سکون کی تلاش میں…. سکون سے دور رہنے والے بھلا کیسے سکون پاسکتے ہیں….
سکون کی راہیں بڑی منفرد ہیں… کہ اسکے واسطے…. بڑے واسطوں کو کاٹ دینا ہڑتا ہے…. وجود پر سے جب تلک تاریکیاں نہ چھٹ جاییں…
سکون ہر ھز نہیں ملتا… یہ بے کلی… یہ بے سکونی…. رب سے دوری کے باعثِ ہے…
اور رب کہتا ہے دلوں کا چین تو میرے زکر میں ہے…..
اب یہ زکر محض اللہ اللہ ہی کرنا ہے کیا….؟
یعنی بس تسبیح و تہلیل… فقط سجدہ بنا معرفت کے… یعنی قیامبنا معرفت کے…. یعنی نییت بنا معرفت کے… یعنی رکوع… بنا معرفت کے….
گویا اندھا زکر…… یعنی وہ زکر جو بھلے روح ہر سے گندگی اور گرد کو دھو ڈالتا یے پر کیا شعوری معرفت کو بڑھانا بھی ھدف زکر ہے کہ نہیں ہے….
یعنی…. جب یہ کہا جاتا یے جب کہ فلاں تسبیح پڑھو… فلاں سورہ پڑھو اس کے یہ یہ فائدے ہی…. تو کبھی غور کیا…. کہ کیا وجہ ہوئ کہ رب نے رسول نے تاکید فرمائی کہ فلاں زکر پڑھو… فلاں مقصد پورا ہو جائے گا….
تو خوب غور کیجیے… سوطیے… کیا بصرت و گہرائی و فضیلت ہے زکر کی تکرار یا کہ زکر بار بار میں کہ جو ہے رکھ دی گئ…
تو جو اور بہت سی وجوہات ہیں ان میں جو ایک اہم وجہ ہے وہ یہ کہ اس کلام الہی…. اس زکر الہی… اس عبادت….. کے پیچھے ایک بنیادی فلسفہ اس زکر کی روح ہے…. یعنی اس زکر میں چھپا ہوا میسج کے ثواب… تو رغبت ہے….
برکتیں، رحمتیں یا ظاہرا دل پر تسکین و قوت کا احساس پیدا ہونا اس زکر کی فضیلتیں ہو سکتی ہیں… برکتیں… رحمتیں ہو سکتی ہیں…. ہر ھدف نہیں….
اسکی مثال ہم یوں لے سکتے ہیں…. کہ آپ کو کسی مقررہ جگہ پہ کسی دوست کے گھر پہنچنا ہے….. اور دوست نے آپکو اپنے گھر کا پتہ دے دیا ہے اور سمجھا دیا ہے کہ کب کس موڑ پر کونسے رخ جانا ہے…. کونسی نشانیاں یاد رکھنی ہے… کونسی بس یا ٹیکسی آپکو لینا ہے…. کتنا وقت اور پیسے لگینگے….
اب آپ اسکے گھر کا پتہ پکڑ کر ورد کرنے لگیں یہ سوچ کر کہ پہنچ جایینگے…. تو یقین کیجیے…. پتہ بھلے یاد ہو جائے…. ڈاریکشن بھی معلوم چل جائے تب بھی اپ اسکے گھر تک نہ پہنچ پایینگے….
نیت کرنا ہوگی…
تیاری کرنا ہوگی…
وقت کے حساب سے پلاننگ کرنا ہوگی…. اور گھر سے نکل کر اس رخ مڑنا یوگا… وک بس لینا ہوگی کہ جو اسکے گھر تک پہنچاسکے…..
بالکل ایسے ہی…. زکر الہی… کلام الہی مین مثلا اگر ایت الکرسی کو پڑھنے کی تاکید اور ثواب درج ہے….
تو غور کیجیے اس ایات مبارکہ میں رب پہ توکل کیسے کرنا ہے… اسکی وحدانیت اسکے رب ہونے کی خصوصیات پہ رب عور کروا رہا ہے کہ انسان اس دنیا میں فقط اس سے ڈرے اسکو چاہے…. اسکے معبود ہونے کی گہرائیوں کو درک کرے….
اور پھر آگے کی ایات میں سمجھا رہا ہے کہ جب رب پہ ایمان لے او…. اس ہہ توکل کر لو… ااکی رب ہونے… اسکے بزرگ و برتر ہونے… اسکے سب سننے، دیکھنے، جاننے، قدیم ہونے پر یقین کر چکو تو ہر گز مت گھبراہٹ کا شکار ہو… نہ خوف… نہ ڈر کا… اور پھر،
رب طاغوت کے انکار کی تربیت کر رہا ہے…. یعنی کیسے لا کہنا یے…. کب کہنا ہے… کیوں کہنا ہے…..کس طرز سے کہنا ہے…
رب پہ توکل کیسے کرنا ہے….
یعنی… جب زکر پڑھا اسکو سمجھا…. غور کیا… اس سے شناسائی روح کو کروائ اس پر تدبر کیا…. تفکر کیا اور عقل کو اس زکر سے قوت گویائی عطا کی…. بصیرت کو روشنی ملی….علم کو میعار مل گیا….
گویا مومن کو ہتھیار مل گیا…. اسکو وہ چیلڈ… یعنی وہ قوت فکر….
قوت عمل مل گئ کے جو اسکی زات کے جوہر کو گوہر میں بدل دیتی ہے…. گویا اس زکر نے روح میں، فکر میں سرایت کرکے… قلب کو مائل کیا… ہمت دی… اور عمل کو حسن اور تطہیر سے وابستگی عطا کی….. اور جب زکر اور عمل ایک ہوگئے تو اس تکرار زکر کا اصلی ھدف….
یعنی منزل پہ پہنچنے کا ھدف پورا ہوا….. اور تجربے سے اسکی زات کو طہارت اور گہرائی نصیب ہوئی اور عملی اطاعت کا مکمل موقع میسر آیا….
یہی سب ازکار جن کو ہڑھنے کی تاکید ہے اگر ان کے ہر ہر لفظ کو بار بار سوچیں…. بار بار دیکھیں تو معلوم چلے گا کہ آخر کس بات کی جانب رب ہماری توجہ کروا رہا ہے….
جب ایک برے شاعر یا ادیب کے کلام کو سمجھنا ہو تو ہم کتنی بکس… کتنی تشریحات کو کھنگالتے ہیں…. تو کیا رب کا کلام اتنا ہی سادہ ہے کہ بس لفظی ترجمہ و مفہومِ اسکے حقیقی معنی تک پہنچا دیگا….. جب شاعروں ادیبوں کے کلام کو کھولنے کے لیے کئ کئ کتابیں اسکو سمجھانے کے لیے لکھی جاتی ہین پڑھی جاتی ہین… تو کلام حکمت…..
یعنی حکمت…. یعنی دانش…. یعنی رب کی حکیمانہ تدبیریں، نصیحتیں، احکامات…. سمجھنے کے لیے ہماری کوئی کوشش درکار نہ ہو گی…..
رب تو یر موڑ ہہ تفکر و تدبر کا حکم دے رہا ہے اور انسان…
کے جسکے لیے یہی بہت بڑا اعزاز ہے کہ ایک تو رب نے انسان بنایا…. اوپر سے کلام الہی میں ہر انسان کو بلا تفریق رنگ و مزہب انسان کہہ کر مخاطب کیا….
تو کیا انسان کے لیے بس یہی ہے کہ وہ سبق رٹ تو لے….. پر سمججے نہیں کے لفظ جو رٹ لیے ہیں…..
اس میں سڑک کون سی ہے… گھر نمبر کیا ہے… کیسے جانا ہے… کونسا روٹ اختیار کرنا ہے… کس سے راستہ نہیں پوچھنا تو کس سے ہوچھ لینا ہے…. کن باتوں سے ہوشیار رہنا ہے اور کن باتوں پہ دھیان رکھنا ہے کہ منزل پہ پہنچا جاسکے…. اور اس منزل کی درست سمجھ ہونا… اسکا ادراک…
کیا یہ سب تفکر… تدبر… کیے بنا انسان اس زکر سے سکون پا سکتا یے…. کہ جس زکر کو رب نے تسکین کہا ہے……
بھلے ایک حد تک سکون ملیگا مگر… عبادت ہو کے عشق الہی معرفت کے بنا عیب ہے… نقص ہے… سو انسان کے شرف کو زیب نہیں دیتا کے عقل کو علم و طہارت کی روح سے بیدار نہ کرے….. اور اندھوں… بہروں کی عبادتیں انجام دے کے رب نے تو ہر عبادت کیایک مکمل حکمت… وجہ… فلسفہ رکھا ہے….
