کیا پاکستان کے ڈیفا لٹ کرجانے کے خطرات کس چھٹ سکتے ہیں ؟۔انور عباس انور‎

1
797

کئی ہفتوں سے پاکستان کے ڈیفالٹ کرجانےکی خبریں گردش میں ہیں۔ پہلے اطلاعات آئیں کہ عالمی سرمایہ کاروں کو سکوک بانڈ کی ادائیگی نہ کی گئی تو ڈیفالٹ کر جائیں گے ایسی اطلاعات کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔

وطن عزیز اس وقت جس صورتحال سے گزر رہا ہے اسکا تقاصا یہی ہے کہ ہم سب ( حکومت اور اپوزیشن ) ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیں تاکہ وطن عزیز معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی بدترین سطح پر نہ پہنچ پائے، یہ صورتحال پی ڈی ایم کے لیے سود مند ہوگی اور نہ ہی حقیقی آزادی کے علمبردا روں کےلیے نفع بخش ثابت ہوگی۔ یہ راستہ سراسر گھاٹے کا سودا ہوگا۔
ان حالات اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں کہلائے گا جب کہ حقائق یہی ہیں ہمای سیاسی جما عتوں کی لڑائی ملک میں سیاسی ، سماجی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ہر سیاسی پارٹی اپنے اپنے سیاسی مفادات کو مد نظر رکھے ہوئے ہے۔۔اس گھبیر اور سنگبن صورتحال سے تب ہی نکلنے کوشش کامیابی سے ہمکنا ہوگی جب سیاسی قائدین اپنی ذات سے باہر نکل کر ملکی مفادات کو ترجیح د یں گے۔

یقیننا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ کہنا امید افزاء ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کریگا لیکن ہماری عوام کا مزاج یہ ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے کی گئی باتوں پر اعتبار کم کرتی ہے اور اپوزیشن کے بیانات کو اہمیت دیتی ہے۔واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی ادائیگی کی تاریخ 3 سے 5 دسمبر ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سکوک کی ادائیگیاں مؤخر نہیں کریں گے کیوں کہ ایسا کرنے سے عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ وزیر خزانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک دوست ملک سے تین ارب ڈالرز چند روز تک مل جائیں گے۔

اس بحرانی صورتحال میں سابق وزیر خزانہ و تحریک انصاف کے راہنما شوکت ترین کے اس بیان نے قوم کو حوصلہ عطا کیا ہے جس میں انہوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان کی تائید کرتے ہوئےکہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کئ طرف نہیں جا رہا، انہوں یہ بھی کہا کہ وہ ا فراتفری میں کوئی غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کریں گے۔

اس ضمن میں ہمارے برادر اسلامی ملک اور ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونے والے سعودی عرب سے بھی یہ خوشخبری چکی ہے کہ اس نے نومبر 2021 میں دیئے گے تین ارب الرز ڈالرز کی مدت میں مذید ایک سال بڑھا دی ہے،

لیکن حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں برتنی چاہیئے کہ ہمیں معاشی و سیاسی عدم استحکام سے بچانے کے لیے بارڈر پار سے کسی نے نہیں آنا اور نہ ہی ملائکہ آسمان سے اتریں گے۔ یہ بھاری پتھر ہمیں ہی اٹھانا ہوگا بات جس قدر جلد ہماری سمجھ میں آجائے اتنا ہی ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مقررہ تاریخ سے3 دن پہلے ہی سکوک بانڈز کی ادائیگی کردی ہے جبکہ پاکستان نے یہ کیوں کہ ادائیگی کی آخری تاریخ 5 دسمبر تھی لیکن حکومت نےادائیگی 2 دسمبر ہی کو کردی۔

یہ سب باتیں اور دعوے اپنی جگہ درست مگر یہ مسلے کا حل نہیں، ہمیں اس مسلے مستقل اور دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔ دوست ممالک ک طرف سے ہمارے زرمبادلہ لے زخائر بڑھانے کے لیے سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس ڈالرز ایک مدت تک رکھنا ہماری مدددضرور ہے مگر ہماری پریشان برقرار رہتی ہے۔ میڈیا رہورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے بتایا ہے کہ ” ہم پاکستانی ہر سال طاقتور لوگوں کو سترہ ارب ڈالرز کی مراعات فراہم کرتے ہیں” جبکہ پاکستان کے کمزور طبقہ پر بے تحاشا ٹیکسز لگا کر ان کے لیے سانس لینا مشکل بنا دیا گیا ہے۔

ہمارے حکمرا ن گزشتہ75سالوں سے ملک کے مفاد کے نام پر قربانی لیتے چلے آ رہے ہیں ان سطور کے ذریعہ ہماری التماس ہے کہ اس بار پاکستان اس اشرافیہ سے قربانی لیں جن پر سالانہ ستر ارب ڈالرز کی مراعات کی نوازشات کی جاتی ہیں چاہے اس کے لیے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگا کر یہ نیک کام کرنا پڑے ، کر گزریئے۔

اس حوالے سے ہمارس پارلمانی شخصیات اور عوامی عہدوں پر فائز شخصیات صدر مملت سے گورنرز، ویزیر اعظم سےوزرائے اعلی ، چ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ، وفاقی و صوبائی وزراء اور تمام اراکین پارلیمنٹ اپنی خدمات رضاکاران اپنی گرہ سے ادا کرنے کا اعلان کریں ۔اگر یہ کام بھی ہوجائے تو سونے پہ سہاگہ ہو جائے

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY