انیس و دبیر پرعقیل غروی کی تضحیک پرمذمت جاری ،علی شان

0
1204
تحریر: علی شان

ممتاز مفکر شاعر ادیب ماہر تعلیم نقاد فعالیت پسند اور مجتہد علامہ سید عقیل الغروی صاحب سے کون واقف نہیں اردو دان ہیں دور حاضر میں تشیع کے منبر کی پہچان ہیں۔ حوزہ علمیہ جامعیة الثقلین کے پرنسپل رہے۔ سفینہ ہدایہ ٹرسٹ کے موجودہ چیر مین ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کے رکن بورڈ اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر بھی ہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کرنیوالے طلباء کے نگران بھی رہ چکے ہیں۔ امامیہ اسلامک یونیورسٹی دہلی کے سرپرست اور فورم آف فلاسفرز انڈیا کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بنارس میں1964 پیدا ہونیوالے 60 سالہ عالم دین کا اصل نام سید غلام محمد قائم رضوی ابن سید سبط حسن رضوی جبکہ قلمی نام غروی ہے۔ 1981 میں اپ نے سولہ سال کی عمر میں ادبی رسالے “کائنات” کی بنیاد رکھی
• آپ چھوٹی عمر میں والدین کے ہمراہ عراق چلے گئے اور ابتدائی تعلیم نجف اشرف سے حاصل کی پھر بنارس آ کر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن مکمل کی اور مزید دینی تعلیم کے لئے ایران کے شہر قم مقدس چلے گئے جہاں 1994 میں آیت اللہ مکارم شیرازی سے اجازہ حاصل کرنیوالے کم عمر ترین مجتہد کے درجے پر فائز ہو گئے۔اجازہ لیکر ہندوستان واپس آ گئے جہاں دینی خدمات انجام دینا شروع کیں پھر استاد العلماء سید علی نقی النقوی مجتہد ہند کے انداز میں خطابت کا آغاز کیا اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو گئے۔آج کل برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم ہیں۔آپ نے اردو میں بائیس اور چند کتابیں فارسی عربی اور انگلش میں لکھی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
• انگبین۔ نیا تعلیمی تجربہ۔ چراغِ راہ۔ تجلیات۔ فلسفئہ معراج۔ قضاو قدر۔ حُسنِ اختیار۔ مجالسِ غروی۔ مقامِ ختمِ نبوت اور انسان۔ ولایتِ حق اور امام حسینؑ۔ سلامِ شوق ۔تُوحید اور حسینؑ۔ دُعا ولایتِ عظمیٰ
• Thematic Study of Holy Quran (انگریزی میں)
علم و ارادہ عیدِحشر اور جشنِ محشر جہانِ تعلیم
عربی کتب
ترمیم فقہ الصلاۃ علی النبیﷺ الحدیث بین الاسناد و الفقہ بحث تفسیری و فقہی الباب الثانی عشر الحقائق الايمانيریختہ ڈاٹ کام پر آپکی تمام تصنیفات موجود ہیں۔

اس تفصیلی تعارف کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ تحریر عقیل غروی صاحب کی نظر سے گذرے تو وہ یہ تصور نہ کریں کہ ہمیں انکی دینی خدمات قلم کاری یا عقل و دانش کا اندازہ نہیں۔

ہم گذشتہ چھبیس سال سے مانچسٹر شہر میں موجود ہیں اورعقیل صاحب کے متعلق بہت سے ذاتی احساس بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً ماسوا معدودے چند پرانے معروف لوگوں کے قبلہ یوکے کے دوسرے اہم شعراء سے یا تو ناواقف ہیں یا پھر ایک مخصوص لابی سے باہر نکلنا پسند نہیں فرماتے۔ ہم نے کبھی انھیں برطانیہ میں رثائی ادب کے حقیقی بڑے شعرا کو مشاعرے میں مدعو کرتے نہیں دیکھا۔ راقم کو کبھی کسی فورم پہ مدعو کرنا تو درکنار انھوں نے کبھی طرحی مصرعہ پر شعر کہنے کی دعوت تک نہیں دی جبکہ عاجز نہ صرف دو مذیبی شعروں کے مجموعے کا خالق ہے بلکہ مانچسٹر میں واحد شاعر ہے جو اہلِ بیاض و کتاب ہے۔
انکی بے شمار تقاریر میں کئی باتیں قابل اعتراض ہیں مگر ہم چونکہ شریعت پر اتھارٹی نہیں اسلئے شریعت و مذہبی موضوعات کو دینی شخصیات کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔
قارئین آغاز میں تعارف کے درمیان ہم نے غروی صاحب کی ایک خوبی” نقاد”
سے بھی آگاہ کیا جس کے معنی تنقید کرنا ہے۔ہمیں یاد آیا میٹرک ایف اے کے درسی پیرز کے پیچھے لکھا ہوتا  “نقادوں سے بچیئے” ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ نقاد ایک خوبی ہے یا خامی۔یہ معمہ کبھی حل نہ ہوا مگر اللہ بھلا کرے “نقادوں سے بچیئے” کو جناب غروی صاحب نے شاعر بتول استاد میر انیس پر تنقید کر کے ہمیں اسکا مطلب سمجھا دیا
۔ہم نے اوپر جو کچھ قبلہ کےمتعلق تحریر کیا موصوف نے لفظ “رانڈوں”کی عجیب و غریب تشریع کر کے اپنی اردو دانی کا نہ صرف پول کھولدیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ شہرت و عزت کی دوڑ میں جب وہ مقام حاصل نہ ہو سکےجو وقت نے میر انیس اور مرزا دبیر کو عطا کیا ہے تو غروی جیسے شاعری کے بونے اپنی اوقات بھول کر تنقید برائے تنقید زندہ تو کیا ڈیڑھ دو سو سال سے مستند مشہور و معروف شمس الشعراء پر بھی کیچڑ اچھالنے سے گریز نہیں کرتے چاہے نتیجے میں خدا سے جو تھوڑی بہت عزت ملی ہو وہ بھی ملیامیٹ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
قارئین یہ میری رائے نہیں نہ میرے الفاظ ہیں بلکہ جس دن سے عقیل غروی صاحب نے میر انیس پر بےسروپا تنقید کی ہے پوری دنیا تو کیا خود انکی جنم بھومی ہندوستان سے ان پر ملامت کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔طوالت سے بچنے کے لئے اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ انکی اس رقیق جسارت پر پوری دنیا سراپا احتجاج ہے اور انکے خلاف یہ احتجاج تا دم تحریر جاری و ساری ہے۔
ڈاکٹر نایاب بیلاوی ہوں رضا علی بھیمانی ہوں کمیل عباس اشتر ہوں
فاخرہ بتول نقوی ہوں یا ان جیسے اور انگننت لکھاری شعرا اور اہل ادب ہوں پوری دنیا میں سب کی طرف سے عقیل غروی کی ایسی بے سروپا اہانت و جسارت پر غم و غصے کے ساتھ مذمت کا سلسلہ جاری و ساری ہے

کہاں خطیب کی باتیں کہاں  انیس و دبیر

علی شان، مانچسٹر

SHARE

LEAVE A REPLY