کھلتی ہوئی رنگت ،چھریرا بدن، دراز قد ، چہرے پر پُر اعتماد مسکراہٹ یہ تھی جواں سال بےنظیر
بھٹو کی سیاسی وارث ، جس نے اس وقت کامیابی سے پارٹی کی کمان سنبھالی جب وہ کم عمراور عملی سیاست کا کوئی تجربہ نہیں رکھتی تھیں، جبکہ اس کے سامنے ضیا الحق جیسا آمر تھا، مگر ہمت ایسی کہ تمام تر کوششوں کے باوجود جنرل ضیا پیپلز پارٹی کو ختم نہ کرسکا،
اور اسے بے نظیر کو ملک واپس آنے کی اجازت دینی پڑی ،
مجھے یاد ہے،
کہ 1986 میں بے نظیر بھٹو لاہور کے ایر پورٹ پر اتری تو ایک جم غفیر تھا جو ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب تھا، کچھ اندازوں اور اخبارات کی رپورٹ کے مطابق استقبال کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ سے دو لاکھ تھی، اور ہجوم سے آوازیں بلند ہو رہی تھیں تھیں بھٹو ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں، اور کیوں نہ ہوتیں یہ لاہور شہر ہی تو تھا جہاں پیپلز پارٹی نے جنم لیا تھا، اورپھر یہ بھی شہر لاہور ہی تو تھا جہاں سے پیپلز پارٹی کے قاید ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ دار کی جانب سفر شروع ہوا
بے نظیر کا ایسا شاندار استقبال ہوا کہ بین الاقوامی میڈیا نے اس خبر کو نمایاں سرخیوں کی ساتھ نشر اور ٹیلی کا سٹ کیا اور اخبارت نے شہ سرخیاں لگا ئیں،
ہمارے ریڈیو کے نیوز ڈائریکٹر صفدر احد (مرحوم) نے سیکرٹری انفارمیشن جنرل مجیب الرحمن صاحب کو قائل کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی کہ یہ بہت بڑی خبر ہے اس کا ٹوٹل بلیک آؤٹ مناسب نہیں ، مگر ریڈیو سے یہ خبر نشر کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ کیونکہ ریڈیو کی نشریات ملک کے دور دراز علاقوں تک سنی جاتی تھیں جبکہ ٹی وی کی نشریات اس وقت شہروں تک محدود تھیں، چنانچہ
ٹی وی پر خبر نامے کے بالکل آخر میں ایک چھوٹی سی خبر نشر کی گئی جس کا مقصد یہ فٹیج دکھانا تھا کہ محض چند سو افراد نے ان کا استقبال کیا
بقول حبیب جالب
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
بہر حال قصہ مختصر یہ نہتی لڑکی وزیر اعظم بن گئی۔
میں نے وزیر اعظم بے نظیر کو پہلی مرتبہ اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں
ایک محفل میلاد میں دور سے دیکھا، وہ ہماری میزبان تھیں مگر
سیکورٹی کے عملے نے انھیں ہمارے قریب نہیں آنے دیا تھا ، خاصاعجب سا لگا اس وقت تو دہشت گردی بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔
مجھے یاد آیا کہ چند برس قبل فن و ثقافت پر ہونے والی ایک کانفرنس میں جنرل ضیا کے عملےنے انکو صرف ہم سے ہی نہیں اور بھی شرکا سےملوایا تھا
عجب بات ہے کہ جو لیڈرعوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئیں ان کو ہی عوام سے دور رکھا جاتا ہے،
بہر حال بے نظیرسے پہلی با ضابطہ ملاقات لندن کے ایک پر تعیش علاقے میں ان کے سسر حاکم علی زرداری کے فلیٹ میں اس وقت ہوئی جب صرف دو برس بعد ہی اپنی حکومت کی بر طرفی کے بعد وہ لندن آئیں، اور میں ان سے انٹر ویو کرنے گئی،
ظاہر ہے وہ اس وقت ملک کے صدر اسحاق خان سے نالاں تھیں اور سیاست کے خار دار سفر سے عملی طور ہر واقف ہو چکی تھیں،
مگر مجھے ان میں حوصلےٹوٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے
بے نظیر سے میری تیسری ملاقات بی بی سی کے سٹوڈیوز میں اس وقت ہوئی جب جنرل مشرف نے نواز شریف کو گرفتار کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا
بے نظیر نے جنرل مشرف کے مارشل لا کی کھل کر مذمت کے بجائے محتاط رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ اور فوری انتخابات کا مطالبہ کیا ان کا ردعمل ہم سب کے لئے بہت اچنبھے کا باعث بنا کہ کیا بے نظیر پاکستان کی تاریخ سے واقف نہیں تھی،
بے نظیرکی سیاسی زندگی کوسمجھوتوں کی زنجیر میں لپٹا دھوپ چھاؤں کا ایسا سفر کہا جائے جس میں چھاؤں کے لمحات کم کم آئے تو ؑغلط نہیں ہوگا
مگر پھانسی پر چڑھائے جانے والے وزیر اعظم کی بیٹی ہونے کے ناطے اور خود دو مرتبہ خود وزیر اعظم رہنے
والی بے نظیر بھٹو سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ وہ ابھی تک سیاسی حکومتوں کے اطراف میں بنی سازشوں سے نہ آشنا ہوں
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بےنظیر اور نواز شریف فوج کے گٹھ جوڑ سے ایک دوسری کی حکومتیں گرا کر دراصل جمہوری نظام کی جڑیں کھوکھی کرتے رہے۔
لیکن وقت اور تجربہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے
دوہزار چھ میں لندن میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط سے جہاں دونوں رہنماؤں یعنی بے نظیر اور نواز شریف کے سیاسی طور پر مجیور ہونے کی نوید تھی تو ان حلقوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی جو سیاسی رہنماؤں کو با اعتماد اور خود مختار نہیں دیکھنا چاہتے
دو ہزار سات میں جب بے نظیر امریکہ کے توسط سے اسی آمر سے معاہدہ کر کے ملک لوٹی، جس نے ان کے پارٹی سربراہ رہنے کو قطعی طور خارج از امکان قرار دے دیا تھا، تو اس وقت یوں لگا کہ وہ بین الاقوامی سیاست میں گھرے پاکستان کے حالات و واقعات کی بھٹی میں جل کر ایک ایسی تجربہ کار سیاستدان بن چکی ہیں، جو ملک کے بہتر مستقبل کے لیئے ایک مضبوط رہنما ثابت ہونگی۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اگر بے نظیر بھٹو کو قتل نہ کیا جاتا تو کیا پاکستان کا سیاسی منظر نامہ یہ ہی ہوتا، جو اب ہے، مجھے یقین ہے مختلف ہوتا، بہتر ہوتا
زندہ بے نظیر کو سنبھالنا مشکل تھا اسی لئے تو انھیں ان کے والد کی طرح سیاسی بساط سے ہٹا دیا گیا ،












