ہو گا درخت قبر پہ میری چنار کا،تحسین شفقت انجم

0
769

کس کو سناؤں حال دلِ زار زار کا
اب اعتبار ختم ہوا اعتبار کا

بھجنے کی دل سے آگ نہیں زیرِ خاک بھی
ہو گا درخت قبر پہ میری چنار کا

سچ ہے یہ کہ قید میں ہوں تیری یاد کی
ملتا نہیں ہے راستہ کوئی فرار کا

وحشت سے دل بھرا رہتا ہے ہر گھڑی
احساس اب بھی ہوتا ہے تیرے حصار کا

ظالم ہیں لوگ شہر کے تیرے مگر کبھی
بتلاتے گا کوئی تو پتہ کوئے یار کا

صد حیف اس زمانے نے ٹھکرا دیا ہمیں
اب تو مقابلہ ہے ہراک گُل سے خار کا

انجم رواں رہی ہوں میں کانٹوں پہ عمر بھر
کانٹوں پہ بھی گمان ہے اب سبزہ زار کا

تحسین شفقت انجم

SHARE

LEAVE A REPLY