فلسطینی امریکیوں نے غزہ میں پھنسے رشتے داروں کے معاملے پر بائیڈن حکومت پر مقدمہ کردیا

0
984

دو فلسطینی امریکی خاندانوں نے بائیڈن حکومت پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے غزہ میں پھنسے ان کے امریکی رشتے داروں کو جنگ سے متاثرہ علاقے سے نکالنے کے لیے اتنی کوششیں نہیں کیں جتنی دہری شہریت کے حامل اسرائیلیوں کے لیے کی گئیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق انڈیاناپولس میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں بدھ کو دائر کیے گئے مقدمے میں وفاقی حکومت پر الزام لگایا گیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ جنگی علاقے میں امریکی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور امریکی آئین کے تحت فلسطینی امریکیوں کے مساوی تحفظ سے انکار کر رہی ہے۔

مقدمے میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہاں سے اپنے شہریوں کا انخلا بحفاظت طریقے سے کیا جائے۔

جنوبی اسرائیل میں سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد امریکی حکومت نے تل ابیب سے یورپ کے لیے چارٹر پروازوں کا اہتمام کیا تھا تاکہ امریکیوں کو اسرائیل سے نکلنے میں مدد مل سکے۔ یہ پروازیں ایسے وقت میں تھیں جب کئی ایئرلائنز نے اپنی سروسز منسوخ کر دی تھیں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے تقریباً 1300 امریکی فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے اور اسرائیل کی جوابی بمباری سے بچنے میں مدد فراہم کی۔ اس سلسلے میں اسرائیل اور مصری حکام کے ساتھ پڑوسی مصر سے ان کے انخلا میں تعاون کیا گیا۔

لیکن امریکی حکومت پر مقدمہ کرنے والے خاندانوں کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے غزہ میں پھنسے ہوئے تقریباً 900 امریکی شہریوں، رہائشیوں اور خاندان کے افراد کو باہر نکالنے کے لیے پروازیں وقف کرنے یا دوسری صورت میں مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یاسین الآغا نے، جن کا خاندان غزہ میں پھنسا ہوا ہے اور وہ مقدمے کو منظم کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کی حکومت بہت کچھ کرسکتی ہے اور وہ فلسطینیوں کے لیے ایسا کچھ نہ کرنے کا انتخاب کر رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY