کھڑکی، جھروکا، دریچہ، ونڈو ، طاہرہ مسعود

1
3917

کھڑکی حضرت انسان کو ہمیشہ سے ہی مسحور کرتی آئی ہے۔ خواہ غریب کی کٹیا ہو یا امیر کا محل، کھڑکی ہردو میں لازماً ہوتی ہے کھڑکی کے ذریعےا نسان کمرے میں رہ کر بھی باہر کا نظارہ کرسکتا ہے۔ یہ کھڑکیاں، جھروکے، دریچے ہر کسی کی اپنی اوقات اور حیثیت کے مطابق ہی ہو اکرتے ہیں۔ یہی حال ان کےنظّارے کا ہے۔ اگر یہ کھڑکی امیر کی ہے تو کھلے مرغزاروں جیسا باغ ، درخت پھول پودے سمندر ندی ، دریا پہاڑ جھرنے دکھائی دے سکتے ہیں پائیں باغ اورا س میں نصب جھولے سومنگ پُول دیکھا جا سکتا ہے۔ گھر کے باغ میں لگے خوبصورت صوفے اور کاؤچ دیکھے جا سکتے ہیں۔ انسان جتنا امیر ہو مناظر تخلیق کر لیتا ہے۔ ان کے نظاروں میں پڑوسی ، نہیں آتے کیونکہ ان کے محلات کا حدود اربع بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور کھڑکی کے اندر کا منظر بھی جنت سے کم نہیں ہوتا۔

اگر یہ کھڑکی غریب کی ہے توپڑوس میں جھانکنے یا لڑنے جھگڑنے کے کام آتی ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ اردگرد کے چند جھاڑ جھنکار یا اڑوس پڑوس نظر آجاتے ہیں۔ نیز اس سے سورج کی روشنی اور تازہ ہوا کے علاوہ مکھیّ مچھر اور چور بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ پول پر اٹکی پھٹی ہوئی پتنگ اور اس کی ڈور یا پڑوس کی رسی پہ لٹکے لہلہاتے کپڑے دکھائی دے سکتے ہیں۔ کام سے اکتائی بھنّائی ہوئی پڑوسن نظرآ سکتی ہے۔ بھاگ دوڑ کرتے ادھم مچاتے قلابازیاں لگاتے بچے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کھڑکی کا ایک اور مصرف ایک الگ قسم کے ذہین انسانوں نے ڈھوند نکالا ہے وہ یہ کہ ا سکے ذریعے وہ چوری کر سکتے ہیں ۔

امیر ہویا غریب ہر دوکھڑکی سے باہر ہونےو الی برسات کا لطف لے سکتے ہیں ۔ غریب اسی وقت اس کا لطف لے سکتا ہے جب پیٹ بھرا اور چھت ٹپکتی نہ ہو۔ بعض زندہ دل لوگ شام کی چائے اس میں کھڑے ہو کر یا اس کے قریب کرسی پر بیٹھ کر پیتے ہیں۔شاعر لوگ کھڑکی جھروکے اور دریچے کےحوالے سے بہت کچھ کہہ گئے۔ بہت سے کہہ رہے ہیں اور بہت سےآنےو الے وقتوں میں کہیں گے۔
گفتگو ذات کی وہ کھڑکی ہے
ظرف کا جس سے پتہ لگتا ہے
عاشق لوگ بھی کھڑکی میں نہ جانے کیا دیکھ لیتے ہیں کہ دنیا کے سب کام دھندے بند کر کے آہیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ کھڑی سے چاند بھی نظر آسکتا ہے ۔ چاند بھی دو طرح کے ہوتے ہین ۔۔۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ

میرے سامنےو الی کھڑکی میں۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئے ؟

مگر یہ چاند اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے ا س لیے دل میں دکھڑا رہ جاتا ہے
عزیزانِ گرامی! یہ کھڑکی انسان کے لیے زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی بہت اہم ہے۔۔ بچپن میں مائیں بچوں کو بتاتی تھیں کہ ان کا منّا بھائی اس کھڑکی کےراستےہی سے ان کی گود میں آیا تھا۔۔ یہی معلومات ہم معصوموں کی تھی۔ جب ہمیں نوزائیدہ بھائی کو گود میں ا س ڈر سے نہ دیا جاتا کہ ہم گرا دیں گے تو ہم جل بھن کر اسی کھڑکی کے نیچے ہاتھ پھیلا کر بیٹھ جاتے اور ایک عدداور بھائی کے ٹپکنے کی دعا اورانتظار کرتے رہتے۔۔۔ پھر ہمیں بتایا گیا کہ یہ دعا صبح تڑکے قبول ہوتی ہے ۔ جس کا کرنا ہمارے بس میں نہ تھا کہ ہماری آ نکھ تو سورج مہاراج کی آنکھ کھلنے بعد ہی کھلتی تھی۔ تب سوچا اسی لیے بچوں کے پاس کاکے نہیں ہوتے!!! ۔ وہ بے چارےصبح سویرے جو نہیں اٹھتے۔ہممم یہ بات!!!!!!
انسان کے لیے کھڑکی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سےبھی ہوتا ہے کہ یہ مرنے کے بعد اور اہم ہو جاتی ہے۔۔ کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد عالم برزخ میں محشر سے پہلے قبر میں بھی کھڑکی کھلے گی۔ اگر انسان جنتی ہو گا تو جنت کی کھڑکی۔ جس سے تازہ ہوا آئے گی۔ اور جنت کے نظّارے نظرآ ئیں گے۔ جہنمی ہے تو دوزخ کی آگی لپٹیں اور تپش اور جہنمی خوفناک نظّارے۔ انسان کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس رستے کا مسافر ہے۔
اللہ کی پناہ۔۔۔ میں نماز پڑھ لوں باقی بعدمیں۔۔۔
جی آگئی و اپس۔۔۔آج کل ایک اور کھڑکی ہے جو چھوٹوں بڑوں کو یکساں مقبول ہے اور ہرایک کو پاگل بنائے ہوئے ہے۔ جی ہاں صحیح سمجھے وہ ہے کمپیوٹر کی کھڑکی۔۔۔۔ یہ بھی وہ کھڑکی ہے جسے چاہو تو گمراہی کی بنالو یا رہنمائی کی۔ یعنی چاہو تو جنت کی بنا لو یا جہنم کی۔ یہ آپ کے ظرف اور اس کے استعمال پہ موقوف ہے۔
واااہ یہ کھڑکی۔۔ آاااااہ یہ کھڑکی۔۔
طاہرہ مسعود، کینیڈا

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY