کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں پاکستانی کی نمائندگی کرنے کیلئے سپورٹس پریزینٹر زینب عباس کے بھارت روانہ ہونے کے بعد وہاں تنازع کھڑا ہوگیا جس کے بعد انہوں نے مبینہ طور حفاظتی اقدام کی بنا پر بھارت چھوڑ دیا ہے۔

بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے کبھی باز نہ آیا، مہمان نوازی میں بھی فیل ہوگیا ، سپورٹس پریزینٹر زینب عباس بھارت میں جھوٹے مقدمے کے بعد ورلڈ کپ چھوڑ کر دبئی روانہ ہوگئی ہیں آئی سی سی نے تصدیق کردی ۔

بھارت روانہ ہونے سے قبل زینب عباس نے سماجی پلیٹ فارم (ایکس) پر لکھا تھا کہ بھارت میں کرکٹ ورلڈکپ 2023 میں بطور پریزینٹر شرکت ان کے لیے باعث مسرت ہے۔

بھارت جانے کے بعد زینب عباس سے متعلق تنازع کے آغاز اس وقت ہوا جب بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل ونیت جندال نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے زینب عباس پر ہندو مذہب اور بھارت کے خلاف سوشل میڈیا پر پیغامات لکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

زینب عباس کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا بنایا گیا ، بھارتی وکیل کا دعویٰ ہے کہ زینب عباس نے 8 سال قبل بھارت اور بھارتی مذہب کے خلاف ٹویٹس کئے تھے۔

سپورٹس اینکر زینب عباس نے 2019 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے تھے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایونٹس بھی فرائض نبھاتی رہی ہیں ۔

انہوں نے 2015 میں دنیا ٹی وی سے ہی سپورٹس رپورٹر کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد وہ متعدد بھارتی سپورٹس چینلز پر بھی رپورٹنگ اور میزبانی کرتی دکھائی دیں۔

زینب عباس فرسٹ کلاس کرکٹر ناصر عباس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما عندلیب عباس کی صاحبزادی ہیں ۔

زینب عباس کے شوہر حمزہ کاردار سابق وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر شاہد حفیظ کاردار کے بیٹے ہیں، وہ متعدد انٹرنیشنل سیریز اور ایونٹس میں بطور پریزینٹر کام کرتی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY