پاناما لیکس کیس: وزیراعظم کے تینوں بچوں نے جواب جمع کرادیئے

0
393

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی جس میں وزیراعظم کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم صفدر نے جواب داخل کرائے۔

وزیر اعظم کے بچوں کی جانب سے نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کے سامنے جواب پڑھ کر سنائے۔

چیف جسٹس نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ 15 نومبر تک دستاویزی شواہد پیش کریں جبکہ کیس کی سماعت بھی 15 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی کہ انہیں دستاویزی شواہد جمع کرانے کے لیے 15 روز کا وقت دیا جائے تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ ‘حکومت کے پاس تو پہلے ہی دستاویزی شواہد موجود ہیں، ہم کم سے کم وقت میں معاملے کو نمٹانا چاہتے ہیں۔’

چیف جسٹس نے کہا کہ پیشگی دستاویزی ثبوت طلب کرنے سے مجوزہ کمیشن کو کم سے کم وقت میں فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی، اس معاملے کو عام کیس کی طرح سنا تو مقدمہ سالوں چلے گا۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ وہ اپنی رائے بتائیں کہ کیا معاملے پر کمیشن تشکیل دیا جائے یا نہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کمیشن کی بجائے دستاویزات منگوا کر جائزہ لیا جائے؟ان کا کہنا تھا ‘ہم نہیں چاہتے کہ تاخیر ہمارے کھاتے میں آئے، مناسب وقت نہ دیا تو کل کہا جائے گا کہ کمیشن نے وقت نہیں دیا۔’

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ملکی صورتحال میں اداروں پر بداعتمادی بڑھ گئی ہے اور نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو برائی نظر ہی نہیں آتی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ دیا وہ پھر بھی عہدے پر برقرار رہے، عدالت نے بعد میں حکم دیا کہ آپ وزیراعظم نہیں رہے،ہم کلین چٹ بھی دے سکتے ہیں اور مخالف فیصلہ بھی آ سکتا ہے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ آیا تو وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ وہ عہدے پر نہیں رہیں گے۔

وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے حسن، حسین اور مریم کے جوابات عدالت کے سامنے پیش کیے۔

سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز اپنا ٹیکس ریٹرن ادا کرتی ہیں، انہوں نے کسی بھی متذکرہ پراپرٹی کی قیمت ادا نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ مریم نواز نیلسن اور نیسکول کمپنی کی ٹرسٹی ہیں اور انہوں نے یہ الزام مسترد کیا ہے کہ وہ کسی آف شور کمپنی کی مالک ہیں۔

حسین نواز نے اپنے جواب میں موقف اپنایا کہ وہ 16 سال سے بیرون ملک قانون کے مطابق کام کررہے ہیں، جنوری 2005 سے قبل متذکرہ جائیدادیں ان کی نہیں تھیں۔

سلمان اسلم بٹ نے بتایا کہ حسن اور حسین نے عمران خان کی درخواست میں لگائے گئے تمام الزامات مسترد کردیئے۔

اس موقع پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے سلمان اسلم بٹ سے استفسار کیا کہ آپ نے جواب کے ساتھ تفصیلات کیوں فراہم نہیں کیں جس پر انہوں نے کہا کہ وقت مختصر تھا البتہ مجوزہ کمیشن میں تمام دستاویزات فراہم کریں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اسلم بٹ سے پوچھا کہ ٹرسٹی کا کام کیا ہوتا ہے؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ ٹرسٹی کا کام اپنی خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ خریداری قانون کے مطابق تھی، عدالت کو مطمئن کریں قانون کے مطابق رقم بیرون ملک منتقل کی گئی، آپ عدالت کو مطمئن کریں اور سکون سے گھر چلے جائیں۔

سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ ’ہم نے بھی اسی معاملے پر درخواست سپریم کورٹ میں دائر کررکھی ہے، آپ سے استدعا کی تھی کہ یہ درخواست اسی بینچ میں منسلک کی جائے۔’

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر مناسب ہوا تو درخواست کو اسی بینچ میں لگائیں گے۔

واضح رہے کہ حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے اور اکرم شیخ حنیف عباسی کے وکیل ہیں۔

اس موقع پر درخواست گزار طارق اسد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ کیس عمران خان اور نواز شریف کے خلاف ہے۔

چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ کتنے لوگ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جن کے نام اسکینڈل میں آئے ہیں؟ جس پر طارق اسد نے کہا کہ 400 کے قریب کمپنیاں اور لوگوں کے نام پاناما لیکس میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 800 لوگوں کے خلاف تحقیقات ہوں تو یہ کام کئی سال چلے گا، حاکم وقت کا معاملہ دوسروں سے الگ ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شرکت کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور دیگر فریقین عدالت عظمیٰ پہنچے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

پی ٹی آئی نے ڈاکٹر بابر اعوان کو بھی اپنے وکلاء کی ٹیم میں شامل کر لیا ہے اور وہ پاناما کیس میں پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دلائل دیں گے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم خود کو احتساب کے لیے پیش کرچکے ہیں۔

اس موقع پر ن لیگ کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف سڑکوں پر عدالت لگانے کی بہت شوقین ہے،پی ٹی آئی سے گزارش ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی عدالت لگائے۔

ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پہلے نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں پر نشانہ بنایا گیا اب اب سی پیک پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس کے پاس ثبوت ہے وہ بات کرے، نواز شریف کو مائنس کرنے کی باتیں کرنے والے مسترد ہوچکے ہیں۔

قبل ازیں 3 نومبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ کیا تھا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے ایک رکنی کمیشن قائم کیا جائے گا جو پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے انکشافات کی تحقیقات کرے گا۔

اس مجوزہ پاناما گیٹ کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کا جج کرے گا اور اسے سپریم کورٹ کے اختیار حاصل ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

گذشتہ ماہ 20 اکتوبر کو ان درخواستوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY