بہت آسان ہے معیار کی باتیں کرنا
باعمل کے لیئے ہے دار کی باتیں کرنا
مجھکو تسلیم کہ یہ وصف تمہیں آتا ہے
لہجہ انکار کا اقرار کی باتیں کرنا
عشق کی بات پہ اکثر یہ جواب آتا ہے
تم کو کیوں بھاتا ہے بیکار کی باتیں کرنا
عہد حاضر میں اسے کارِ عبث کہتے ہیں
فکر کی سوچ کی اظہار کی باتیں کرنا
بہت آساں ہے مری جان ذرا غور کرؤ
ریت پہ بیٹھ کے منجدھار کی باتیں کرنا
اس مرض کا سبھی کہتے ہیں نہیں کوئی علاج
خواب میں نرگسِ بیمار کی باتیں کرنا
ڈھنگ آتا ہے اسے ایسی مسیحائی کا
پھول کی آڑ میں تلوار کی باتیں کرنا
تم ہی کہہ دو کہ یہ معیار محبت کیا ہے
رہنااس پار اور اُس پار کی باتیں کرنا
لمحہ در لمحہ سرِ دار رہا ہوں مصلوب
عمر بھر سیکھا نہ سردار کی باتیں کرنا
جان من ایسی فقیری میں بھی عیاری ہے
بننا درویش اور زردار کی باتیں کرنا
منبر ومسجد و محراب تجارت ہو جہاں
ڈھونگ ہے جُبہ و دستار کی باتیں کرنا
کتنا آسان ہے واعظ کے لیئے منبر پر
وعظ میں خُلق کی کردار کی باتیں کرنا
اپنے دو شعر سنانا بھی اُسے ایسے ہے
جیسے دیوار سے دیوار کی باتیں کرنا
آخری پہر میں شب کے یہ وظیفہ صفدر
یار کی دوست کی دلدار کی باتیں کرنا
دل میں نیت ہے عبادت کی لبوں پر صفدر
زلف کی چشم کی رُخسار کی باتیں کرنا
صفدر ھمدانی













