جرمنی نے روس اور ترکی کے درمیان شمالی شام میں مشترکہ فوجی نگرانی اور ترک سرحد کے قریب سے کُرد ملیشیا کو پیچھے دھکیلنے کے سمجھوتے پر نکتہ چینی کی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اسٹیفان زائبرٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اس بحران کے حل میں صرف روس اور ترکی کا ہی کردار نہیں بلکہ باقی ملکوں کا بھی اس میں شامل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو اپنی دہلیز پر رونما ہونے والے واقعات سے خود نمٹنا ہوگا کیونکہ ان واقعات کا براہ راست اثر یورپی یونین کے رکن ممالک پر پڑتا ہے۔ جرمنی نے شمالی شام میں روس اور ترکی کی مشترکہ نگرانی کے برعکس ایک بین الاقوامی سکیورٹی زون کے قیام کی اپنی تجویز پیش کر رکھی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY