میدان کربلا میں ایک صحیفہ وفا
عابد نے ایسے طوقٍ گراں بار کاٹ دی
سائے نے جیسے دھوپ کی دیوار کاٹ دی
دیکھا بوقت عصر یہ سورج نے معجزہ
پیاسے گلے نے شمر کی تلوار کاٹ دی
(صفدر ھمدانی)
تاریخ کربلا اور تحریک زینب
آوازہ یا حسین کا پھر نینوا میں ھے
شبیر تیرے خون کی خوشبو ھوا میں ھے
چہلم کی شان سے ھے پریشان یزیدٍ وقت
زینب تری دعا کا اثر کربلا میں ھے
(صفدر ھمدانی)













