دل میں نیت ہے عبادت کی لبوں پر صفدر

0
190

بہت آسان ہے معیار کی باتیں کرنا
باعمل کے لیئے ہے دار کی باتیں کرنا

مجھکو تسلیم کہ یہ وصف تمہیں آتا ہے
لہجہ انکار کا اقرار کی باتیں کرنا

عشق کی بات پہ اکثر یہ جواب آتا ہے
تم کو کیوں بھاتا ہے بیکار کی باتیں کرنا

عہد حاضر میں اسے کارِ عبث کہتے ہیں
فکر کی سوچ کی اظہار کی باتیں کرنا

بہت آساں ہے مری جان ذرا غور کرؤ
ریت پہ بیٹھ کے منجدھار کی باتیں کرنا

اس مرض کا سبھی کہتے ہیں نہیں کوئی علاج
خواب میں نرگسِ بیمار کی باتیں کرنا

ڈھنگ آتا ہے اسے ایسی مسیحائی کا
پھول کی آڑ میں تلوار کی باتیں کرنا

تم ہی کہہ دو کہ یہ معیار محبت کیا ہے
رہنااس پار اور اُس پار کی باتیں کرنا

لمحہ در لمحہ سرِ دار رہا ہوں مصلوب
عمر بھر سیکھا نہ سردار کی باتیں کرنا

جان من ایسی فقیری میں بھی عیاری ہے
بننا درویش اور زردار کی باتیں کرنا

منبر ومسجد و محراب تجارت ہو جہاں
ڈھونگ ہے جُبہ و دستار کی باتیں کرنا

کتنا آسان ہے واعظ کے لیئے منبر پر
وعظ میں خُلق کی کردار کی باتیں کرنا

اپنے دو شعر سنانا بھی اُسے ایسے ہے
جیسے دیوار سے دیوار کی باتیں کرنا

آخری پہر میں شب کے یہ وظیفہ صفدر
یار کی دوست کی دلدار کی باتیں کرنا

دل میں نیت ہے عبادت کی لبوں پر صفدر
زلف کی چشم کی رُخسار کی باتیں کرنا

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY