اس سے پہلے کہ ہم حساب کے کٹہرے میں کھڑے یوں..فائزہ عباس

0
761

یہ زندگی… جو کبھی باتھ روم… کبھی گند کے ڈبے… کبھی بیگ میں بند… تو کبھی نالیوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوئی….

آج معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے… بہت زور کا طمانچہ….

لعنت کا طمانچہ…
بے حسی کا طمانچہ….

حیوانییت کا طمانچہ…
شہوت پرستی کا طمانچہ…

اس مردہ مرے ہوہے…. بوسیدہ اور متعفن زدہ معاشرے کے منہ پر لعنت بھیج رہی ہے یہ لاش…. جو کہ رہی ہے کہ تم اپنی شہوتوں پر ہر گز کنٹرول نہیں کر سکتے ہو لیکن مجھے قتل کر سکتے ہو…..
اس لیے کہ میں تمہارے گناہوں اور بد کاریوں پر آواز نہ بن جاوں….؟

اس لیے کہ مجھے تو سب حرام کا کہیں گے لیکن… تمہارا فعل حرام….

اسکو کوئی کچھ کہے گا….. یا نہیں…
تمہارے وجود کے اندر موجود شیطان… شہوت… اور لزت پرستی کا جو متعفن زدہ… بدبودار… غلیظ اور بدکار حیوان موجود ہے اس کا قتل ایسے ہی کسی گٹر، گندی نالی، کوڑے کے ڈھیر ہر پھینک کر کون کریگا آخر….

کون اس معاشرے کی روح میں پیوست صدیوں سے موجود آوارہ، بدکار، غلیظ حیوان کو انسان بنایے گا…..

کون ان معصوم جانوں کی موت کا زمہ دار بنے گا….؟

وہ نوجوان جو بدکاری کرنا تو بڑی آزادی سے جانتے ہیں… اور بہک جانے کو اسان سمجھتے ہیں اور سنبھلنے کو مشکل….
جو سارا سارا دن فاغ بیٹھکر پہلے انڈین… انگلش اور بییودہ ویڈیوز دیکھتے ہیں… پھر انکی انجام دہی کے طریقے اور پھر بھی بے چارے معصوم بن کر ایک طرف ہو جاتے ہیں….

یا وہ نیم برہنہ عورتیں جنہیں شاید خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ عورت… مرد کے لیے ایک جسمانی لزت کی بیکار چیز سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی جس کے استعمال کے بعد خود وہ اسکی جانب دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا…. یہ اوقات ایسے عورتوں نے اہنے لیے سوچی ہے….

یا وہ معاشرہ جہاں بچوں کی پاکیزگی کی حفاظت کے بجائے ڈگری کی حفاظت زیقدہ کی جاتی ہے اور 40 سے 30 کے بیچ تک جب ایک جوان زندگی کے بہترین سال ہر غلاظت کا استعمال کر کے خود کو برباد کر چکا یوتا یے تو شادی یاد آجاتی یے…. اور جییز، اعلی خاندان، حسن، مال و دولت والی بہو، ہیسے والی بہو کے انتخاب میں وقت الگ نکالا جاتاہے جسمکں… بچیاں رشتے نہ انے سے مایوس اور لڑکے چونکہ سب بنا شادی میسر ہے تو سر درد کیوں لیں کی روش پہ عمل کرتے ہوئے اپنی طہارت… پاکیزگی … کردار… سب گنوا چکے ہوتے ہیں… اور خود سوچ لیجیے ایسے مرد و عورت سے جو گھرانہ تشکیل پایے گا اس میں نسل کیسی ہو گی…. اور معارہ کیسا…..؟

ہم کب تک اپنی بیہودگی، ہوس پرستی، لزت پرستی، اندرونی گھٹن، کاہلی، سستی، بے مقصد زندگی کے جواز اپنی زات سے باہر تلاش کرتے رہینگے…

یہ سب صدیوں سے چلتا آرہا ہے تو کیا اب اسے مزید آگے ہج چلنے دیا جائے… بد کاریوں کے اڈے ہوں… بیہودہ فلمیں.. لٹریچر… آجکل کی بییوفگی پر مبنی فلمیں… یہ سب مانا کہ بہتات میں موجود ہیں… مگر….

یہ انتخاب کے دیکھنا اور کرنا اور چاہنا کیا ہے….یہ تو ہر انسان کا زاتی انتخاب ہے….

جب تم اسانی سے بہک سکتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ آسانی سے سنبھلنے کے لیے تمہیں لشکر درکار ہے….؟

آخر کب تک تم اپنی یوس ہرستی، بد کرداری … بے راہ روی کی زمہ داری دوسرے کے سر پہ ڈالکر خود کو بری الزمہ سمبھتے رہو گے…..؟؟؟؟

کبھی معصوم بچون، بچیوں، خواتین، لڑکیوں کی لاشیں کہیں تمہارے گناہ کی صورت معصوم بے گناہ بچوں کی لاشیں… اگر رب نے یہ سب عزاب تمہی پر الٹ دیا تو تم سمیت تمام نیکو کار… پریز گار… ہاکباز بھی اس میں ڈوب مرینگے…..

اگر یہ زمکن تم پر وہی آگ اگل دے جو تم نے اس ہر لگا رکھی یے تو یقین مانو تب توبہ واہسی اور بہتری کا وقت نہ رہیگا…. تب تم یہ حیلے پہانے نہ جرسکو گے کہ عورتوں کی پھیلائی فحاشی تھی…. یا کہ بلو پرنٹ موویز اور آن لائن غلازتیں خود انتخاب کر کے سر عام دیکھا کرتے تھے….

اپنی بدکار یوں کو لگام دو کہ قبل اس کے کے تمہارے سمیت سب کی لگام کجمھینچ لی جائے اور تم سب اسی آگ کے پہاڑ میں دفن کر دیے جاو کے جہاں سے پھر کبھی واپسی ممکن نہ ہو گی…..

لعنت ہے ایسے بیکار، بدکار، سست اور بے ہنت معاشرے ہر جس کے پاس خود کو پاک رکھنے کا انتظام تک نہیں…. اور نہ ہی جو چاہتا ہے کہ پاک خود رہے یا دوسرے رہییں کہ جہاں کے بچے، نوجوان، بوڑھے، عورتین، سبب شہوت پرستی کا شکار یوں ان میں نہ تو سوچنے کی قوت رہیمتی یے… نہ بدلنے کی قوت… اور اگر کوئی کچھ کہے تو اسکا مزاق اڑانا اور اسی کو برا اور بدکار سمجھنا ہم اولین فریضہ سمجھتے ہیں…..
آج ہم نہ بدلے تو رب کو حساب دور نہیں… آج ہر فرد معازرے کا زمہ دار ہے جو جلداور سادہ شادیوں کے لیے نددگار نہیں… جو روزگار اور تعلیم و ترببییت کے نراحل میں مددگار نہیں….

البتہ بدکاری اور ظلم کی سرپرستی مجں سب بڑھ چڑھکر حصہ لیتے ہیں… جو وجوہات ظلم کک ختم نہیں کرتے…

جو بھلائی نیکی اور اچھے کام میں نحیف لاغر اور کمزور ہیں… مگربے حیائی.. بدکاری… میں ہر طرءقہ کار سے آشنا… واہ رے جہالت و بے شعوری تجھے تو تیرے سب کام. معلوم ہیں…. بسشعور عقل اور طہارت ہی اندھی بہری گونگی ہے کہ ہاتھ پیر کٹے ہیں… اور مر چکی ہے یہاں تک کہ تاریخ مہں بھی اسکا نام نہیں….

اس بے حس مردہ نعاشرے کی جراتوں، تاویلوں، بہانہ سازیوں اور فریب کاریوں پہ لعنت ہے…. اور کیا کہوں کے ہر پل خون کے آنسو بہتے ہیں پر انکی ازیت مردہ روحوں، جسموں اور قلبون کو محسوس نہین ہو سکتی…..

آج ہر ایک حصہ دار ہے… اس سب ظلم کا…… ہر وہ ژخص جس نے عملی قدم نہیں ا[ھایا… بہتری کی کوشش نیں کی ہر ایک زمہ دار یے… رب کو اور ان معصوم لاشوں کو جواب دہ ہے کہ جنکا کوئی ١صور نہیں تھا لیکن سزا انکو ملی… وہ بھی اس قدر ظالمانہ کہ روح کانہ جائے…..

سوچیے… اس سے پہلے کہ وقت چھین لیا جائے اور ہم حساب کے کٹہرے میں کھڑے یوں….؛

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY