مانچسٹر علم و ادب کے نو سربازوں کی آماجگاہ ۔ مقدسہ بانو

0
1138

ردار کشی ہو یا الزام تراشی جیسی حرکات مہذب معاشرہ میں کوئی مقام نہیں رکھتی ہیں ۔خود کو علم و ادب سے منسوب کر کے کوئی بھی اپنا قد اونچا نہیں کر سکتا ہاں اپنے قول و فعل کے تضاد سے اپنے بونے ہونے کی دلیل ضرور بن جاتا،ہے ۔ علم کے سمندر میں غوطہ ہی لگایا حاصل خاک ۔ علم کے موتی چننے کے لیئے من کی سیاہی کو بھی اجلے پن کی ضرورت ہوتی ہے ۔

کاش کے ڈگریاں حاصل کرنے والے علم بھی حاصل کرتے ۔تف ہے اس علم پہ جو ہماری کردار سازی نہ کر سکے ۔نام نہاد علم و ادب کے ٹھیکیدار تصویر کشی تک محدود ہیں ۔جھوٹ اور مکر و فریب سے کوئی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی ماسوائے سبق کے جو ہم جیسے علم کے طلب گاروں کو کثرت سے مل جاتا ہے

گفتارو کردار انسان کی تربیت کا پتہ دیتا ہے لیکن علم کے میدان میں نوسربازوں نے رنگ برنگی لفافوں کو حاصل علم سمجھ رکھا ہے۔
علم سمندر غوطہ زن ہیں
جہل کے مارے بونے لوگ۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY