اداسی
اداسی بڑھ رہی ہے
سرد موسم کی طرح سے
میں تری یاد کی چادر لپیٹے
تری گرم سانسوں کی
حرارت سے خود کو گرم
رکھنے میں لگا ہوں
مگر دل ہے کہ سنبھلتا ہی نہیں ہے
مسلسل دھڑکتا جارہا ہے
مجھے ڈر ہے کہیں یہ رک نہ جائے
بس اب اتنی گزارش ہے کہ
تم لوٹ
مجھے تھامو مرے پہلو میں بیٹھو
میں اک پل بھی
تمہارے بن اکیلا رہ نہیں سکتا
تم لوٹ آو
امین کنجاہی












