مجھ کو دامن ہی جھکاتا ہے نہ کف کھینچتا ہے
میری گردن کو عمامے کا کلف کھینچتا ہے

یہ تکبّر مجھے پڑھنے ہی نہیں دیتا نماز
کبھی سجدے سے اٹھاتا کبھی صف کھینچتا ہے

ہے عجب حُسن کی ناوک فِگَنی کا انداز
ہے عجب تیر کہ جو اپنا ہدف کھینچتا ہے

صحنِ مسجد سے میں رھوار کی جانب لپکا
آج مقتل مجھے شمشیر بکف کھینچتا ہے

وہ جو قطرے سے گُہَر ہو گیا کب اس کو خبر
اِس نُموداری میں کیا رنج صدف کھینچتا ہے

تختۂِ گُل نظر آتا ہے مجھے بسترِ شب
وہ مجھے خواب میں بھی اپنی طرف کھینچتا ہے

جانبِ دنیا میں بڑھ جاتا ہوں اپنی دُھن میں
پھر کوئی ہاتھ مجھے سوئے نجف کھینچتا ہے

نزدِ پاپوشِ عزاداراں سہی میری نِشَست
مجھ کو منبر کی طرف میرا شرف کھینچتا ہے۔
فقیر عارف امام

SHARE

LEAVE A REPLY