طارق بٹ.. اس ایک مہینے کونہیں بھول سکتا

0
567

وہ ایک مہینہ… اس ایک مہینے کو بھولنا بھی چاہوں تو نہیں بھول سکتا کہ رب کائنات کی حسین و جمیل تخلیقات سے کٹ کر درویش کو اپنے گھر کے ایک کمرے میں بستر تک محدود ہو جانا پڑا تھا قصہ کچھ یوں ہے کہ 2011 دسمبر میں ناچیز گاڑی کے حادثے میں بائیں ٹانگ تڑوا بیٹھا سرجری کے بعد محترم سرجن ندیم کشمیری نے ٹانگ چھوٹی ہو جانے کے خدشے کے پیش نظر درویش کے پاوں کے ساتھ کوئی سات کلو گرام کے قریب وزن باندھ دیا اور احکامات صادر فرمائے کہ چار ہفتے تک بستر پر بالکل سیدھے لیٹنا ہے اٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا دائیں بائیں کروٹ لینے پر بھی سخت پابندی لگا دی گئی مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق سرجن صاحب کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کچھ یوں ممکن ہوا کہ نگہداشت کی تمام تر ذمہ داری زوجہ محترمہ کے کندھوں پر آن پڑی اور انہوں نے یہ ذمہ داری جس پیار محبت اور خلوص کے ساتھ نبھائی اس کی مثال شائید کم ہی ملے –
برطانیہ میں مقیم برادر خورد طاہر ہمت بڑھانے کے لئے تقریبا روزانہ ہی ٹیلی فون کرتے جب اسی کیفیت میں پندرہ بیس دن بیت گئے تو ایک دن کہنے لگے یار یہ بالکل سیدھا لیٹنا اور وہ بھی مسلسل ایک مہینہ ناممکنات میں سے ہے میں ہنس دیا تو بولے ہنسیں نہیں یقین کریں کل لیٹے لیٹے میں اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ بھائی جان ایک مہینہ بالکل سیدھے کیسے لیٹے رہیں گے خود تجربہ کرنے کی ٹھانی اور سیدھا لیٹ کر سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر نظر جما لی یقین کریں بہ مشکل میں دس منٹ سیدھا لیٹ پایا پھر میرے جسم نے مجھے کروٹ لینے پر مجبور کر دیا آپ نے بیس دن کیسے گزار لیئے جواب دیا کہ ناچیز اس قابل کہاں یہ سب تو میرے رب کی دی ہوئی ہمت ہے جس کی بدولت یہ ممکن ہو رہا ہے –
5 اگست سے مسلسل درویش کے سالوں پہلے مندمل ہوئے زخم بار بار ہرے ہو رہے ہیں درد کی ٹیسیں اس شدت کے ساتھ اٹھتی ہیں کہ چینخیں نکلنے لگتی ہیں اب تو ایک ماہ سے زائد ہو گیا کہ معصوم بچے، عفت مآب مائیں بہنیں اور بیٹیاں، دھرتی ماں کے شیر دل جوان اور آزادی وطن کے جذبے سے سرشار بزرگ گھروں میں قید ہیں طویل اور مسلسل کرفیو اور وادی کشمیر کے ہر دس افراد کی نگرانی پر معمور پیلٹ گن اور جدید اسلحہ سے لیس ایک بھارتی سورما سب کشمیریوں کو گھروں تک محدود رکھنے میں کوشاں ہیں مگر اتنی سختی اور جبر کے باوجود جب بھی موقع ملتا ہے بچے بوڑھے مائیں بہنیں بیٹیاں اور جوان گلیوں اور سڑکوں پر نمودار ہوتے ہیں اور آزادی وطن کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں بجا کہ انٹر نیٹ سروس کی معطلی ، ٹیلی فون لائنوں کی خاموشی ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بندش کے سبب یہ توانا آوازیں واضح سنائی نہیں دے رہیں اسی لئے تو ہماری ذمہ داری میں اضافہ ہو گیا ہے کہ اقوام عالم کے بند کانوں تک اس آواز کو پہنچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں کہ بابائے قوم کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ گردانتے تھے اور شہہ رگ کے بغیر زندگی ناممکن ہے-
حکومت وقت کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں موجود کشمیری اور پاکستانی عوام سوتے ہوئے ضمیروں کو جگانے کے لئے بھرپور احتجاج کر رہے ہیں فائدہ اس کا یہ ہوا کہ اب احتجاج کی اس تحریک میں دیگر اقوام کی شرکت ہونے لگی کچھ بین الاقوامی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نڈر اور بے باک صحافی تمام تر پابندیوں کے باوجود جیل کی صورت میں تبدیل مقبوضہ کشمیر کے اندر سے خبریں کھوج لائے اور حالات کی ابتری اور سنگینی سے اقوام عالم کو آگاہ کرنے لگے جس سے عالمی انصاف کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی آواز بھی بلند ہونے لگی مگر فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کے ساتھ قریبی اور دوستانہ مراسم رکھنے والے ممالک اسے مجبور کریں کہ وہ فی الفور مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری کرفیو کی پابندیوں کا خاتمہ کرے کہ اس سے وہ انسانی المیہ جنم لینے کا امکان ہے جس کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں-
ذرا تصور کریں کہ آپ کو ایک مہینے کے لئے آپ کے اپنے گھر میں قید کر دیا جائے باہر گلی محلے میں یونیفارم میں ملبوس بھیڑیے آپ کی نگرانی پر معمور ہوں جن کی ہوس ناک نظریں پاکیزہ صفت ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی چادروں کو چھیدتی دکھائی دیں معصوم بچے گلی میں کھیلنے کو ترسیں مگر سنگینوں کے سائے میں بھلا سوائے بربریت کے اور کون سا کھیل کھیلا جا سکتا ہے ننھے فرشتے دودھ کے ایک قطرے کے لئے بلک رہے ہوں مگر والدین مجبور اور بے بس کہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں بوڑھی ماں بیماری کے باعث شدید تکلیف میں مبتلا ہے اسپتال تو رہا ایک طرف کہ مہینے بھر سے بند پڑا ہے کسی کریانے کی دکان پر بھی درد کو دور کرنے والی دوا میسر نہیں کہ مہینے بھر سے دکانیں بھی تو بند ہیں بچے اسکول نہیں جا پا رہے کہ تعلیمی درسگاہوں کو بھی تالے لگا دیئے گئے اور تو اور مساجد سے بھی ” فلاح کی طرف آو ” کی آواز لگانے پر پابندی ہے پانچ وقت کی نماز تو کجا نماز جمعہ اور عید کی نماز تک ادا نہ کرنے دی گئی سنت ابراہیمی کی پیروی میں اس سال قربانی کا فریضہ بھی رہ گیا ان تمام اعمال کے لئے ظلم اور زیادتی کے الفاظ وہ حق ادا نہیں کرتے جو درویش کہنا چاہتا ہے اصل کیفیت تو وہی بیان کر سکتے ہیں جن پر بیت رہی ہے مگر ان تمام نامسائد حالات کے باوجود جب بھی موقع ملا یہ آواز کہیں نہ کہیں سے ضرور بلند ہوئی کہ ظالمو غاصبو اپنے مکروہ چہرے لے کر ہماری جنت سے نکل جاو –
یقین کامل ہے اس پار بھی اور اس پار بھی کہ اب وہ وقت دور نہیں جب جنت نظیر کشمیر کے مقدر کا فیصلہ عین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو گا کہ ایک لاکھ سے زائد جانوں کے نذرانے مادر وطن پر قربان کرنے والے کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت سے کسی صورت دستبردار ہونے کو تیار نہیں ظلم کی بٹھی میں تپ تپ کر انہوں نے اپنے ذہنوں اور جسموں کو کندن بنا لیا ہے بے حس اقوام عالم کو آج نہیں تو کل بھارت کو لگام ڈالنی ہی پڑے گی کہ کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں نے اب دیگر اقوام کے سوئے ہوئے ضمیر کو بھی کچوکے لگانے شروع کر دیئے ہیں اور یہ بیدار ہوتے ضمیر یک آواز اور یک جان ہو کر بھارتی ظلم و جارحیت کے راستے کی دیوار بنیں گے اور ایسا بہت جلد ہو گا جس طرح درویش نے تکلیف پر مبنی وہ ایک ماہ اللہ پاک کی عطاء کردہ ہمت سے گذار لیا تھا اور آج اپنی دونوں ٹانگوں پر عام انسان کی مانند چلنے کی قدرت رکھتا ہے بالکل اسی طرح قید و بند اور ظلم و استبداد پر مبنی طویل عرصہ کشمیری عوام نے بھی رب کائنات کی عطاء کردہ ہمت اور مدد سے گذار لیا ہے اب آزادی کے خوش گوار لمحات بس آیا ہی چاہتے ہیں…!

SHARE

LEAVE A REPLY