نام نہاد قلم کار خلیل الرحمان قمر پر مستقل پابندی کی ضرورت۔ صفدر ھمدانی

0
1435

نجی ٹیلی وژن چینل جیو نے مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کیساتھ دوبارہ معاہدے کیلئے ان پر شرط رکھی ہے کہ وہ اپنے غیر مہذب بیان پر معافی مانگیں۔

یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن ابھی اس سے آگے بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ عورت کے خلاف مستقبل میں اٹھنے والے مزید بھیانک سیلاب اور طوفان کو روکا جا سکے۔ مجھے کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرنی کہ ماروی اور خلیل میں سے کون درست اور کون غلط ہے لیکن قلم کے نام پر بداخلاقی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرنے والے اس نام نہاد قلم کار اور بزعم خویش دانشور کی سخت مذمت کرنی ہے کہ جس نے ٹی وی پر بیٹھ کر ایک خاتون کو باقاعدہ گالیاں دیں اور حیرت ہے ٹاک شو کی اینکر نے ایک بار بھی اس بدتہذیب اور ادیبوں شاعروں کو رسوا کروانے والے ذہنی مریض کو منع تک نہ کیا اور اس پر مزید حیرت اس بات پر کہ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پمرا کو تا دم تحریر سانپ سونگھا ہوا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ یہ بدتہذیب انسان ہر ٹی وی چینل پر بیٹھ کر اپنا دفاع کررہا ہے اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہتا ہے کہ اس بداخلاقی پر معذرت بھی نہیں کرے گا۔ وطن عزیز میں پہلے ہی کیا تقسیم سماج میں کم تھی کہ اسے اب مزید تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے سماج باقاعدہ دو دھڑوں میں بٹ گیا ہے اور اس میں خواتین اور مرد سب شامل ہیں۔ ایک طبقہ اس ذہنی مریض کو نعوذ باللہ حُر قرار دے رہا ہے اور دوسرا طبقہ اسکو شیطان اور شیطان کی اولاد کہہ رہا ہے اور حیرت اس بات کی ہے کہ پڑھی لکھی خواتین بھی اس عقل کے اندھے کی حامی ہیں

یہ انسان شاعروں ادیبوں کے نام پر دھبہ ہے۔ شاعروں ادیبوں کو اسکی کھل کے مذمت کرنی چاہیئے۔ ایک انگریزی فلم کی چوری شدہ کہانی سے ڈرامہ لکھ کر وقتی شہرت پانے والے اس انسان کا دماغ جیسے تکبر سے بھر گیا ہے اور یہاں تک کہ وہ اقبال اور غالب کو بھی اپنے سامنے ہیچ سمجھتا ہے اور اس پر مُصر ہے کہ اس پر الہام ہوتا ہے۔

مجھے اس بات کا پُختہ یقین ہے کہ اسکی بنیادی تربیت میں خامی ہے اور بلاشبہ یہ گھر میں بھی اپنی ماں بہن بیٹی بیوی سے اسی لہجے اور زبان میں گفتگو کرتا ہو گا۔

حیرت ہے کسی سماجی دینی یا نسوانی تنظیم نے ابھی تک اسکے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا اور نہ ہی عدالت نے کوئی از خود نوٹس لیا ہے، نہ جانے کس چیز کا انتظار ہے۔ کیا ادارے چاہتے ہیں کہ ملک میں اس موضوع پر کُشت و خون ہو اور حکومت کی نااہلی چھپی رہے؟

ایسے میں جیو ٹیلی وژن چینل نے مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کیساتھ دوبارہ معاہدے کیلئے ان پر شرط رکھی ہے کہ وہ اپنے غیر مہذب بیان پر معافی مانگیں۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں نجی ٹیلی وژن انتظامیہ نے لکھا کہ خلیل الرحمان قمر کیساتھ چار ڈرامہ سیریل اور ایک فلم لکھنے کا کانٹریکٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ جب تک وہ اپنے غیر مہذب بیان پر معافی نہیں مانگتے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی۔

نجی ٹیلی وژن انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہر کسی کو آزادی اظہار رائے کا حق ہے لیکن اس میں دوسروں کی عزت نفس کا احساس اور خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیل الرحمان قمر نے ناصرف خاتون کیخلاف نازیبا زبان استعمال کی بلکہ وہ اس پر اپنی غلطی ماننے اور معافی مانگنے سے بھی انکاری ہیں۔ اگر وہ اپنے رویے پر قائم رہے تو ان کیساتھ کیا گیا معاہدہ معطل ہی رہے گا۔

ادھر دنیا نیوز کے پروگرام ’’نقطہ نظر‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ماروی سرمد نے کہا ہے کہ خلیل الرحمان قمر نے نازیبا الفاظ استعمال کیے، انھیں اس پر معافی مانگنا چاہیے۔ برداشت ختم ہونے پر میں نے انہیں شٹ اپ کہا تھا۔

میرے خیال میں حقوق نسواں کی تنظیموں کو۔۔۔ میرا جسم میری مرضی ۔۔۔ جیسے نعرے کے الفاظ تبدیل کرنے چاہئیں کہ سیکس سے بھرے اذہان میں اس نعرے کا مطلب صرف سیکس کے حوالے سے لیا جا رہا ہے۔ حیرانی ہے کہ اب عورت مارچ کے مقابل حیا مارچ کا بھی اعلان ہوا ہے گویا فریقین کو آمنے سامنے لا کر باقاعدہ لڑایا جائے، ایسے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا فیصلہ بھی قابل تعریف ہے جنہوں نے عورت مارچ پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا ہے

تُف بر تو اے خلیل الرحمان قمر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رحمان بھی قمر بھی بظاہر خلیل ہے
افسوس ہے کہ حامل عقل قلیل ہے

عورت سے گفتگو کا سلیقہ نہیں اسے
بدذہنیت کی اسکی یہی تو دلیل ہے

توہین ہے قلم کی لکھاری کہیں اسے
اہل قلم کے حلقے میں نفس ذلیل ہے

اس کے دماغ میں ہے تکبربھرا ہوا
شیطانیت کے باب میں یہ بے مثیل ہے

دانشوری کے نام پہ دھبہ کہیں اسے
انکار ہے مجھے کہ یہ میرا قبیل ہے

کیسے یہ نفسیات کا لاحق ہوا مَرَض
سچ تو یہ ہے کہ اسکی کہانی طویل ہے

تربیت اسکی کر نہ سکی ہو گی اسکی ماں
شیطان کا یہ دوست بدی کا وکیل ہے

تضحیک ہے ادب کی کہ اسکو کہیں ادیب
بدبخت کا دماغ تعفن کی جھیل ہے

شہرت کا بھوت عقل سے عاری بنا گیا
صفدر یہ بدزبانی میں ہاں خود کفیل ہے

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY