سچ کا اس پر اثر نہیں لگتا
قصہ اب مختصر نہیں لگتا
مجھ کو اپنوں نے مار ڈالا ہے
مجھ کو سانپوں سے ڈر نہیں لگتا
جو چھُپے رہتے مثلِ اژدر ہیں
اُن کا تو کوئی گھر نہیں لگتا
تلخ یادوں کو بھول جانا بھی
بھول جاؤں مگر نہیں لگتا
جس کو رہبر بنا لیا اس نے
مجھ کو وہ معتبر نہیں لگتا
اس کی فطرت میں حکمرانی ہے
اس کو تو رب سے ڈر نہیں لگتا
سلمٰی رضا سلمٰی













