حضرت علی (رض) سے شکا یات کا با عث تقویٰ، حضور (ص) کا رد عمل

ہم گزشتہ قسط میں حضرت علی کے یمن کی طرف عا مل بنا کے بھیجے جا نے اور ان کے فضائل کے با رے میں با ت کر رہے تھے۔اور حضرت سعد بن (رض) ما لک بن شہید سے مروی ایک حدیث بیا ن کر رہے تھے ۔اسی سلسلہ کی ایک اور حدیث انہیں سے منسو ب ایک اور طریقہ سے بیا ن کی گئی ہے جو کہ ابن ِ اسحا ق (رح) نے بیان کی ہے وہ یہاں تحر یر کر تے ہیں کہ ہم سے حضرت ابان (رض) بن صالح اور ان سے حضرت عبد اللہ (رض) بن دینا ر اسلمی نے اور انہوں نے اپنے ما موں حضرت شا س اسلمی (رض) سے جو کہ اصحا ب حدیبیہ میں سے تھے فر ما تے سنا ،کہ“ میں ان سواروں میں شا مل تھا جو کہ حضرت علی (رض) کے سا تھ یمن گئے تھے ۔پس انہو ں نے مجھ سے بد سلو کی کی تو میرے دل میں ان کے با رے میں رنج تھا ،لہذاجب میں مدینہ پہنچا تو میں نے ہر محفل میں ان کی شکا یت کی ۔ایک رو ز میں آیا تو حضور (ص) مسجد میں تشریف فر ما تھے ۔جب آپ نے میری طر ف توجہ فر ما ئی تو میری آنکھیں حضور (ص) کی نگا ہو ں سے چا ر ہوئیں ( جن میں کچھ اجنبیت سی تھی ) پھر میں قریب جا کر بیٹھ گیا ، میں جب قریب بیٹھ گیا تو حضور (ص) نے فر ما یا ”اے عمرو بن شا س قسم خدا کی تو نے مجھے بڑی اذیت پہنچا ئی ہے ‘ ‘۔ میں نے کہا اناللہ وانا الیہ را جعون ہ میں رسول(ص) اللہ کو اذیت دینے سے اللہ تعا لیٰ اور اسلام کی پناہ ما نگتا ہوں ۔ آپ (ص) نے فر ما یا کہ ”جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی “۔ در اصل ان تما م شکا یتوں کا مآخذ یہ ہے اور جس کے با عث فو ج کا ایک بڑا حصہ ان سے نا راض ہو گیا،

وہ ان کا وہ اجتہا دی حکم تھا کہ صدقہ کے اونٹو ں پر سواری نہ کی جا ئے ۔کیو نکہ وہ بیت الما ل کا حصہ ہو نے کی وجہ سے عا م مسلما نو ں کی اما نت ہیں۔ جبکہ ان کی عدم مو جو دگی میں ان کے نا ئب نے اجا زت دیدی اور جب وہ حج سے واپس آئے ۔تو انہو ں نے ان سے سخت با ز پر س کی اور ان لو گوں سے بھی جو کہ اونٹوں کو سواری میں لا ئے تھے ۔ اس پر رو شنی اس حدیث سے پڑتی ہے جو ہم ذیل میں بیا ن کر رہے ہیں ۔جسے بیہقی (رح)اور امام بخا ری (رح) نے دو مختلف حوالوں سے بیا ن فرماتے ہیں کہ رسول (ص) اللہ نے حضرت علی (رض) کو یمن بھیجا توراوی حضرت ابو سعید (رض) بیان کر تے ہیں کے میں بھی ان کی معیت میں تھا اور جب آپ کوصد قہ کے اونٹ ملے، تو چو نکہ ہما رے اونٹ تھک گئے تھے لہذا ہم نے ان سے صدقہ کے اونٹ سواری کے لیئے ما نگے تا کہ ہم اپنے اونٹوں کو کچھ آرا م دے سکیں ،یہ حضرت علی (رض) نے نہیں ما نا اور فر ما یا کہ ان پر تمہا رابھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کہ عا م مسلما نو ں کا ہے۔ وہ آگے بیا ن فر ما تے ہیں کہ جب علی (رض) حضور (ص) کے سا تھ حج میں شر کت کر نے تشریف لے گئے تو ایک شخص کو ہم پر نا ئب مقرر فر ما گئے۔

اس نے ہما ری در خوا ست کو قبو ل کر لیا ۔ جب آپ حج سے فا رغ ہو گئے تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ”تم اپنے اصحا ب کی طر ف لو ٹ جا ؤ اور ان کی رہنما ئی کرو “ پس جب علی (رض) واپس تشریف لا ئے اور اونٹو ں پر سواری کے نشا نا ت دیکھے، تو اپنے نا ئب کو بلا کر ملا مت کی ( اور ان لو گوں کو بھی سرزنش کی جنہو ں نے اونٹوں پر سواری کی تھی )۔اس پر میں نے قسم کھائی کہ خدا قسم !مجھ پر یہ واجب ہے کہ جب میں مدینہ پہنچا تو رسول (ص)اللہ سے ( اس زیادتی ) کے با رے میں ضرور ذکر کرونگا ۔لہذا جب میں مدینہ پہنچا تو میں وہ با ت کہنے کے ارا دے سے رسول (ص) اللہ کی خدمت میں پہنچا ، پہلے میری ملا قات حضرت ابوبکر (رض) سے ہو ئی وہ رسو ل (ص) اللہ کے پا س سے نکل کر با ہر آرہے تھے ۔جب انہوں نے مجھے آتے دیکھا ، تو میرے پا س کھڑے ہو گئے اور مجھے خو ش آمدید کہا ۔اور ہم دو نوں میں (کچھ ) سوالا ت اور جوا با ت ہو ئے اس کے بعد وہ واپس اندر تشریف لے گئے، اور حضور (ص) سے عرض کیا کہ یہ سعد بن ما لک بن شہید ہیں آپ (ص) نے فر ما یا ”اسے اجا زت دو “ پس میں دا خل ہوا تو حضو ر (ص) مجھ سے حیا ءفر ما نے لگے اور میری طرف متوجہ ہو نے کے بعد بار با ر میرے اہل و عیا ل کے بارے میں در یا فت فر مانے لگے (جیسے کہ کچھ ) جاننا چا ہتے ہوں، میں نے عرض کیا کہ ( وہ تو خیریت سے ہیں )مگر یا رسول (ص) اللہ ہمیں علی (رض) کی بد سلو کی سے دکھ پہنچا ہے۔اس سے آگے حضور (ص) نے مجھے کچھ کہنے سے رو کدیا ،اور کہا کہ ً”اے سعد بن ما لک اپنے بھا ئی کی بر ائی کر نے سے رک جا “۔ اس سلسلہ میں اور بھی بہت سی روایا ت اور احا دیث ہیں جن کا ذکر خم ِ غدیر کے حضو ر (ص) کے قیام کے مو قعہ پر آئے گا ۔ لہذا انشا اللہ اس مو قعہ پر پو ری تفصیل سے با ت کر ینگے ۔فل الحا ل ہم ایک اور واقعہ کے طرف بڑھتے ہیں جو حضرت علی کرم االلہ وجہہ کے زما نہ یمن سے متعلق ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اما م بخاری (رح) نے تحریر کیا کہ قتیبہ نے ہم سے بیا ن کیا کہ عبد الوا حد نے ان سے بیان کیااور ان سے عما رہ (رض)بن قعقا ع بن شبر مہ سے بیا ن کیا کہ انہوں نے عبد الر حمٰن (رض) بن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے حضرت ابو سعید (رض) خدری کو فر ما تے سنا کہ حضرت علی (رض) نے اپنے قیام ِ یمن کے دورا ن ایک تحفہ حضو ر (ص) کی خد مت میں بھیجا جو ببو ل کی چھا ل میں رنگی ہو ئی کھا ل تھی، اور جس پر سو نا چڑھا ہوا تھا۔ جسے ابھی تک نکھا ر ابھی نہیں گیا تھا۔حضو ر (ص) نے حسب ِ سنت وہ چار آدمیوں میں جنکے نا م تھے : عینیہ بن بدر ،اقرع بن ہالیس زید الخلیل اور علقمہ بن علاثہ یا عا مر (رض) بن طفیلان کے درمیا ن تقسیم کر دیا ۔اس پروہاں مو جود لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں ان لو گوں سے زیا دہ حقدار ہوں۔

جب حضور (ص) با خبر ہو ئے تو انہوں ننے فر ما یا کہ کیا تم مجھے (ص) امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ کہ (زمیں تو زمین ) میں آسمان وا لوں میں بھی امین ہو ں،اور صبح و شام میرے (ص)پا س آسما نی خبر یں آتی ہیں ،وہ آگے بیا ن کر تے ہیں کہ ایک (شخص ) دھنسی ہو ئی آنکھو ں اور ابھرے ہو ئے رخصار ، ابھری ہو ئی پیشا نی اوردا ڑھی منڈا جو کہ اونچا تہبند با ند ھے ہو ئے تھا کھڑا ہو گیا،اور کہنے لگا یا رسول (ص)اللہ۔ اللہ سے ڈریئے ۔ آپ نے فر ما یا کہ میں کیا سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا نہیں ؟۔مگر وہ شخص پھر پیٹھ پھیر کر چلدیا ۔حضرت خا لد (رض) بن ولید نے کہا کہ یا رسول (ص) اللہ اگر آپ حکم دیں تو میں اس کو قتل کر دوں ؟ آپ (ص) نے فرمایا نہیں شا ید وہ نما ز پڑھتا ہو ۔ حضرت خا لد (رض) نے عرض کیا کہ کتنے ہی نما زی ہیں کہ وہ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں دل میں وہ نہیں ہو تا ۔ تو حضور (ص)نے فر ما یا کہ مجھے لو گوں کے دلوں کو ٹٹو لنے اور ان کے پیٹوں کے اندر جھا نکنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ پھر آپ (ص) نے اس شخص کی طر ف جو پیٹھ کیئے ہو ئے (جا رہا) تھا دیکھ کر فر ما یا ”اس کی نسل سے ایسے لوگ ہو نگے جو کتا ب اللہ کو بہت ہی عمدہ طر یقہ سے پڑھیں گے۔ اور وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اتریگی ۔یہ لو گ دین سے یو ں نکل جا ئیں گے جس طرح تیر کما ن سے۔ وہ آگے فر ما تے ہیں کہ شا ید حضو ر (ص) نے یہ بھی فر ما یا تھا، کہ اگر میں ان کو پا تا تو ثمود کی طرح قتل کر دیتا “ ( نو ٹ ۔یہ آخری جملہ چو نکہ”شا ید“ ًکے سا تھ ہے اس لیئے اگر اس کو پور ی حدیث کے تنا ظر میں دیکھا جا ئے تو مطا بقت نہیں رکھتا۔ کیو نکہ جیسے حدیث میں بیا ن ہو ا کہ یہ حضور (ص) کی شا ن ِ کر یمی سے ٹکرا تا ہے ۔ اگر ہم یہ اضا فہ نہ کر یں تو جو حدیث سے نص نکلتی ہے ،وہ ان لو گوں کی آنکھیں کھو لنے کے لیئے کا فی ہے ،جو با ت با ت پر ہر ایک کے اندر جھا نکتے پھر تے ہیں اور دن بھر کفر کی سندیں با نٹتے رہتے ہیں۔ اگر آخری جملہ کو ما ن لیا جا ئے تو پھران کوہر ایک کو قتل کرنے اور ان کے پیٹو ں میں جھا نکنے کی سند مل جا تی ہے ،جس عمل کی اس سلسلہ میں حضور (ص) کے اسوہ حسنہ سے سند نہیں ملتی کہ اس کو قتل کر نے کی اجازت نہیں دی کہ اس کے عمل سے تکفیر ثابت نہیں ہوئی۔ یہاں ہم ایک اور حدیث بیان کررہے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عدا لت کے سلسلہ میں رسول (ص) اللہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خاص دعا ؤں سے نوازاتھا۔اس کو ابن ِ ما جہ امام احمد ابو داؤد اور مسلم چاروں (رح)نے مختلف حوالوں کے سا تھ درج کیا ہے ،شا ید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ہر دور میں عدالت کے عہدے پر فا ئز رہے، اور ان کے اکثر فیصلوں کی حضور (ص) نے خو د بھی تصدیق فرما ئی ۔یہ خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زبا نی ہی بیان ہوئی لہذا وہ فر ما تے ہیں، کہ“ جب مجھے حضو ر (ص)نے یمن روانہ فر ما یاتو میں نے عرض کیا، حضور (ص) آپ مجھے ایسی جگہ بھیج رہے ہیں جہاں ان میں تنا زعا ت بھی ہونگے ،اور مجھے فیصلے بھی کر نے پڑیں گے جبکہ میں ابھی نو عمر ہو ں اور قضا ء کے مسا ئل کوا چھی طرح نہیں سمجھتا۔وہ آگے فر ما تے ہیں کہ یہ سن کر حضو ر(ص) نے میرے سینے پر ہاتھ رکھااور فر ما یا اللہ! اس کی زبان کو ثبا ت دے، اور اس کے دل کی رہنما ئی کر ۔اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ فر ما تے ہیں کہ مجھے حضو ر (ص) نے ہدایت فر ما ئی کہ اے علی جب تمہا رے پا س دو آدمی اپنا تنا زع لیکر بیٹھیں تو جب تک وہی با ت دو سرے آدمی سے نہ سن لو جو کہ پہلے سے سنی تھی اس وقت تک ان دو نو ں کے در میا ن فیصلہ نہ کر نا ۔اور جب تم ایسا کرو گے تو تم پر پو ری با ت واضح ہو جا ئیگی ۔حضرت علی کرم االلہ وجہہ“ فر ما تے ہیں اس کے بعد مجھے فیصلہ کر تے ہوئے کبھی دقت پیش نہیں آئی“ اس میں بھی جو سبق ہے وہ یہ ہے کہ ایک طر فہ با ت سن کر کو ئی را ئے قا ئم نہ کرو، اس میں بے انصا فی کا احتما ل ہے ۔ مگر کیا کیا جا ئے کہ آجکل پوری قوم اس بیما ری میں مبتلا ہے کہ مقدمہ کے عدا لت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی براءت کی قسم کھا لیتی ہے، صرف شر ط یہ ہے کہ آدمی اپنا ہو ۔کیا ہما رے زعما ءاس حدیث سے کو ئی سبق لیں گے ؟ (باقی آئندہ)

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY