پنجاب ، خیبرپختونخوا میں الیکشن کرانے کا عدالتی فیصلہ اور مذید آڈیو وڈیوز لیکس کا شور

0
1068

انور عباس انور

پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کی تخلیل متعلقہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ جو متنازعہ ہو گیا ہے۔ماہرین قانون بھی تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ پانچ رکنی بنچ کے ہمخیال ججز کے حامی ماہرین قانون و آئین کی رائے ہے کہ اس پر حکومت پر عمل کرنا لازم ہو گیا ہے اور یہ فیصلہ بہت واضح ہے کہ حکومت نے ہر صورت 90 روز میں عین آئین پاکستان کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے عمل کو یقینی بنانا ہے۔

حکومت ، اسکے اتحادی اور ان کے حامیوں سمیت آزاد ماہرین قانون و آئین کی رائے مختلف ہے جس کا برملا اظہار وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کیا ہے وزیرقانون کی رائے میں تو 4-3 کا فیصلہ ہے تین معزز ججز نے پٹیشن منظور جبکہ چار معزز ججز نے پٹیشن کو مسترد کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پی ٹی آئی انکک ساتھ کھڑی ہے مافیا سے بلیک میل ہونےکی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ نے بدھ کی صبح پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے معاملے پر از خود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں صوبوں میں 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے طرفدار طبقہ کے مطابق عدالت کے اکثریتی فیصلے کے مطابق صدر کا پنجاب میں تاریخ دینا الیکشن ایکٹ کے تحت درست اقدام ہے اور الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر سے مشاورت کر کے انتخابات کی تاریخ تجویز کرے۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وہ بطور وکیل یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائی طور پر نو رکنی بنچ تشکیل دیا گیا تھا، جس سے دو ججز جسٹس اعجازالحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی نے رضاکارانہ طور پر خود کو علیحدہ کر لیا تھا جس کے بعد 23 فروری کو فیصلے میں دو ارکان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا اور آج مزید دو ججوں نے پٹیشن کو مسترد کیا اور تین نے قابل سماعت قرار دیا۔

وزیر قانون کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ
اٹارنی جنرل نے وزیرقانون کی درخواست پر فیصلے کی تشریح میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے میں یہ تشریح کی ہے کہ یہ نو رکنی بینچ کا فیصلہ تھا، جس میں سے دو ججز علیحدہ ہوئے جبکہ دو نے ان درخواستوں کے خلاف اپنی رائے دی ہے۔

وزیرِ قانون نےکہا وہ بطور وزیرقانون یہ کہتے ہیں کہ اکثریتی فیصلہ دائر کی جانے والی درخواستوں کے خلاف تھا لہٰذا اب حکومت کو نظر ثانی دائر کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔
چلتے چلتے خبر آ گئی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلہ کی وہ تشریح نہیں کی جو وفاقی حکومت کر رہی تھی جس کے باعث خود حکومت نے اس راہ کا انتخاب نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بظاہر تو بادی النظر میں انتخابات ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ اندرون خانہ چالیں چلی جچ رہی ہیں۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ ابھی مذید آڈیو اور وڈیو لیکس آنے کی منادی جا رہی ہے جن کے آنے سے ایک طوفان برپا ہونے کی توقع لگائی جا رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY