آج ناشتے کی میز پر چھوٹے صاحبزادے نے بہت پیاری بات کی ۔کہنے لگے کہ امی بلا وجہ اتنی مشکل اُٹھا رہے ہیں ۔دیکھیں اسپتال میں کمرے بھی اپنی پسند کے لے رہے ہیں میڈیکل بورڈ بھی اُنکی پسند کا خرچہ سارا ہم اُٹھا رہے ہیں ،ان سب کا تو بڑا آسان نُسخہ ہے کیونکہ یہ سب ہی بیماریوں میں مبتلا ہیں کوئی دل کی،کوئی کمر کی ،کوئی گردوں کی اور اب تو دماغی تکلیفیں بھی منظرِ عام پر آرہی ہیں ۔جیسا کہ ماضی میں زرداری صاحب کو ہوئی تھی ۔ان سب کو ہی میڈیکل گراؤنڈ پر نا اہل کر دینا چاہئے ۔کہ بھائی جب آپ صحت مند ہی نہیں تو سیاست کیسے کرینگے ۔ہمیں اپنے صاحبزادے کی بات بہت اچھی لگی اور ہنسی بھی آئی کہ واقعئی یہ تو بہت ہی آسان بات ہے نہ ہلدی لگے گی نہ پھٹکری اور رنگ آئیگا چوکھا ۔اور ہمارے ٹیکس کا پیسہ جو ان کے عدالتوں سے لانے لے جانے ،اسپتالوں میں داخل کرنے اور علاج پر خرچ ہوگا اُس کی بھی بچت ہوگی ،اور ملک کی بھی جان چھوٹے گی ان معاملات سے جنہوں نے ہمیں سالوں سے گھیر رکھا ہے ۔بس خان صاحب ان سے پیسہ نکلوا لیں جو ہمارے بہت سے تجزیہ نگاروں کے نزدیک جان جو کھم کا کام ہے اگر یہ کارنامہ وزیرِ اعظم صاحب نے سر انجام دے دیا تو سمجھیں کہ ہم گنگا نہا جائینگے ۔اور مُدتوں یہ سال یاد رکھا جائیگا ۔
سعودی اسٹائل تو ہم اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے ملک میں بادشاہت نہیں ہے جمہوریت ہے جس کے جیم سے بھی ہمارے سابقہ حکمران نا واقف تھے مگر ہم جلد مقدمات نمٹا کر ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی کوشش تو کر سکتے ہیں بجائے ان کے نخرے اُٹھانے کے ۔ہم نے کسی ملک میں قومی ملزموں کی ایسی آؤ بھگت نہیں دیکھی جیسی اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں ۔ہم نے تو دنیا کے بیشتر ممالک میں دیکھا ہے کہ اگر کسی پر کرپشن کا الزام لگ جائے تو خود اُسکی پارٹی کے لوگ اُس سے ناراض ہو جاتے ہیں ۔اور اس کا ساتھ نہیں دیتے ۔مگر ہمارے ملک کا باوا آدم ہی نرالا کر دیا گیا ہے جو جتنا کرپٹ اور دھوکے باز ہے اتنا ہی محترم ٹہرتا ہے ۔ہم سب کو ہی متحد ہو کر ان باتوں پر آواز اُٹھانی چاہئے تاکہ ملک کی دولت لوٹی نہ جا سکے جب ہم نرم روئیہ رکھتے ہیں تو انجام ایسا ہی ہوتا ہے کہ سالوں انتظار کرتے رہو نہ کوئی پکڑ اجاتا ہے نہ کسی پر الزام ثابت ہوتا ہے ۔
مگر اس بات سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نیب کو نیب بنایا جائے جس طرح نیب اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوتی ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں لیکن جناب جاوید اقبال صاحب کیا کہینگے اس معاملے میں یہ ہمیں نہیں پتہ مگر جو کچھ نظرآرہا ہے وہ انتہائی تکلیف دِہ اور شرمندگی کا باعث ہے ۔یا تو کہہ دیں کہ ہم نے جو کچھ تحقیق کی تھی غلط تھی ۔یا پھر ڈٹ کر شواہد پیش کریں عوام سے اوراُن کے جزبات سے کھیلنا چھوڑیں ۔ان باتوں سے جس طرح نا اُمیدی پھیل رہی ہے وہ سب کے ہی لئے تکلیف دہ ہے ۔کیونکہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کوئی پکڑا جاتا ہے کہ نہیں مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزامات ہیں وہ ثابت کئے جاتے ہیں یا نہیں ۔اور اگر نہیں تو پھر واقعئی میڈیکل گراؤنڈ پر سب کو چھوڑ دیں اللہ اللہ خیر صلہ ،
سعودی فرمانروا تشریف لائے بڑی مدت بعد ملک میں کوئی ہل چل اور خوبصورتی دیکھنے کو ملی ۔جس طرح اُن کا استقبال ہو ا،تقریب بھی بڑی جاندار تھی جس میں دونوں ملکوں کے وفود نے ایک دوسرے سے معاہدے کئے ۔ ورنہ کچھ عرصے سے یہ سب باتیں نا پید تھیں ۔ ملک جس طرح دوسرے ممالک کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے وہ ایک خوش آئیند قدم ہے ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ یہ دوستیاں قائم رکھے ۔اور دشمنوں کی بری نظر سے ہمارے ملک کو بچائے رکھے آمین آج سعودی فرمانروا اپنا دورہ مکمل کر کے واپس تشریف لے گئے ہیں ۔اس دورے نے پاکستانیوں کو بہت سے اہم معاملات پر بات کرنے کے مواقعہ فراہم کئے جس میں سب سے بڑا مسئلہ اُن قیدیوں کا تھا جو وہاں کی جیلوں میں قید تھے ۔ہمیں بہت اچھا لگا جب ہمارے وزیرِاعظم نے اُن کے لئے آواز اُٹھائی اور اُسی گرم جوشی سے سعودی فرمانروا نے انہیں جواب دیا اور بہت سارے گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جو غریب کسی نہ کسی جرم میں وہاں قید تھے اُنکی رہائی کا مژدہ سنایا گیا ۔ہمیں اُمید ہے کہ ہمارے پاکستانی بھی اس بات کا ہمیشہ خٰال رکھینگے کہ وہاں کے قانون پر عمل کریں اور کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جو ملک کی شرمندگی اور خود اُن کی مشکل کا باعث بنے ۔
ایک خبر پڑھی کہ شاہ محمود قریشی نے قیمتی تحُفے جو سعودی عرب سے ملے تھے وہ قومی خزانے میں جمع کرا دئے ۔کاش ہمارے سارے وزراء ہی اس بات پر عمل کریں ۔مگر ہمیں ایک شکایت ہے اپنے میڈیا سے وہ ہر بات پر پروگرام کرتا ہے پہلے یہ کہا تھا ،اب یہ کہا ہے ،یہ غلطی ہے ،یہ کمزوری ہے ۔لیکن جب کبھی کوئی اچھی بات کی جاتی ہے اُسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی کہ دوسرے بھی اچھی صف میں کھڑے ہونے کی کوشش کریں بلکہ کھڑے ہوں ۔کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب اچھی باتوں کا چرچا ہوتا ہے اُنہیں پزیرائی ملتی ہے تو دوسرے بھی اُس اچھائی پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،سب کچھ کھا پی کر ہضم کرنے پر یقین نہیں رکھتے ۔اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ ایسی اچھی باتوں کو ضرور اُجا گر کرنا چاہئے تاکہ دوسرے بھی ان باتوں پر عمل کریں ۔اور ہم واقعئی ایک ایسی راہ پر گامزن ہوں جو برکت اور اچھائیوں سے پُر ہو ۔
بھارت میں دھشت گردی کا واقعہ ہوا اور حسبِ عادت سارا ملبہ فورا` پاکستان پر ڈال دیا گیا یہ بات اب شاید انڈیا اور اُس کے میڈیا کی عادت بن گئی ہے کہ بلا ثبوت ہمارے سر سب کچھ تھوپ دیتا ہے ۔اپنی کمزوریوں پر نظر نہیں کرتا ۔کشمیر میں جو کچھ کیا جارہا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اس لئے بلا ثبوت الزام لگانا کوئی دانشمندی نہیں ہے ۔ہم امن پسند قوم ہیں اور امن کی طرف گامزن ہیں ۔ہم کسی طرح کی بھی بد امنی کو نہ اچھا سمجھتے ہیں نہ اُس کی اجازت دیتے ہیں ،کیونکہ ہم خود اتنے سالوں سے دھشت گردی کو بھگت رہے ہیں ہم سے زیادہ دھشت گردی کے خلاف کون ہو گا ؟کیونکہ ہم نے اپنے ملک میں جس طرح کے حملے سہے ہیں کہ بچوں تک کو نہیں چھوڑا گیا ہم سے زیادہ شاید ہی کوئی دھشت گردی کے گرداب میں رہا ہو اس لئے ہم پر یہ الزام انتہائی مضحکہ خٰیز ہے ۔ہم تو خود اپنے ملک میں اس مشکل سے نمٹ رہے ہیں ہم کیسے ایسی کسی بھی بات میں ملوث ہو سکتے ہیں ۔دھشت گرد نہ کسی قوم کا ہوتا ہے نہ کسی ملک کا ہوتا ہے نہ کسی مزہب سے اُس کا تعلق ہوتا ہے وہ بس ظالم ہوتا ہے۔ہم ہر ظلم کی مزمت کرتے ہیں کہیں بھی ہو ۔
جنگ کوئی کھیل نہیں ہے یا ٹی وی ٹاک شو نہیں ہے کہ کچھ آپ چیخیں گے کچھ ہم یہ تناہی ہے جس کی طرف کسی کو بھی نہیں جانا چاہئے اور یہ بھی یاد رکھئے کہ آپ اگر میزائل داغیں گے تو یہاں سے پھول نہیں جائینگے بلکہ اُ سسے بھی سخت معاملہ ہوگا چوڑیاں کسی نے بھی نہیں پہنی ۔ بچہ بچہ نکل پڑے گا اور یہ بات آپ بہ خوبی جانتے ہیں اس لئے ایسی باتوں سے گریز کریں ۔اور ثبوت لائیں ۔
اللہ ہم سب کو ہی عافیت میں رکھے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے ہر کینہ پرور سے آمین
میڈیکل گراؤنڈ پر ناک آؤٹ !عالم آرا
795
0












