آج ایک ایسی مایہ ناز ہستی کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جوکہ نجدی قبیلہ بنو سلمہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ ایک جری خاتوں اور بے مثال شاعرہ تھیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ یہ دونوں وصف کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو تے لیکن انہیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دونوں اوصاف سے بدرجہ اتم نوازا ہوا تھا؟ کہ وہ جری بھی تھیں اور شاعرہ بھی تھیں تو اس پایہ کی تھیں کہ مردوں نے بھی ان کی برتری تسلیم کی ہےلیکن آج کا مسلمان انہیں نہیں جانتا ہے اس لیئے وہ حضورﷺ سیرت پڑھتا ہی نہیں ہےتو صحابیات سے واقف کیسے ہوتا جسے بقول حضرت امام زین العابدین ؑ “ کبھی ہم لوگ قرآن کو جسطرح پڑھتے تھے“۔حضرت خنسا (رض)نے جب حضور ﷺکی مدینہ میں آمد کی خبر سنی تو یہ فوراً اپنے قبیلہ کے چند آدمیوں کو لیکر مدینہ منورہ پہونچیں اور قبول ِ اسلام فرمایا جب کہ اس وقت ان کی عمر پچاس برس تھی۔ اس طرح نجد میں یہ پہلا گروہ تھا جواسلام لا یا ورنہ نجدی اپنے اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ عرب کے قدیم باشندے ہیں اور انہیں بشمول قریش سب پر فضیلت حاصل ہے اور انکے سردار عامر بن طفیل نے حضور ﷺ سے کہلا بھیجا تھا جب وہ مدینہ پہنچے کہ آپ مدینہ تو تشریف تو لے آئے ہیں لیکن ادھر کا رخ مت کیجئے گا اگر تلوار کے زور سے مجھے اپنے پیچھے چلنے پر مجبور کرلیں تو وہ دوسری بات ہے ورنہ میں کبھی آپکیﷺ بالا دستی تسلیم نہیں کرونگا۔کیونکہ ہم “بنی مدار میں سے ہیں اور آپ بنو سہیل میں سے“ جبکہ بنو سلمہ نجدیوں کا پڑوسی قبیلہ تھا۔ وہاں سے ایک خاتون کا باہر نکلنا اور مدینہ پہنچ کر مشرف با السلام ہو نا ایک بہت بڑا فیصلہ تھا جو ان کی جرا ءت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ گمان غالب ہے کہ حضور ﷺاور بنو سلمہ کےامیر البرا ءجوکہ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے تھے جب مدینہ شریف پہونچے اور ان سےحضور ﷺ نے حسب ِ روایت دعوتِ اسلام دی اور دونوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میں حضرت خنساء(رض ) اور ان کے ساتھیوں کا ذکر بھی ہے،کہ ً البراء نے حضور ﷺ سے کہا کہ میرے علاقہ میں اسلام پہونچا تو ہے مگر ابھی معروف نہیں ہوا لہذا میرے ساتھ کچھ حفاظ کر دیجئے تاکہ وہاں اسلام کے حق میں فضاءتیار ہو سکے اور میں ان کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہوں؟ جب یہ لوگ وہاں پہونچے اور اس کے قبیلہ کے سامنے ایک بلندی پر قیام کیا اور وہاں سے اپنا ایک قاصد عامر بن طفیل کی طرف حضور ﷺ کا مکتوب ِ گرامی لیکر بھیجا تو وہ چراغ پا ہو گیا کہ تمہاری یہاں تک آنے کی جراءت کیسے ہو ئی جب میں نے منع کردیا تھا؟ پھر وہ وہاں سے فوراً روانہ ہو ا اور بنوسلمہ کو مدد کے لیئے آواز دی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تمہاری کیسے مدد کر سکتے ہیں ان کے قتل کر نے میں؟ کیونکہ البراءنے انہیں پناہ دی ہوئی ہے چونکہ تم ہمارے حلیف ہو لہذا یہ تمہاری بھی پناہ میں ہیں۔ ویسے بھی تم بنو نضر کے حلیف ہو اور وہ ان کے حلیفہ ہیں لہذا تم بھی ان کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتے ہو ؟ ان سے مایوس ہو کر اس نے دوسرے ہمسایہ قبیلہ کو آواز دی اور وہ میدان میں نکل آیا۔ اور سب نےملکر چالیس حفاظ بہتر کو شہید کردیا؟ اس کی وجہ ممکن ہے کہ یہ ہی رہی ہوکہ ان کے یہاں حضرت خنسا ءاور ان کے بیٹوں)(رض) نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ان کا سردار بھی اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہا ہو۔ ورنہ حضور ﷺ نے تو بنو سلمہ جس قبیلے کی یہ شاخ ہے اس کی یہ فرماکر تعریف فرمائی ہے کہ ً بلا شبہ ہر قوم کی پناہ گاہ ہوتی ہے اور عرب کی پناہ گاہ قیس بن عیلان ہے۔
ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا اصل نام تو تماضر (رض) بنت ِ عمرو تھا مگر وہ اپنی ان خصوصیات کی بنا پر کے وہ بہت تیز وترار اور خوبصورت تھیں قبیلے نے انہیں ً ہرنی سے مماثلت دی اور یہ ہی انہوں نے بعد میں تخلص کے طور پر اختیارکرلیا تو اصل نام مشہور نہ ہو سکا وہ پیچھے رہ گیااور وہ خنسا ء(رض) نام سے مشہور ہو ئیں؟ مورخین نے لکھا ہے کہ ابتدائی دور میں انہوں (رض) نے صرف چند اشعار موزوں کیئے تھے مگر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ ان کے والد کے انتقال کے بعد وہ بھائی جو کہ ان پر جان چھڑکتے تھے یکے بعد دیگرے قتل ہو گئے تو انہوں (رض) نے جب ان کے سوگ میں مرثیہ کہے تو لوگ عش عش کر اٹھے اور وہ اس میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ گئیں۔ جبکہ ان سے پہلے ابو بصیر کا چرچا تھا اورحضرت خنسہ کے لیئے ایک خاص خیمہ بازار عکاز میں لگتا تھا ، اس پر جو پرچم لگا ہوتا تھا اس پر لکھا تھا خنساءارثی العرب (عرب کی سب سے بڑی مرثیہ گو خنساء) بازار ِ عکاز میں دوسرا مشہور خیمہ نابغہ ذبیانی کا ہو تا تھا جو ان سے پہلے سے وہاں لگتا چلا آرہا تھاانہوں (رض) نے جب عکاز کے میلے میں اپنے اشعار سنا ئے تو اس نے کہا کہ اگر میں نے ابو بصیر کو نہ سنا ہوتا میں تجھے اس دور کی بہترین شاعرہ تسلیم کر لیتا! مگر اس میں شک نہیں ہے کہ شاعرات میں تیرا کوئی ثانی نہیں ہے۔ جبکہ ایک روایت اس سلسلہ میں یہ بھی موجود ہے کہ حضرت حسان (رض) بن ثابت اس میلے میں موجود تھے وہ بھی عہد جاہلیہ میں چوٹی کے شعرا ءمیں شمار ہو تے، جبکہ زیادہ مشہور حضور (ﷺ) کے شاعر خاص ہونے کے بعد ہوئے ان کی اور نابغہ کی موجودگی میں انہوں (رض) نےحضرت حسان (رض) بن ثابت کے اشعار میں وزن سے گرنے کی نشاندہی کی۔ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ صرف اورنہو کی بھی ماہر تھیں۔ لیکن ان کی سب سے بڑی وجہ شہرت جنگ ِ قادسیہ بنی جس میں ایران اپنی دولاکھ فوج مسلمانوں کے خلاف لے آیا تھا جبکہ اسلامی لشکرصرف تیس چالیس ہزارافراد پر مشتمل تھا اور اس میں انہوں (رض) نے اپنے چاروں بیٹوں کو قر بان کر دیا۔ جبکہ اس سے پہلے وہ اپنے والد دونوں بھائی اور شوہر کو کھوچکی تھیں اور یہ بچے اب انکا واحد سہارا تھے۔ اس رات کو انہوں اپنے چاروں بیٹوں کو جس کے دوسرے دن جنگ ِ قادسیہ بر پا ہونے والی تھی۔ ان الفاظ سے لڑنے کے لیئے ابھار ا “ میرے بچو! تم نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور اپنی خوشی سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور اس ذات کی قسم جو لازوال ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ جس طرح تم ایک ماں سے پیدا ہو ئے ہو اسی طرح تم ایک ہی باپ کی اولاد ہو نہ میں نے تمہارے باپ سے خیانت کی نہ تمہارے ماموؤں کو رسوا کیا تمہارا نسب بے عیب ہے اور حسب بے داغ ہے۔ یادرکھو جہاد ِ فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی کارِ ثواب نہیں ہے آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی سے بہت بہتر ہے پھر سورہ آل عمران کی مندرجہ ذیل آیت پڑھی جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہا “اے مسلمانوں !صبر سے کام لو ، ثابت قدم رہو، آپس میں شیر شکر رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ مراد کو پہنچو آل عمران آیت(200 ) پھر فرمایا کہ کل اللہ نے چاہا تو تم خیر سے صبح پاؤ تو اپنے تجربہ کو بروئے کار لاتے ہو ئے اور خدا کی مدد پر بھروسہ کر تے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنا اور جب تم دیکھو کہ لڑائی کی آگ پوری طرح بھڑک اٹھی ہے تو اس کے بیچ میں کود پڑنا اور راہ حق میں دیوانہ وار تلوار چلانا ۔ ممکن ہو تو ان کے سپہ سالار پر ٹوٹ پڑنا اگر کامیاب رہے تو بہتر ہے اور اگر شہادت نصیب ہوئی تو اور بھی بہتر ہے کہ آخرت کی فضیلت کے مستحق ہو گے“ چاروں بیٹوں نے ایک زبان ہو کر فرمایا کہ اے والدہ محترمہ انشا اللہ ہم آپ کی توقعات پر پورے اتریں گے اور آپ ہمیں ثابت قدم پا ئیں گی۔
جب صبح کو میدان کار زار گرم ہوا تو بچوں نے وہ کر دکھا یا جو ماں نے کل نصیحت کی تھی۔ وہ جس طر ف بڑھے شیروں کی طرح لشکر کفار کوچیرتے اورپھاڑتے چلے گئے ۔ آخر کار دشمن سپاہ نے پوری توجہ ان پر مبذول کردی اور ان (رض) کو گھیرے میں لے کر کے شہید کر دیا؟
جب انہوں (رض) نے بچوں (رض) کی شہادت کی خبر سنی تو بجا ئے واویلا کر نے کے بارگاہ خداوندی میں سر بسجدہ ہو گئیں اور یہ دعا ان کے لبوں پر جاری ہو گئی کہ ً اس اللہ کا شکر ہے جس نے میرے فرزندوں (رض) کو شہادت سے نوازا اسی سے امید ہے کہ وہ مجھے (رض) بھی اپنے بچوں کے ساتھ اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے گا۔ حضرت خنساء کے چاروں صاحبزادے پہلے بھی کئی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے لہذا ان کا دوسو درہم فی کس وظیفہ مقرر ہے تھا وہ حضرت عمر (رض) نے حضرت خنسا ء کے نام کر دیا۔
ان کے انتقال پر مورخین میں اختلاف ہے کچھ کہتے ہین ان جلیل القدر خاتون (رض) نے جنگ قادسیہ کے آٹھ سال بعد رحلت فرما ئی دوسری روایت یہ ہے کہ وہ معاویہ کے دور تک حیات رہیں۔ واللہ عالم ۔( انا للہ وانا الیہ راجعوں 0 نوٹ ۔ان کے کلام کا عربی متن بیروت سے ١٨٨٨ء میں میں شائع ہو چکا ہے جبکہ اس کا ترجمہ پیرس سے فرانسیسی میں شائع ہو ا ہے۔













