صوفیہ کا کہنا تھا “مجھے ملنے آو۔۔۔میں پاکستان جا رھی ھوں” تین دن سے سورج نہیں نکلا تھا، مسلسل بارش والے تاریک دن شروع ھو چکے تھے۔ ۔۔نومبر کی سردی عروج پر تھی۔۔۔۔”ایسے برے موسم میں کیسے آوں؟”
“میں نے کل گلفرڈ جانا ھے۔۔وھیں آجاو۔۔کل ایک بجے۔۔”
یہ اس کا حکم تھا۔۔۔۔یہ اس کا ملک تھا۔جہاں وہ چالیس برس سے رہ رھی ھے۔۔۔اب جانا تو تھا اس سے ملنے۔۔۔۔
دوسری صبح نہا دھو کر جلدی سے چائے بنائی۔۔۔بارہ بجے گھر سے نکلی۔۔ساڑھے بارہ بجے ٹرین میں سوار ھوئی۔۔۔جو ریڈہل سے ریڈنگ جا رھی تھی۔۔۔گلفرڈ یہاں سے پانچواں اسٹیشن تھا۔۔۔میں اچھی طرح یاد کر رھی تھی۔۔۔۔۔کیونکہ پچھلی بار رات ک وقت غلط اسٹیشن پر اتر گئ تھی۔۔۔پاوں میں فریکچر تھا۔۔۔۔سردی اور بونداباندی۔۔۔اسٹیشن بھی ۔۔۔ایسا جہاں کوئی سایہ دار جگہ نہیں تھی۔۔۔اور اگلی ٹرین نے ڈیڑھ گھنٹہ بعد آنا تھا۔۔۔اس مرتبہ ایسا رسک نہیں لینا چاھتی تھی۔۔۔سارا وقت سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی رھی۔۔جونہی گلفرڈ کا نام آیا اٹھ کر دروازے کے پاس کھڑی ھو گئی۔۔ٹرین سے اتری تھی کہ صوفیہ کا فون آگیا۔ ۔”کہاں ھو؟”۔ ۔۔”پہنچ گئی ھوں”۔۔۔۔”۔اب باھر نکل کر ڈیبنم کی طرف آ جاو۔”
“یہ ڈیبنم کہاں ھے”
“کسی سے پوچھ لو”
میں ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلی۔۔۔سڑک کراس کر کے سیدھا چلنے لگی۔۔۔اب میرے سامنے ymca کی بلڈنگ تھی۔۔بائیں طرف نہر کا پل تھا۔۔۔ہلکی ہلکی بونداباندی ھو رھی تھی۔۔میں نے نہر کی کچھ تصویریں بنائیں۔۔۔صوفیہ کی کال آئی۔۔۔”کہاں پہنچی ھو؟”
“نہر کنارے وائی ایم سی اے کے پاس۔”
“یہ کہاں ھے؟”
“میں جہاں کھڑی ھوں یہاں سے “فراری مال” نظر آ رھا ھے”
گلڈفرڈ کے “فراری مال ” میں اپنے بیٹے کے ساتھ کئی بار آ چکی تھی۔۔۔
” اچھا تم رکو۔۔میں وہیں آ جاتی ھوں” صوفیہ نے کہا
میں نے چلنا شروع کر دیا۔کیونکہ میں مزید بھیگنا نہیں چاھتی تھی۔۔۔میں گھر سے چلتے ھوئے چھتری اٹھانا بھول گئی تھی۔۔۔۔فراری مال کے پاس وہ مجھے اپنی طرف آتی دکھائی دی۔۔۔ھم دونوں مال کے اندر چلے گئے۔۔۔اس نے پرئمارک پر کچھ چیزیں واپس کرنی تھیں۔۔۔واپس کر کے آئی تو کہا” بہت بھوک لگی ھے۔میں گیارہ بجے یہاں آئی تھی۔ فیشل کروانا تھا “۔
ہم مال کی تیسری منزل پر فوڈ کورٹ میں چلے گئے۔۔۔میکڈونلڈ سے فش برگر اورنج جوس لے کر ایک میز پر بیٹھ گئے۔۔۔بہت ساری باتیں کیں۔۔رشتہ داروں کو یاد کیا۔۔۔روبینہ کو بیٹے کے نکاح کی مبارکباد دینے کی یاددہانی کروائی۔۔وہ اپنی چھوٹی بہن روبینہ کے بیٹے کے نکاح میں شرکت کرنے پاکستان جا رھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی بہت سی باتیں ادھوری تھیں کہ صوفیہ کو یاد آیا کہ اس کی کار پارکنگ کا وقت ختم ھو رھا ھے۔۔۔۔ھم ڈیبنم کی پارکنگ میں پہنچے۔۔۔۔صوفیہ نے مجھے ریلوے اسٹیشن کے باھر اتارا۔۔۔۔اور گلے لگنے کے بعد کہا میں تمہارے لیے ایک چیز لائی تھی۔۔۔پھر اس نے گاڑی کی پچھلی سیٹ سے خشک دودھ کا ڈبہ مجھے تھما دیا۔۔۔۔۔”جب تم پچھلی بار میرے گھر آئی تھی یہ وہ بچا ھوا ھے۔۔ھمارے گھر میں کوئی خشک دودھ کی چائے نہیں پیتا”۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی۔۔۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔
میں ریلوے اسٹیشن میں داخل ھوئی۔۔انکوائری سے پتہ چلا اگلی ٹرین چار بجے آنی ھے۔۔۔ابھی صرف سوا تین ھوئے تھے۔۔۔۔مجھے پلیٹ فارم نمبر 6 پر بیٹھ کر ٹرین کا انتظار کرنا تھا۔۔۔میرے ھاتھ میں آدھے دودھ کا ڈبہ تھا اور میری نظریں پلیٹ فارم پر لگی گھڑی کی سوئیوں پر۔۔۔۔۔۔جس نے 45 بار ٹک ٹک کرنا تھا۔۔۔۔خدا خدا کر کے وقت گزرا۔۔۔ٹرین آتی دکھائی دی۔۔۔میں نے دودھ کے ڈبے کو بڑی محبت سے پلیٹ فارم نمبر 6 کے بنچ پر رکھ کر خدا حافظ کہا اور ٹرین پر سوار ھو گئی۔۔۔۔۔۔
نیلما نا ھید درانی













