نمائیندہ عالمی اخبار اسلام آباد
ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار پنشنرز کو مسلسل پنشن نہ ملنے کا مسلہ روز بروز سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے تو ایسے میں ریڈیو کی سنگدل انتظامیہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور ریڈیو پاکستان کے سربراہ طاہر حسن نے پنشن کے مسلے کو اپنی انا کا مسلہ بنا لیا ہے
ایسی صورت حال میں اسلام آباد میں موجود پنشنرز کی قیادت نے اپنی جدوجہد تیز کر دی ہے اور چودہ مارچ ۲۰۲۳ منگل کے روز پنشنرز کے دو وفود نے وزرات اطلاعات اور وفاقی محتسب میں حکام سے ملاقاتیں کر کے انہیں اس انسانی بحران سے آگاہ کیا
وزارت کی سیکرٹری شاہیرہ شاہد کی ہدایات پر پنشنرز کے پہلے وفد نے جائنٹ سیکرٹری ارشد منیر اور چیف فنانشل آفیسرمسٹر اسرارسے طویل اور جامع ملاقات کی اور من وعن پنشن، میڈیکل اور کیموٹیشن کے مسائل انکے سامنے رکھے، دونوں احباب بے مکمل ہمدردی سے یہ مسلے سنے اور انکے فوری حل کا یقین دلوایا اور یہ بھی کہا کہ اس وقت وزارت ریڈیو پاکستان کے مالی بحران کو حل کرنے کے لیئے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے
دوسری طرف چودہ مارچ منمگل کو ہی دوسرا وفد وفاقی محتسب کے دفتر گیا جہاں ریڈیو پاکستان کے پینشنرز کو فروری کی پینشن ابھی تک نہ ملنے کے کیس کی سماعت تھی
ایڈوائزر فاروق احمد خان نے کیس سنا۔پی بی سی کے پینشنرز کی خاصی تعداد وہاں موجود تھی
ایڈوائزر نے پی بی سی کے ڈی جی سے فون پر بات کرنے کے لئے اپنے پی ایس کو کہا پی ایس نے بتایا کہ وہاں ڈی جی میٹنگ میں مصروف ہیں اس پر ایڈوائزر نے اپنے موبائل پر ڈی جی سے بات کی اور کہا کہ آپ کے پینشنرز یہاں میرے آفس میں موجود ہیں اور ان میں سے کچھ آپنے آپ کو آگ بھی لگانا چاہتے ہیں کیا میں انہیں آپ کے دفتر میں بھیج دوں یا آپ پینشن ادا کریں گے
ڈی جی نے وعدہ کیا کہ جمعے تک پینشن ادا کر دی جائے گی
اس پر ایڈوائزر نے پینشنرز کے سامنے اپنا فیصلہ پی ایس کو لکھوایا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نے جمعے تک پینشن ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔۔پینشن نہ ملنے کی صورت میں پینشنرز جمعے کو دوبارہ میرے آفس آ سکتے ہیں














ظلمِ ناروا