حامد انصاری کے ہاتھوں سعید نقوی کی کتاب ’’وطن میں غیر‘‘ کا اجراء
نئی دہلی: معروف صحافی سعید نقوی کی انگریزی کتاب کے اردو اور ہندی ترجمے ’’وطن میں غیر: ہندوستانی مسلمان‘‘ کا اجراء جمعہ کی شام کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں سابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے کیا۔اجراء میں مصنف کتاب سعید نقوی کے ساتھ معروف اردو صحافی سہیل انجم، معروف ہندی صحافی اوم تھانوی کنسلٹنگ ایڈیٹر راجستھان پتریکا، انڈین اکسپریس کے اسو سی ایٹ ایڈیٹر امریت لال شریک ہوئے اور اظہار خیال کیا۔
اس موقع پر کتاب کے ناشر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں نے ۱۸۵۷ کے بعد سے ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی نافذ کرکے ہندؤوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بد ظن کرنے کا جو کام شروع کیا تھا، اسے بعد میں خود ہمارے درمیان ہی کچھ لوگ اور تنظیمیں کرنے لگیں اور اس کا ان کو خوب سیاسی فائدہ بھی ملا اور اب یہ ہماری سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔یہ کتاب اسی کسک کے بارے میں مصنف کی آپ بیتی بھی ہے اور آزادی سے لیکر اب تک ملک کی کہانی بھی۔ مصنف قلم کے بادشاہ ہیں اور ان کو کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر اپنی بات کہنی آتی ہے۔ یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ہم اس اہم دستاویز کا اردو اور ہندی ایڈیشن شائع کررہے ہیں۔ہم نے کوشش کی ہے کہ کتاب کی چاشنی اردو میں بھی برقرار رہے۔ہم کہا ں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ ناقد حضرات اور ہمارے قارئین 157 کریں گے۔
سعید نقوی نے کتاب اور اپنی سرگزشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ انہوں نے ذاتی طور سے بہت کامیاب زندگی گزاری لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ایسے واقعات پیش آئے جو تشویش کا باعث تھے۔ مثلاً ۱۹۶۰ میں جب وہ دہلی میں انڈین اکسپریس میں کام کرنے آئے تو انہیں گھر نہیں مل رہا تھا تو کلدیپ نیر نے کہا کہ ایسے کیسے ہوگا اور انہوں نے مدد کرکے گھر دلایا۔ لیکن گھر نہ دینے والوں اور گھر دلانے پر بضد لوگوں کے درمیان تناسب مسلسل کم ہوتا چلا گیا جو بتا رہا تھا کہ مسلمانوں کو دھیرے دھیرے اپنے ہی وطن میں ’’غیر ‘‘ بنایا جارہا تھا۔
مصنف نے کہا کہ ۱۹۸۰ سے حالات مزید خراب ہونا شروع ہوئے۔پچھلے ستر سالوں میں اب ہم یہاں تک پہنچے ہیں کہ ’’غیر‘‘ بنانے کا عمل کافی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان ایک ٹرائنگل (مثلث) میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور وہ ہے ہندو مسلم، ہندوستان پاکستان اور کشمیر کا مثلث۔ ان تینوں کو حل کئے بغیر مثلث کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔پاکستان سے اگر صلح ہوجائے تو ہندو ایشو ختم ہوجائے گا اور بہت سے لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں۔لیکن بہر حال مثلث کو حل کئے بغیر ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوسکتا ہے۔
سہیل انجم نے کہا کہ خود نوشت کے ساتھ ملک کے حالات کو مصنف نے اچھی طرح سے جوڑاہے۔ اور تقریباً تمام بڑے مسائل کا احاطہ کرلیا ہے جن میں اکثر سے مصنف کی ذاتی واقفیت ہے۔
اوم تھانوی نے کہا کہ کتاب میں کوئی ڈراؤنی بات نہیں ہے لیکن اس میں ایک ٹیس ضرور ہے۔ یہ پڑھنے کی کتاب ہے۔یہ خود نوشت کے ساتھ ملک تاریخ بھی ہے۔ ملک میں اور بھی سماج ہیں جن کو اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ اس زمانے میں بہت سے لوگوں نے اپنی سوانح عمریاں لکھی ہیں جن میں زیادہ تر اپنے بارے میں بات ہوتی ہے لیکن یہ کتاب اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا اس سب کے باوجود اچھے دن آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے خلاف زہر سو سال سے پھیلایا جارہا ہے۔ سماجوں میں جو بھید بھاؤ ہے، اسے زبان میں بھی داخل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کچھ ایسے الفاظ کا بھی ذکر کیا جو سنسکرت اور عربی فارسی ملا کر بنائے گئے ہیں جیسے ہنسی مذاق، شادی بیاہ وغیرہ۔
صحافی امرت لال نے کہا کہ کتاب شمالی ہندوستان کے تناظر میں لکھی گئی ہے جبکہ کیرالا اور بالعموم جنوبی ہند میں ایسے مسائل نہیں ہیں حالانکہ وہاں برصغیر میں سب سے پہلے اسلام آیا اور ملک کی قدیم ترین مسجد وہیں ہے۔ تقسیم کے حالات کا بھی جنوبی ہند پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے وہاں بھائی چارہ قائم ہے یہانتک کہ وہاں اب بھی مسلم لیگ قائم ہے ۔
حامد انصاری نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ملک میں دستور کے مطابق ۲۲ زبانیں اور سروے کے مطابق ۱۲۲ زبانیں ہیں لیکن اس لسٹ میں سے ایک زبان غائب ہے جس کا نام ہندوستانی ہے اور اس کا ذکر آئین میں ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد کی کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی میں پہلی تقریر کی زبان ’’ہندوستانی‘‘ درج ہے ۔حامد انصاری نے کہا کہ موجودہ کتاب کا عنوان تشویش ناک ہے۔ ’’غیر‘‘ کا مطلب سمجھنے کے لئے ۱۹۴۷ واپس جائیں جہاں سے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس وقت دروغ گوئی کی گئی کہ تقسیم کس نے کرائی۔ کچھ کہتے ہیں کہ پاکستان نے کرائی، انگریزوں نے کرائی لیکن ہم ماننے کو تیارنہیں ہیں کہ ہم نے بھی کرائی۔پٹیل نے آزادی سے چار روز پہلے تقریر کی کہ وہ تقسیم کے لئے راضی ہوگئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کو متحد رکھنے کے لئے اس کی تقسیم ضروری ہے‘‘۔یہ حقیقت ہے لیکن کسی کو ذمہ دار بنانا تھا تو مسلمانوں کو بنادیا گیا اور سب نے اس کو مان بھی لیا۔ انہوں نے کہا کہ ۸ ۲اگست ۱۹۴۷ کو کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی میں شیڈولڈ کاسٹ کو ہندو دھرم کا حصہ مان لیا گیا اور مسلمانوں کو اقلیت بنادیا گیا۔حسرت موہانی کھڑے ہوگئے اور کہا کہ میں نہیں مانتا کہ میں اقلیت ہوں۔ حامد انصاری نے کہا کہ آئین کے مبادی پر ۲۲ نومبر ۱۹۴۹ کو گفتگو ہورہی تھی تو اجیت پرشاد جین(کانگریس) نے کہا : ’’پاکستان کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے اب ہم کو آئین بنانے میں آسانی ہورہی ہے‘‘۔یوں لفظ مائنارٹی (اقلیت) ایجاد ہوگیا اور تخصیص بھی ہوگئی کہ اقلیت کون ہے۔ حامد انصاری نے مزید کہا کہ آباد ی کی تعداد شماری (census) کے مطابق ملک میں ۲۰ فیصد مذہبی اقلیتیں ہیں اور ان میں سے ۱۴ فیصد مسلمان ہیں، یوں ہر ساتواں ہندوستانی مسلمان ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیا اتنی بڑی تعداد کو ’’غیر‘‘ بنایا جاسکتا ہے اور اگر بنا دیا گیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟
پروگرام میں بڑی تعداد میں دہلی کے دانشور اور صحافی شریک ہوئے جن میں ایس وائی قریشی سابق چیف الیکشن کمشنر، عبدالخالق جنرل سکریٹری لوک جن شکتی پارٹی ، شاہد مہدی سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ، مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی، معروف وکیل محمود پراچہ، معروف حقوق انسانی کے کارکن اویس سلطان خان، سینئر کانگریس لیڈران منیش تیواری اور انیس درانی وغیرہ شامل تھے۔
اقلیتی کمیشن
سعید نقوی کی کتاب ’’وطن میں غیر‘‘ کا اجراء
1255
0