سو زکر الہی سے اگر سکون درکار ہے یعنی وہ دایمی سکون جو بیدار اور زندہ لوگ… بابصیرت و با شعور لوگ کرتے ہیں…. وہ اپنی بصیرت کو آگہی کا رزق فراہم کرتے ہیں… تاکہ سبقت لیجانے والوں میں سے بن سکیں کے رب کو ودرکعت جو معرفت اور بصیرت کیساتھ… ادا کی جائیں زیادہ محبوب ہیں بہ نسبت اسکے کے جو نوافل تو سو ہوں… پر نہ تعقل ہو… نہ تفکر ہو… نہ رجوع قلب وروح ہو…
نہ ویام کے تقاضوں سے واقفیت ہو… نہ سجود کی لطافتوں سے آشنائی…. نہ رکوع میں ہونے کی وجہ معلوم ہو…. سو ہر زکر ایک پیغام سے جڑا ہے….. جسکو سمجھے بنا…. زکر کا حق ادا نہیں ہو سکتا…. کہ روح کے بنا جسم کتنا بھی حسین ہو… وہ مردہ ہی کہلائے گا… بوجھ ہی محسوس ہو گا…. سو عبادت روح کیساتھ ہوگی… بصیرت کیساتھ یوگی تو لطف بھی… ویسا ہی ہو گا…. کہ عبادت آگہی ہے…اور
خود شناسی…. سےخدا شناسی… کا سفرہے …اور اس بیچ رجوع قلب و روح سے زکر… اور تفکر… اپنی زات پہ…
علم سے سکون کا زخیرہ نصیب ہوتا ہے…. ‘سرور، اطمینان اور رجا کی کفیت علم و آگہی سے میسر آتی ہے….
بے سکونی الجھاو، اور خود کی بیماریوں کے سبب پیدا ہونے والا احساس ہے… اور آگہی اسکا علاج مخلصانہ کوشش، نیت و ریاضت کیساتھ…
دوسری چیز جو ….
سکون دینے میں اہمییت کی حامل ہے….
کہ جو بھی خود کے لیے چاہتے ہیں…. اسے دینا شروع کر دیجیے… شہنشاہوں کیطرح… بادشاہوں کیطرح یعنی ظرف کی بلندی کیساتھ….
محبت دیجیے… مسکراہٹ دیجیے… کسی کا درد سن. لیجیے… کسی کے انسو صاف کر دیجیے….
اور پتہ ہے راز کی بات…..
سکون فقیروں کیساتھ بیٹھنے میں ہے…. کسی سادہ لوح فقیر، مسکین، سفید پوش کے ساتھ کچھ وقت بتاییے….
بس خاموشی سے انکا مشاہدہ کیججے… انکے ساتھ کچھ پل بیٹھ کر بس انہیں سن لیجیے…. اور انکی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے بنا…. انکے ساتھ مل بی[ھ کر کھانا کھاییے… پھر دیکھیے…. سکون ہے کے نہیں….
پتہ ہے ہر زکر صرف زبان سے جاری نہیں ہوتا…. اصل روح زکر…. یہی ہے… کہ تم فقیر، مسکین، سادہ لوح کیساتھ اسکے جیسے بن کر اسکے درد کو اپنی روح پہ کشید کرو…. سچ میں اپنا درد پریا محسوس ہونے لگے گا…. روح پہ توضع و انکساری و فداکاری کا جو در کھلے گا… اسکی تڑپ کبھی تمہیں جمود کا شکار نہییں ہونے دے گی…..
سکون عملی زکر رب میں ہے اور عملی زکر وجود کی گہرائیوں سے…. تواضع انکساری، ایثار و فداکاری کا احساس ہے….
اصلی زکر اپنی زات کے اس فقیر کو خود میں ایجادکرنا ہے کہ جسکی ایجاد کو خود میں پیدا کرنا تو دور کی بات ہم سوچ بھی نہیں پاتے…
کبھی غریب کہ جھونپڑی میں بیٹھنا… کسیمزدور کے کرب کو سہلانا..
کسی محنت کش کیساتھ کچھ پل کوچلتے ہوئے اسکا درد بانٹ لینا…. کسی بھوکے معصوم بچے کی نگاہوں سے اسکے خواب پڑھکر اسکو زندگی کی نوید غیر محسوس طریقے سے دے دینا….
سکون اس میں ہے… اور یہی روح عبادت و زکر الہی ہے….
کہ تم عبد خدا ہو جاو…. کہ تم مٹی بن جاو اور اس مٹی میں زکر کے بیج ایسے دفن کرو کے گلستانِ حیات جاوداں جنم لے….
تم جمود نہیں تحریک بن کر اٹھ سکو…. تم ڈر کر بے ھدف نہیں… ایک زندہ ہستی ہونے کا مکمل اظہار کر پاو…. اسے کہتے ہیں…. زکر الہی سے دلوں کو چین ملنا…. سکون پانا….
سکون دینا ہے….. یعنک دینا ہی اصل پانا ہے…. اور پانا ہی اصل دینا اور یہی روح زکر رب…..!!!!!
فائزہ عباس













