ریڈیو پاکستان ایک قومی اثاثہ ہے۔طارق اقبال

0
1439
تاریخ گواہ ہے کہ سماجی ، معاشرتی اور سیاسی شعور کی بیداری ، تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے میں ریڈیو پاکستان کا اہم کردار رہا ہے جب پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت تین ریڈیو اسٹیشنز ڈھاکہ، پشاور اور لاہور پاکستان کے حصے میں آئے اس کے بعد کراچی، راولپنڈی، حیدر آباد، کوئٹہ، ملتان اور اسلام آباد میں ریڈیو اسٹیشن قائم کیے گئے اس وقت پاکستان کے ان بڑے شہروں کراچی، پشاور، لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، حیدر آباد، خیر پور، ڈی آئی خان، لاڑکانہ، تربت، ایبٹ آباد، سبی، گلگت ، خضدار، اسکردہ ، ژوب، چترال، لورا لائی، میانوالی، سرگودھا ، مٹھی، کوہاٹ، بنوں، گوادر، سیالکوٹ، میر پور، مظفر آباد، سیالکوٹ اور بھٹ شاہ میں ریڈیو اسٹیشنز قائم ہیں جہاں سے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی ادبی، اخلاقی، زراعتی اور مختلف قسم کے ثقافتی پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں
پاکستان کا کوئی بھی ایسا کونہ نہیں ہے جہاں ریڈیو پاکستان کی نشریات نہ پہنچتی ہوں۔ 1965 ء اور 1971ء کی جنگ میں ریڈیو پاکستان کا کردار آج بھی ہمارے بزرگوں کے ذہنوں میں نقش ہے جب ریڈیو پاکستان نے دوسرے قومی اداروں کے شانہ بشانہ قدم بقدم ساتھ دیا۔ یہ وہ واحد ادارہ ہے جس نے ایسے فنکار، گلوکار، صحافی، نعت خوان، صدا کار، دانشور متعارف کروائے جنہوں نے پوری دینا میں نہ صرف اپنا بلکہ پاکستان کا نام روشن کیا یہ وہ ادارہ ہے جس نے قوم کی آبیاری میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔
ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے مختلف پروگرامز اور نشر ہونے والی خبروں کے ایک ایک لفظ پر توجہ کی جاتی ہے اور خیال رکھا جاتا ہے کہ ریڈیو کے پروگرامز سے کسی بھی مکتبہء فکر کی دل آزاری نہ ہو
طارق اقبال۔کویت
SHARE

LEAVE A REPLY