی اب یہی صورت حال ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تھا ریڈیو پاکستان
صفدر ھمدانی













واہ سر صفدر بہترین 👌 معیاری تحریر اپنا پرانا پاکس
پرانے پاکستان میں سر صفدر اور ان کے والد جیسے براڈ کاسٹر بھی ہوتے تھے اپنا پرانا پاکستان ردی پیپر والے سے واپس لے لو جسے کوڑیوں کے مول بیچ دیا گیا اور بیچا جا رہا ہے