سیاسی مسائل پر تبصرہ نہیں کرتے، مینڈیٹ معاشی مسائل تک محدود ہے: آئی ایم ایف کا عمران خان خط پر ردعمل

0
893

پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پیرز نے عمران خان کے خط پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف مقامی اور سیاسی مسائل پر تبصرہ نہیں کرتا۔

ایک بیان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پیرز نے کہا کہ آئی ایم ایف کو پی ٹی آئی کی جانب سے 28 فروری کو خط ملا یہ خط پاکستان کے قرض پروگرام سے متعلق ہے۔

ایسٹر پیرز نے کہا کہ آئی ایم ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا مینڈیٹ معاشی مسائل تک محدود ہے لہٰذا آئی ایم ایف مقامی اور سیاسی مسائل پر تبصرہ نہیں کرتا۔

نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ہماری انگیجمنٹ کا مقصد مالی استحکام ہے، ہمارا مقصد شہریوں کے فائدے کے لیے پائیدار اور جامع ترقی ہے، ہمارا مقصد مضبوط پالیسیوں کے نفاذ کی حمایت کرنا ہے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کو خط لکھا تھا جس کی تصدیق انہوں نے خود کی تھی۔

عمران خان نے خط میں آئندہ بیل آؤٹ پیکج کے وقت پاکستان کےسیاسی استحکام کو مدنظررکھنے کی درخواست کی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے عمران خان کے آئی ایم ایف کو لکھے جانے والے خط کو سائفر کے بعد ایک اور ملک دشمنی قرار دیا تھا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں اسٹینڈ بائی پروگرام کے دوسرے جائزے کیلئے نئی کابینہ کی تشکیل کےبعد اپنا مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز نے کہا ہے کہ فی الحال توجہ موجودہ اسٹینڈ بائی پروگرام کی تکمیل پر ہے، جو اپریل 2024 میں ختم ہو رہا ہے، پاکستان میں نئی کابینہ کی تشکیل کے فوراً بعد اسٹینڈ بائی کے دوسرے جائزے کیلئے مشن بھیجا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف معاشی استحکام یقینی بنانے کیلئے نئی حکومت کے ساتھ پالیسیوں پر کام کرنے کا منتظرہے۔

خیال رہے کہ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن سے اہم مذاکرات کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور وفاقی کابینہ کی تشکیل و حلف برداری کے فوری بعد واشنگٹن کے اس قرض دہندہ کو رسمی دعوت بھیج دی جائے گی۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ آئی ایم ایف بھی اسلام آباد سے رسمی دعوت کے حصول کا انتظار کر رہا ہے اور کابینہ کی تشکیل کے فوری بعد اس کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی ٹیم 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کے دوسرے جائزے کی تکمیل کیلئے مذاکرات شروع کرنے کی غرض سے پاکستان پہنچے گی جبکہ اسی دوران پاکستان نے 36 ماہ کیلئے توسیع شدہ فنڈ فیسیلیٹی کی تازہ ڈیل کیلئے درخواست بھی دے رکھی ہے۔

آئندہ کے ای ایف ایف (ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی) پروگرام کے حوالے سے ابھی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی حتمی صورت اختیار کر پائی ہے لیکن اسلام آباد ای ایف ایف کو مضبوط بنانے کے امکان پر غور کریگا تاکہ فنانس کا دائرہ کار 6 ارب ڈالر سے 8 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY