تحریکِ طالبان کے ساتھ معاہدہ: ’70 ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں کو معاف نہیں کر سکتے’

0
734

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متاثرین اور دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے سیاسی رہنماؤں کے اہلِ خانہ نے حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کو کسی نے یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اُنہیں اعتماد میں لیے بغیر اُن کے پیاروں کے قاتلوں سے معاہدے کرے یا اُنہیں معاف کر دے۔

لواحقین کی تنظیم کے صدر فضل خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ان شہدا کے خون سے غداری کے مترادف ہے جنہوں نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 140 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کالعدم تحریکِ طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فضل خان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس معاہدے کی ہر پلیٹ فارم پر مزاحمت کریں گے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے پیر کو تصدیق کی تھی کہ کالعدم تحریکِ طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران فریق جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متاثرین اور دیگر کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں حکومت معاہدے کے تحت ٹی ٹی پی کا عام معافی نہ دے دے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سیز فائر معاہدے پر آمادہ ہو گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ یہ مذاکرات آئین کے تحت ہو رہے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کالعدم تحریک طالبان پاکستان سیز فائر معاہدے پر آمادہ ہو گئی۔ افغان عبوری حکومت نے مذاکرات میں کردار ادا کیا۔ یہ بھی بہت خوش آئند ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے طویل عرصے کے بعد مکمل امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مذاکرات میں پیشرفت کے مطابق فائر بندی میں توسیع ہو گی۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات میں متاثرہ خاندانوں کو قطعی طور پر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ان مذاکرات میں جو ان علاقوں کے افراد ہیں ان کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ ریاست کی حاکمیت اور ملکی سالمیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اُدھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ایک ماہ کیلئے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی 9نومبر سے 9دسمبر تک رہے گی، فریقین کی رضا مندی سے جنگ بندی میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان طالبان کی حکومت، پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔

مزید برآں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کی خبروں پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ پارلیمان میں کسی اتفاقِ رائے کے بغیر خود اپنے طور پر تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات کرے۔ پہلے بھی اس پر تنقید کرتا رہاہوں اور اب بھی کروں گا کہ جہاں کسی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوا تو صدرِ پاکستان یا وزیرِ اعظم کون ہوتے ہیں کہ وہ بھیک مانگتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بات کریں۔

انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی جس نے ہمارے فوجی سپاہیوں کو شہید کیا، ہماری قومی قیادت کو شہید کیا، ہمارے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا، کہ یہ کون ہوتے ہیں کہ اپنے طور پر فیصلہ کریں کہ کس سے انگیج کرنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جو بھی پالیسی ہو اس کی پارلیمان منظوری دے، وہ اتفاقِ رائے سے بنے۔ وہ پالیسی بہتر پالیسی بھی ہو گی اور اس کی قانونی حیثیت بھی ہو گی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے۔ اگر وہ ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کیا افغان طالبان پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کر رہی ہے تو تنظیم حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY