ہر سال منایا جانے والا عالمی یوم خواتین بھی سب دنوں کی طرح چوبیس گھنٹے کا ایک دن ہی تو ہے۔ اتنے برس سے منائے جانے والے اس دن کی وجہ سے خواتین کے حالات میں کیا ایک فیصد بھی تبدیلی آئی ہے؟ یہ سوال ہم سب کو خود سے پوچھنا ہے اور یہ بھی سوچنا ہے کہ انفرادی طور پر ہم نے خود خواتین کے حالات کی بہتری کے لیئے کیا کیا ہے
باقی عالمی اور قومی دنوں کی طرح اس عالمی یوم نسواں پر بھی سیمینار ہوتے ہیں مقالے پڑھے جاتے ہیں ریڈیو ٹی وی خواتین کے مشاعرے کرتے ہیں کسی کسی جگہ کوئی اعزازات تقسیم ہو جاتے ہیں کھانے کھائے جاتے ہیں اللہ اللہ سب کا بھلا، لو جی عالمی یوم نسواں اختتام شُد
ٰایسے بیشتر پروگراموں میں مردوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے, کیوں؟ میں نے برسوں سے یہی دیکھا کہ خواتین کا مشاعرہ خواتین کا پروگرام۔۔۔۔ جب آپ خود خواتین کو الگ کر لیں گے تو پھر رونا کس لیئے
ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام نے جو عزت عورت کو دی ہے کسی نے نہیں دی۔ کسی بحث میں جائے بغیر ہم سب سوچیں کہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک میں عورت کس مقام پر ہے ہم اسکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور اسکو کتنی عزت دی جاتی ہے اس مردوں کے معاشرے میں؟
ہم صرف باتیں کرتے ہیں، میں بھی باتیں کر رہا ہوں














جب وہ جسمانی ساخت میں الگ ھے تو دن بھی الگ ھی منایا جانا چاھئیے۔ جب کبھی انسآنوں کا عالمی دن آیا تو پھر مل کر ملائیں گے۔