پچھلے دنوں بیرون ملک سے آئی ایک خاتون کی تحریر پڑھنے کا موقع ملا اور ان کا پاکستان میں رہنے والی خواتین پر ایک محفل میں جو غصہ نکلا تو ہمیں بھی بہت قرار آیا اور سوچا

شکر ہے خدایا کسی اور عورت کے منہ میں بھی” سچائی کا تیزاب” موجود ہے جو جھوٹ کے زنگ کو دھووووووو دیتی ہے . اللہ آپ کو خوش رکھے …

محبت ہے یا ظلم میں، ہمارے ہاں کے شوہروں نے باپوں نے خواتین کو ہر منہ مانگی چیز فراہم کر کے انہیں اس حد تک ناکارہ کر دیا ہے کہ وہ ذرا سی بھی کمی رہ جائے تو ہاہاکار مچا دیتی ہیں . سارا سارا دن انکا ٹی وی کے گھٹیا سیریلز دیکھتے یا ٹیلیفون اور اب موبائل زندہ باد پر دوسروں کی ٹوہ لینے میں گزر جاتا ہے . یا پھر ہر وقت بازاروں میں چکر لگانا، شاپنگ فوبیا ہوگیا ہے پاکستان میں خواتین کو شاید
حالانکہ وہ گھر بیٹھے بے شمار مفید کام کر سکتی ہیں . جو اس سے پہلے ہماری مائیں اور ہم خود کرتے رہے ہیں .

نہ اب گھروں میں مصالحے پستے ہیں ،نہ اب گھروں میں خود سے صفائیاں ہوتی ہیں، نہ پوچھے لگتے ہیں ،نہ کوئی سلائی کا شوق ہے کسی کو، نہ ہی کڑھائیاں ٹانکے کسی سے لگتے ہیں ، نہ عورت اپنے بچے کو سکول کا کام خود کرواتی ہے، نہ ہی قران خود پڑھاتی ہے ،

دوپٹے گھروں میں رنگے جاتے تھے . گھروں میں کیاری یا گملوں میں پودے لگا کر اس سے ہوم گارڈنگ کی جاتی تھی . اور کچھ نہیں تو دھنیا پودینہ مرچیں ٹماٹر اور ہری پیاز تو ضرور ہی گھروں میں کاشت ہوتی تھیں .

اب تو دن میں تین بار میں سے دو بار ضرور ہی روٹی تندور سے منگوائی جاتی ہے. ہر دوسرے تیسرے دن ہوٹل سے کھانا کھایا یا منگوایا جاتا ہے .چارٹ بنانا بھی بہت بڑا کام ہے . پکوڑے سموسے تو بازار سے آنا ہمارا کلچر ہی کیا ضرورت بن گیا ہے .

وہاں میں نے کسی کو پاکستان میں سستی سبزیوں کے سیزن میں اب کوئی سبزی محفوظ کرتے نہیں دیکھا . چاہے معلوم ہے کہ چند روز میں اس کا بھاو آسمان سے باتیں کرنے لگے گا . نہیں بیس روپے کلو کی سبزی دو سو روپے کلو میں میاں کو باتیں سنا سنا کر خریدیں گی لیکن اسے مہینہ پہلے محفوظ نہیں کریں گی . کہاں گئیں وہ عورتیں کہ جن کی چھت پر، صحن میں کئی طرح کے اچار کے مرتبان اور برنیاں دھوپ لیا کرتے تھے .

سکنجبین کی بوتلیں دھوپ میں بار بار رکھی اور ہلائی جاتی تھیں .

جن کے گھر میں مربے ، جام بنا کرتے تھے .

اب تو گھر پہ کوئی آجائے ہر شے بازار سے منگوائی جاتی ہے …. افسوس چائے بازار سے ابھی لا کر نہیں دیتے، یہ ظلم کرتے ہیں بیچاریوں پر. .. کہ چائے انہیں خود بنانی پڑتی ہے ..
یہ سبھی اور بہت سے کام اگر ہم گننے بیٹھیں جو گھر کی خواتین کیا کرتی تھیں یا کرسکتی ہیں تو مہینےمیں وہ خاتون باہر کہیں نوکری نہ کر کے بھی اپنے شوہر کے ہزاروں روپے بچایا کرتی تھیں .
جی ہاں یہ سب کام گھر کی خاتون خانہ ہی خوشی خوشی کیا کرتی تھی اور اس میں بھی اپنے لیئے اچھی اچھی کتابیں پڑھنے کا وقت بھی نکال لیا کرتی تھیں .

یہ سب خواب نہیں ہے .ایک عام سے پانچ مرلے کے گھر میں رہتی ہوئی لڑکیاں اور خواتین بھی کیا کرتی تھیں . اور انکی زندگی کی ڈکشنری میں بوریت نام کا کہیں کوئی لفظ موجود نہیں تھا . اور تو اور ہم بھی ایسی ہی زندگی گزار کر یورپ پہنچے تھے .یہ سوچ کر کہ ہو سکتا ہے ہماری زندگی میں مشقت کچھ کم ہو جائے گی. لیکن نہیں یورپ میں وہ بھی سب کام کیئے جو پاکستان کے ماحول میں گھر سے باہر نہیں کیئے یا سوچے بھی نہ تھے .

صبح چھ بجے اٹھنا ناشتہ بنانا . یہاں یونیفارم نہیں ہے تو روز دوسرے کپڑے نکالنا ،سات بجے بچوں کو جگانا ،کھلا پلا کر تیار کرنا،بچوں کو سکولوں میں خود صبح آٹھ بجے چھوڑنا پھر گھر جا کر ان کے لیئے کھانا بنانا ، ناشتے کے برتن دھونا ، دھونے والے کپڑے چھانٹنا،گیارہ بجے پھر انہیں لینے جانا گھر آ کر کھانا کھلا کر ان کے منہ ہاتھ دھلا کر برتن دھو کر ڈیڑھ بجے بچے پھر سکول چھوڑ کر گھر پہنچنا ، لنچ خے برتن دھونا،سارے گھر کا کام کر کے پھر سے چار بجے بچے لینے جانا، سکول سے واپس آ کر انہیں کچھ کھلا پلا کر ان کا ہوم ورک چیک کرنا،

انہیں تھوڑا آرام کروا کر رات کے کھانے کی تیاری کچن کی صفائی .کپڑوں کی مشین ساتھ ساتھ لگاتے جانا … اور بس لیکر سٹور سے گھر کی ہر دوسرے تیسرے دن گروسری لانا . رات کو آٹھ نو بجے تک بچے سلا کر ٹی وی کے سامنے خبریں سنتے، کوئی کرائم رپورٹ دیکھتے ہوئے، ڈرامہ دیکھتے فریز کرنے کو مٹر نکالنا،سبزیاں کاٹ کر دھو کر ان کے پیکٹ بنا کر رکھنا ،شامی کباب بنا.کر فریز کرنا،روسٹ کے لیئے چکن کو دھو کر مصالحہ لگا کر یا گوشت کے پیکٹس بنا کر رکھنا اور پھر میاں صاحب کو ہر چیز منہ سے مانگتے ہی پہنچانا ،ان کا دس بجے سو جانا اور اپنا رات کے دو بجے تک کاغذ قلم سنبھال کچھ کاغذ،نیٹ یا موبائل نوٹ بک میں اپنے دل کا بوجھ اتارنا ……….

یہ سب سو فیصد سچ ہے پاکستان کی 70 % ہڈ حرام اور ناکارہ عورتیں. . کھانے میں ڈوئی کیا چلاتی ہیں. گویا ساری خدائی کا بوجھ ان کے سر پر ہے .
اکثر تو ہوٹلوں سے کھانا کپڑے درزی سے یا ریڈی میڈ ……

بچے یا مسائل پیدا کرنے سوا یہ کرتی کیا ہیں؟ اور یہ ہڈ حرامیاں ان کی ہڈیوں میں مردوں ہی نے ڈالی ہیں .
کیونکہ انہوں نے ان عورتوں کے لیئے خود اپنے آپ کو کھوتا بنایا ہے . مجھ سا تو اس کمائی کو مشکوک نظروں سے ہی دیکھے گا . ورنہ جس کی کمائی حلال کی ہو گی وہ اسے خرچ بھی حلال انداز میں ہی کریگا …
اگراتنی ہڈ حرامی اور نوکرانیوں کے عیش ان عورتوں کو دیکر بھی آپ کے بچے تمیزدار،مہذب، لائق نہیں اور دنیا سے بہرہ وراچھی نسل کے طور پر تیار نہیں ہو رہے. تو یہ آپ کے لیئے لمحہ فکریہ ہے
ممتازملک

SHARE

LEAVE A REPLY